بانڈی دہشت گردی واقعہ میں ملوث حملہ آوروںنے فلپائن کے شہر داواؤ میں اپنے چار ہفتوں کے قیام کے دوران زیادہ تر وقت ایک ہوٹل میں گزارا اور عام طور پر ایک گھنٹے سے زیادہ باہر نہیں نکلے۔
ہوٹل کی کارکن جینیلین سیسن نے اسکائی نیوز کو بتایا کہ وہ جی وی ہوٹل میں ڈیوٹی پر تھیں جب نوید اور ساجد اکرم 1 نومبر کو چیک ان ہوئے۔
سیسن کے مطابق، انہوں نے ابتدا میں سات راتوں کے قیام کے لیے آن لائن بکنگ کی تھی، لیکن 8 نومبر کو انہوں نے ہوٹل عملے کو بتایا کہ وہ اپنا قیام ایک اور ہفتے کے لیے بڑھائیں گے اور نقد ادائیگی کی۔
باپ اور بیٹے نے اپنے قیام کو بار بار بڑھایا اور آخر کار 28 نومبر کو چیک آؤٹ کیا۔
بانڈی بیچ میں حنوکہ ایونٹ کے دوران ہونے والا فائرنگ واقعہ اس کے تقریباً دو ہفتے بعد، یعنی 14 دسمبر کو ہوا۔
پچا س سالہ ساجد بھارتی پاسپورٹ پر ملک میں داخل ہوا اور اس کا بیٹا، 24 سالہ نوید آسٹریلین پاسپورٹ پر۔
سیسن نے بتایا کہ قیام کے دوران دونوں زیادہ تر اپنے کمرے میں ہی رہتے تھے۔ وہ ایک چھوٹا، سادہ کمرہ تھا جس میں دو سنگل بیڈز اور ایک ٹی وی تھا۔
ان کا روزمرہ کا معمول ہوٹل کے اندر اور باہر جانے پر مشتمل تھا، اور سب سے زیادہ وقت جو انہوں نے باہر گزارا تقریباً ایک گھنٹہ تھا۔
نوید اکرم پر آسٹریلیا میں 59 الزامات، جن میں 15 قتل اور ایک دہشت گردی کا الزام شامل ہے، عائد کیا گیا ہے۔ ان کے والد کو حملے کے دوران پولیس نے گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔
ہوٹل ریسیپشنسٹ نے انکشاف کیا کہ فلپائن کی پولیس کے ٹاسک فورس داواؤ کے اہلکار بدھ کی دوپہر ہوٹل آئے اور ایک بھارتی شہری کے بارے میں پوچھا جو ممکنہ طور پر یہاں قیام کر چکا تھا۔
انہوں نے ایک تصویر دکھائی، جسے انہوں نے فوراً شناخت کیا کہ یہ دونوں مہمانوں میں سے ایک ہے۔اہلکاروں نے سی سی ٹی وی فوٹیج کی بھی درخواست کی، لیکن نومبر کی ریکارڈنگز خودکار طور پر حذف ہو چکی تھیں۔
پولیس کیا تحقیقات کر رہی ہے؟
پولیس میجر کیتھرین ڈیلا رے، ترجمان پولیس ریجنل آفس نے تصدیق کی کہ متعدد ایجنسیوں کی مشترکہ تحقیقات جاری ہیں تاکہ دونوں مشتبہ افراد کی حرکتوں کی تصدیق کی جا سکے۔
تحقیقات میں یہ معلوم کیا جائے گا کہ آیا وہ واقعی داواؤ پہنچے، کہاں قیام کیا، اور کس سے ملے، یا صرف شہر سے گزرے یا کہیں اور قیام کیا۔
فلپائن کا دہشت گردی سے تعلق
فلپائن میں حالیہ برسوں میں دہشت گردی میں کمی آئی ہے۔لیکن بہت سے اسلامی شدت پسند گروہ اب بھی دور دراز علاقوں میں سرگرم اور مسلح ہیں، اور کچھ غیر ملکی جنگجوؤں کو تربیت دینے کے لیے تیار ہیں جو جنوب مشرقی ایشیا کے اس ملک میں آتے رہے ہیں۔
داواؤ سٹی، منداناؤ جزیرے پر واقع ہے، جو تاریخی طور پر اسلامی جہادیوں کے لیے قابلِ عمل علاقہ رہا ہے۔
اہلکاروں نے ابھی تک اس بات کی تصدیق نہیں کی کہ مبینہ بانڈی گن مین داواؤ شہر سے باہر گئے یا نہیں۔
ایک فوجی ذریعے نے اسکائی نیوز کو بتایا کہ ممکن ہے کہ وہ ماراوی، لیناؤ ڈیل سور گئے ہوں۔فلپائن اور آسٹریلیا میں اب اس بات کی تحقیقات جاری ہیں کہ انہوں نے وہاں کیا کیا اور کس سے ملاقات کی۔





