تحریر: امیر حمزہ
سلطنتِ عمان صرف ایک ملک نہیں بلکہ ایک عظیم تہذیب، ایک باوقار تاریخ اور ایک ایسی قوم کا نام ہے جس نے صدیوں تک اپنی حکمت، شجاعت، بحری قوت اور سیاسی بصیرت کے ذریعے دنیا میں منفرد مقام حاصل کیا۔
میں بحیثیت ایک پاکستانی، جو برسوں سے عمان میں مقیم ہے، پورے یقین کے ساتھ کہتا ہوں کہ عمان کو صرف جدید عمارتوں، پُرسکون شہروں یا خوشحال زندگی سے نہیں پہچانا جا سکتا، بلکہ اس قوم کی اصل طاقت اس کی تاریخ، غیرت، قربانیوں اور تہذیبی گہرائی میں پوشیدہ ہے۔
عمان وہ سرزمین ہے جس کی تاریخ پانچ ہزار سال پر محیط ہے۔ یہ ایک ایسی قوم ہے جس نے پہاڑوں کی سختی، سمندروں کی وسعت اور صحراؤں کی دشواریوں میں اپنی شخصیت تعمیر کی۔ عمانی قوم نرم مزاج ضرور ہے، لیکن کمزور ہرگز نہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو سمندر کے مزاج کو بھی سمجھتے ہیں اور پہاڑوں کی غیرت کو بھی۔
تاریخ گواہ ہے کہ سلطنت عمان بحری بیڑوں اور سمندری صنعت کی بنیاد رکھنے والی بڑی طاقتوں میں شمار ہوتی رہی ہے۔ عمان کی بحری قوت صرف خلیج تک محدود نہیں تھی بلکہ بحرِ ہند سے لے کر مشرقی افریقہ، زنجبار، ممباسا اور گوادر کے ساحلوں تک اس کے اثرات موجود تھے۔ عمانی جہاز سمندروں کے بادشاہ سمجھے جاتے تھے، اور ان کی بحری حکمت عملی نے انہیں ایک عظیم سمندری سلطنت میں تبدیل کر دیا تھا۔
یہ وہ قوم ہے جس نے پرتگالی استعمار جیسی بڑی طاقت کو شکست دی، اپنے ساحلوں اور بندرگاہوں کو آزاد کرایا، اور دنیا کو یہ پیغام دیا کہ عزت، استقلال اور آزادی کسی بھی قوم کی سب سے بڑی طاقت ہوتی ہے۔ عمانی سلطنت نے نہ صرف تجارت اور بحری راستوں پر اثرورسوخ قائم کیا بلکہ تہذیب، علم، رواداری اور اسلامی اقدار کو بھی مختلف خطوں تک پہنچایا۔
جب ہم عمان کی تاریخ کا مطالعہ کرتے ہیں تو امام مہلب بن ابی صفرہ الازدی جیسے عظیم سپہ سالار بھی سامنے آتے ہیں، جنہوں نے برصغیر اور دیگر خطوں میں اسلام کا پرچم بلند کیا۔ عمان ہمیشہ علم، قیادت، جرات اور حکمت کی سرزمین رہا ہے۔
آج بھی سلطنت عمان مشرقِ وسطیٰ میں امن، توازن اور مصالحت کی علامت سمجھی جاتی ہے۔ آبنائے ہرمز جیسے حساس عالمی راستے میں عمان کا کردار نہایت اہم ہے۔ دنیا جانتی ہے کہ اگر خطے میں کوئی ملک کشیدگی کم کرنے، مذاکرات کو فروغ دینے اور عالمی تجارت کے تحفظ کے لیے مخلصانہ کردار ادا کرتا ہے تو وہ عمان ہے۔
سلطانِ عمان، حضرت صاحبِ الجلال السلطان يثم بن طارق المعظم حفظہ اللہ، دانشمند قیادت، سیاسی بصیرت اور متوازن سفارتکاری کی علامت ہیں۔ عمان کی قیادت نے ہمیشہ اپنے عوام کو وقار، استحکام اور اتحاد کا راستہ دکھایا ہے۔
یہ سمجھنا ضروری ہے کہ امن پسندی کمزوری نہیں ہوتی۔ خاموشی خوف نہیں ہوتی۔ حکمت بے بسی نہیں ہوتی۔ عمانی قوم اپنی عزت، خودمختاری اور تاریخ پر کبھی سمجھوتہ نہیں کر سکتی۔
میں سمجھتا ہوں کہ عمان جیسے معتدل، باوقار اور تہذیبی لحاظ سے عظیم ملک کو دھمکیوں کی زبان میں مخاطب کرنا نہ دانشمندی ہے اور نہ ہی خطے کے استحکام کے حق میں۔ قومیں صرف عسکری طاقت سے نہیں بلکہ اپنی تاریخ، کردار، تہذیب اور غیرت سے عظیم بنتی ہیں، اور عمان انہی عظیم اقوام میں شامل ہے۔
اللہ تعالیٰ سلطنت عمان کو ہمیشہ امن، عزت، ترقی اور استحکام عطا فرمائے، اور اس عظیم سرزمین کو دنیا میں حکمت، اعتدال اور امن کی علامت بنائے رکھے
