سمیر اسلیم کا بلاگ
ہر سال کی طرح ایک بار پھر چینی کی ایکسپورٹ/امپورٹ کے نام پر ڈالر کمانے کا موسم آ گیا ہے۔ پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن کے چیئرمین چوہدری ذکاء اشرف، جو صدر زرداری کے قریبی ساتھی بھی ہیں، نے ڈپٹی وزیراعظم اسحاق ڈار کو ایک خط لکھا ہے جس میں چینی ایکسپورٹ کرنے کی اجازت دینے کی درخواست کی گئی ہے۔طریقۂ واردات وہی ہے جو برسوں سے استعمال کیا جا رہا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ حکومت چاہے کسی بھی جماعت کی ہو، سیٹھوں کو ہمیشہ کامیابی ملی ہے۔خط کا لبِ لباب یہ ہے کہ پاکستان کی شوگر انڈسٹری کے پاس ملکی ضرورت سے ساڑھے 7 لاکھ ٹن زائد چینی موجود ہے، جسے ایکسپورٹ کرنے کی اجازت دی جائے۔ ساتھ ہی یہ لالچ بھی دیا گیا ہے کہ اضافی چینی کی برآمد سے پاکستان فوری طور پر تقریباً 500 ملین امریکی ڈالر کا انتہائی ضروری زرمبادلہ کما سکتا ہے، جس سے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔
شوگر ملز مالکان ہر سال یہ کھیل کھیلتے ہیں۔ چینی ایکسپورٹ کرنے کے ایک ماہ کے اندر اندر چینی کی مصنوعی قلت پیدا کر کے قیمتوں میں اضافہ کر دیا جاتا ہے۔ جب نومبر میں گنے کی کرشنگ کا سیزن آتا ہے تو مقامی سطح پر چینی کی قیمت کم کرنے کی آڑ میں بیرونِ ملک سے دوگنا زرمبادلہ خرچ کر کے چینی درآمد کر لی جاتی ہے۔نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ مقامی مارکیٹ میں چینی کی کم قیمت کو بنیاد بنا کر گنے کی سپورٹ پرائس دانستہ طور پر کم رکھی جاتی ہے تاکہ کسان کا بھلا نہ ہو۔ یہ وہ گورکھ دھندا ہے جس میں کسان رُلتا ہے اور ملز مالکان کی تجوریاں بھرتی ہیں۔
مالی سال 2024-25 میں حکومتی اجازت سے شوگر ملز مالکان نے ساڑھے 7 لاکھ میٹرک ٹن چینی ایکسپورٹ کی، جس کی مالیت 40 کروڑ ڈالر کے لگ بھگ تھی۔ چینی ایکسپورٹ کے بعد مقامی سطح پر چینی کے نرخ بڑھا کر 200 روپے فی کلو تک کر دیے گئے، جس سے اضافی 300 ارب روپے کا منافع کمایا گیا۔چینی کی قیمتوں میں بڑے اضافے سے شوگر ملز مالکان نے اربوں روپے کمائے۔ اب بھی کچھ ایسا ہی ہونے والا ہے۔ کسانوں کو ان کی فصل کی بہتر قیمت نہ دینے والی حکومت بہت جلد ان شوگر مافیاز کے آگے ہتھیار ڈال دے گی۔ وجہ وہی پرانی ہے کہ حکمران اشرافیہ کی اپنی شوگر ملز ہیں۔امپورٹ اور ایکسپورٹ کے اس دھندے میں ملز مالکان کے اربوں روپے بنتے ہیں، جبکہ چھری کی زد میں عوام آتے ہیں۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ ان سیٹھوں کو سبسڈی بھی دی جاتی رہی۔ ن لیگ اور پی ٹی آئی کی گزشتہ حکومتوں نے 6 برسوں میں شوگر ملز مالکان کو سبسڈی کی مد میں 25 ارب روپے سے نوازا تھا۔
ذاتی مفادات کے تحفظ کے لیے بنائی گئی حکومتی پالیسی ہمیشہ تنقید کی زد میں رہی ہے، جس کی بڑی وجہ شوگر ملز مالکان اور حکومتی اداروں کا گٹھ جوڑ ہے۔ زیادہ تر شوگر ملز مالکان خود سیاستدان یا بڑے کاروباری افراد ہیں، جس کے باعث چینی سے متعلق مختلف نوعیت کے تنازعات کا جنم لینا ہر سال کی ایک کہانی بن چکا ہے۔
گزشتہ سال ملک میں چینی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے معاملے پر پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس بلائے گئے، جن میں اُس وقت کے چیئرمین کمیٹی جنید اکبر سمیت دیگر اراکین نے شوگر ملز مالکان کی تفصیلات طلب کیں، تاہم حکومتی اداروں نے اس سلسلے میں تعاون نہیں کیا۔اس وقت پبلک اکاؤنٹس کمیٹی میں چینی ایکسپورٹ کرنے والی 67 شوگر ملز کی جو تفصیلات جمع کرائی گئی تھیں، ان میں سرفہرست جہانگیر ترین کی شوگر ملز تھیں۔
جہانگیر ترین کی ملکیت میں 3 شوگر ملز ہیں۔ ان میں جے ڈی ڈبلیو گروپ نے73,090میٹرک ٹن چینی برآمد کی، جس کی مالیت 11.1ارب روپے تھی۔ اس کے بعد ٹنڈلیانوالہ شوگر ملز ہے، جس نے 41,412 میٹرک ٹن چینی برآمد کی، جس کی مالیت 5.98 ارب روپے تھی۔ تیسرے نمبر پر حمزہ شوگر ملز نے 32,486میٹرک ٹن چینی ایکسپورٹ کی، جس کی مالیت 5.03 ارب روپے تھی۔دیگر بڑے برآمد کنندگان میں تھل انڈسٹریز کارپوریشن لمیٹڈ، جے کے شوگر ملز، مدینہ شوگر ملز، رمضان شوگر ملز، انڈس شوگر ملز، حبیب شوگر ملز اور دیگر شامل ہیں۔جس ملک میں شوگر ملز کی ایک بڑی تعداد سیاسی شخصیات یا ان کے فرنٹ مینوں کی ملکیت ہو، وہاں فیصلہ سازی کی طاقت رکھنے والے عوام کے فائدے کے لیے پالیسی کیونکر بنائیں گے؟ اسی لیے آئی ایم ایف کی شرط کے باوجود اب تک شوگر سیکٹر کو ڈی ریگولیٹ نہیں کیا جا سکا۔ہمیشہ کی طرح اس بار بھی وہی کھیل دوبارہ کھیلا جا رہا ہے۔ چوہدری ذکاء اشرف نے اپنے مراسلے میں یہ بات بھی حکومت تک پہنچا دی ہے کہ اگر انہیں ایکسپورٹ کی اجازت نہ ملی تو شوگر انڈسٹری نقصان کے باعث کسانوں کو ان کی فصل کی بہتر قیمت نہیں دے پائے گی۔یہ ایک کڑوی حقیقت ہے کہ چینی کی ایکسپورٹ کے بعد بھی کسان کو اس کا حق نہیں ملے گا۔
