رپورٹ : شفیق لغاری
محکمہ آثارِ قدیمہ کے افسران کی عدم دلچسپی اور غفلت کے باعث ملک کے اہم آثارِ قدیمہ شدید عدم توجہی کا شکار ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔
سینیٹ کی قائمی کمیٹی کے اجلاس میں یہ بات سامنے آئی کہ محکمہ آثارِ قدیمہ کے افسران اسلام آباد کے علاقے شاہ اللہ دتہ میں بدھا سے منسوب قدیم آثار کے بارے میں مکمل طور پر لاعلم ہیں۔
اجلاس کے دوران چیئرپرسن کمیٹی سینیٹر نعیمہ احسان نے سوال اٹھایا کہ کیا محکمہ آثارِ قدیمہ کے پاس مہرگڑھ کے حوالے سے کوئی باقاعدہ دستاویزات موجود ہیں؟ اسی طرح انہوں نے یہ استفسار بھی کیا کہ مکران ڈویژن کے علاقے کیچ میں واقع میرِ قلات کا تقریباً 800 سال قدیم قلعہ آیا محکمہ آثارِ قدیمہ کے ریکارڈ میں شامل ہے یا نہیں۔
کمیٹی نے محکمہ آثارِ قدیمہ سے یہ بھی پوچھا کہ کیا ادارے کی کوئی سرکاری ویب سائٹ موجود ہے، جس پر حکام نے جواب دیا کہ ویب سائٹ ابھی تیاری کے مراحل میں ہے۔
فیڈرل آثارِ قدیمہ کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ 18ویں آئینی ترمیم کے بعد آثارِ قدیمہ سے متعلق تمام اختیارات اور ذمہ داریاں صوبوں کو منتقل ہو چکی ہیں۔ ان کے مطابق شاہ اللہ دتہ چونکہ صوبہ پنجاب میں واقع ہے، اس لیے اس کی ذمہ داری بھی صوبائی حکومت پر عائد ہوتی ہے۔
اس موقع پر سینیٹر بشریٰ انجم بٹ نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کیا اسلام آباد میں صرف اوور ہیڈ برج ہی باقی رہ گئے ہیں اور تاریخی ورثے کی کوئی اہمیت نہیں رہی؟
سینیٹرز نے اس امر پر زور دیا کہ محکمہ آثارِ قدیمہ کو عالمی سطح پر متعارف کرایا جائے اور قومی تاریخی ورثے کو چھپا کر رکھنے کے بجائے دنیا کے سامنے لایا جائے۔





