• Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
ہفتہ, مئی 30, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
Rauf Klasra
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
No Result
View All Result
Rauf Klasra
No Result
View All Result
Home بلاگ

کپاس  سے تربوز تک، کسان کا معاشی قتل جاری

by ویب ڈیسک
مئی 30, 2026
in بلاگ
0
کپاس  سے تربوز تک، کسان کا معاشی قتل جاری
0
SHARES
6
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter


سمیر اسلیم کا بلاگ


ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھنے والا زراعت کا شعبہ حکومتی غفلت اور ناقص زرعی پالیسوں کے باعث شدید دباؤ اور زبوں حالی کا شکار ہے۔ ویسے تو ملک کا ہر شعبہ ہی زوال پزیر ہو رہا ہے، تاجر ، کسان، سرمایہ کار، تنخواہ دار طبقہ گویا ہر پاکستانی ایک اذیت سے دو چار ہے۔ چند روز قبل سوشل میڈیا پر ایک تربوز کے کسان کی دہائی سنی، اس کا کہنا تھا کہ 40 سال سے تربوز کا کام کررہا ہے مگر جتنا بُرا یہ سال ہے ایسا پہلے کبھی نہ دیکھا۔ بارڈر بند ہے، ٹھیلے لگانے کی اجازت نہیں ،جس کی وجہ سے تربوز کا ریٹ نہیں مل رہا جبکہ آئل کی قیمتوں نے ٹرانسپورٹ کے خرچے کو دو چند کر دیا ہے۔ گندم، کپاس، آلو اور  آم سمیت دیگر اناج و پھل اگانے والے کسان بھی اپنی بے بسی کا رونا رو رہے ہیں کہ کس طرح موجودہ نظام نے ان سے جینے کا حق بھی چھین لیا ہے۔ انھیں فصلوں کے مناسب دام سے دانستہ طور پر محروم رکھا جا رہا ہے۔ کپاس کی بیلٹ کو سیٹھوں کی شوگر ملز چلانے کیلئے تباہ کر دیا گیا۔ کپاس کی بحالی کے حوالے سے حکومتی اعلانات صرف اعلانات تک ہی رہے، الٹا پاکستان کے سب سے بڑے کپاس پیدا کرنے والے علاقے رحیم یار خان میں ایک اور شوگر مل کی منظوری دے دی گئی ہے۔ اب حالات اس نہج پر پہنچ گئے ہیں کہ کپاس کی ملکی پیداوار چار دہائیوں کی کم ترین سطح پر آ گئی ہے۔ مجبوراً مقامی ٹیکسٹائل ملوں نے نئے کاٹن جننگ سیزن کے آغاز سے پہلے ہی امریکہ اور برازیل سے بڑے پیمانے پر روئی کی درآمد شروع کر دی ہے۔ ملک میں روئی کا ذخیرہ تقریباً ختم ہونے سے جہاں ایک طرف ملک میں کپاس اور پھٹی کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے وہیں کپاس کی درآمد پر1.2 ارب ڈالر سے زائد قیمتی زرمبادلہ بھی خرچ ہو سکتا ہے۔ ایک زرعی ملک کی حالت یہ ہے کہ رواں مالی سال کے پہلے 9 ماہ میں صرف فوڈ امپورٹ بل 7 ارب ڈالر سے تجاوز کر گیا یے۔ انھوں نے اپنی نالائقیوں سے امپورٹ بل بڑھا کر ملک کو قرضوں کی دلدل میں دھکیل دیا گیا ہے۔

زرعی ماہرین کا کہنا ہے کہ کپاس کی  مقامی پیداوار 5 سے 5.5 ملین گانٹھوں کے درمیان رہنے کی توقع ہے جس کے نتیجے میں ملک کو اس سال 7 سے 7.5 ملین گانٹھوں کے درمیان کپاس امپورٹ کرنے کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ دوسری جانب عالمی سطح پر پاکستان کے کاٹن سیکٹر کی نمائندگی کرنے والے دو بڑے اداروں میں سے ایک کراچی کاٹن ایسوسی ایشن کو 12 دسمبر 2025 سے ملکیت کے مبینہ تنازعہ کی وجہ سے سیل کر کے ایف آئی اے کے حوالے کر دیا گیا، یوں عالمی منڈی میں پاکستان کی نمائندگی ہی نہیں رہی۔ کپاس کے ساتھ سوتیلے پن کا اندازہ اس بات سے لگا لیں کہ  سنٹرل کاٹن ریسرچ انسٹیٹیوٹ ملتان میں جو کبھی برصغیر کی پہلی وائرس سے پاک کپاس کی قسم تیار کرنے کے لیے مشہور تھا،اب اس 15 ایکٹر قیمتی اراضی پر جم خانہ کلب تعمیر کرنے کا فیصلہ ہو گیا ہے۔ جب حکومتی ترجیحات کا یہ عالم ہو تو زراعت یا ٹیکسٹائل سمیت دیگر شعبوں میں اصلاحات اور بہتری کی امید کیسے رکھی جائے۔ اسی پر اکتفا نہیں گزشتہ دو سالوں میں عوام سے پیٹرولیم لیوی کی مد میں 2725 ارب روپے وصول کئے گئے ہیں۔ ابھی تو نئے بجٹ کی آمد آمد ہے اور اخباری اطلاعات کے مطابق حکومت نے آئی ایم ایف کو 860 ارب روپے کے مزید اضافی ٹیکس لگانے کی یقین دہانی کروا دی ہے۔ وزارت خزانہ اور ایف بی آر کی نااہلی کا مزید بوجھ بھی غریب عوام کو ہی اٹھانا پڑے گا۔

قرض کے حصول کے لئے آئی ایم ایف کے آگے ایڑیاں رگڑنے والوں نے قلیل مدت میں پیٹرولیم لیوی کی مد میں آئی ایم ایف کے 2 قرض پروگراموں سے بھی زیادہ رقم عوام سے بٹور لی۔ پارلیمنٹیرینز کی تنخواہیں اور مراعات بڑھانے سمیت کبھی یہ لگثرری جہاز خریدتے ہیں تو کبھی اربوں روپے اپنے ارکان اسمبلی کو ڈویلپمنٹ فنڈ کی مد میں دان کر دیتے ہیں۔ بحیثیت پاکستانی اب ہمیں حیران اور پریشان نہیں ہونا چاہیے کہ حکومت عوام کی جیب خالی کر کے بھی کشکول اٹھائے ہوئے کیوں ہے۔ ان کے اپنے شاہانہ پروٹوکولز ، ذاتی نمود و نمائش اور خواہشات ہر پاکستانی کی بنیادی ضروریات زندگی سے افضل ہیں۔جس طرح اقتدار ملا ہے حکومت خود کو عوام کے آگے جوابدہ  بھی نہیں سمجھتی۔ 

 ایسے میں موجودہ نظام زراعت اور خصوصاً کپاس کی فصل کے احیاء پر اپنی توانائی ضائع کیوں کرے گا۔ 

ویب ڈیسک

ویب ڈیسک

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • About
  • Advertise
  • Careers
  • Contact

© 2024 Raufklasra.com

No Result
View All Result
  • Home
  • Politics
  • World
  • Business
  • Science
  • National
  • Entertainment
  • Gaming
  • Movie
  • Music
  • Sports
  • Fashion
  • Lifestyle
  • Travel
  • Tech
  • Health
  • Food

© 2024 Raufklasra.com

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In