اسلام آباد ( رئوف کلاسرا آفیشل ایکسکلوسِو رپورٹ )ڈی ایس پی عثمان گجر کے مبینہ طور پر اپنی بیوی اور بیٹی کو قتل کرنے کا کیس لاہور پولیس کی تاریخ میں مشکل مقدمات میں سے ایک بتایا جارہا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے ایک تو ملزم پولیس افسر ابھی ترقی پا کر ایس پی بن گیا تھا لہٰذا اس پر ہاتھ ڈالنا اتنا آسان نہ تھا۔ دوسرے اس کی ڈیپارٹمنٹ میں ایک افسر کے طور پر دہشت تھی کیونکہ ہتھ چھٹ اور ماتحتوں کو گالیاں دینے میں مشہور تھا۔ پھر پولیس کو علم تھا کہ اس نے اپنی بیوی بیٹی کے اغوا کا مقدمہ خوش درج کرا رکھا ہے بھلا وہ کیسے انہیں قتل کر سکتا ہے۔ لہٰذا کسی کا شک یا دھیان اس کی طرف نہیں جارہا تھا۔ تیسرے پولیس کو اپنے ریپوٹیشن کا بھی خطرہ تھا کہ اس سے پولیس بدنام ہوگی کہ افسر نے خود ہی بیوی اور بیٹی قتل کر دی تھی ۔
لیکن بتایا گیا ہے ایس پی راحیلہ اقبال نے جس طرح فرانزک کو سامنے رکھ کر تفتیش کی اور مشکل ثبوت اکھٹے کیے اس کے بعد یہ پرسرار گھتی سلجھنا شروع ہوئی۔راحیلہ اقبال اور نوید قریشی کی ٹیم نے اس پر کام کیا اور بعد میں ایس پی ماڈل ٹائون ڈاکٹر ایاز حسین بھی اس ٹیم میں شامل ہوئے اور مضبوط ڈی ایس پی کو ثبوتوں کی مدد سے بریک کیا گیا ۔ رات کے دو تین بجے ڈاکٹر ایاز ملزم کو ساتھ لے کر نکلے اور جہاں اس نے لاشیں پھینکی تھیں وہاں لے جا کر دو جگہوں کی نشاہدہی کرائی گئی۔
لاہور پولیس ذرائع کا کہنا ہے یہ ٹیم ورک تھا جس میں پہلے راحیلہ اقبال، نوید قریشی نے بہت کام کیا اور بعد میں ڈاکٹر ایاز حسین شامل ہوئے۔ لاہور پولیس میں ان تینوں افسران کے پروفینشل کام اور محنت کو سراہا جارہا ہے۔





