سمیرا سلیم کا بلاگ
پاکستان میں کپاس کی فصل کو انتہائی اہم Cash Cropاور White Gold سمجھا جاتا تھا لیکن حکومتوں کی مسلسل عدم توجہی، غلط ترجیحات، ناقص پالیسیوں اور ذاتی مفادات اس اہم فصل کے زوال کا سبب بن گئے ہیں۔ جنوبی پنجاب کا علاقہ جو کبھی کپاس کی فصل کا گڑھ سمجھا جاتا تھا وہاں مسلسل کپاس کی کاشتکاری تیزی سے کم ہو رہی ہے۔ اس وقت پنجاب میں 3.2 ملین ایکڑ کے ہدف کے مقابلے میں صرف 2.614 ملین ایکڑ رقبے پر ہی کپاس کاشت ہو سکی ہے جو کہ گزشتہ برس کے مقابلے میں نصف ملین کم ہے۔ ہر سال 18 سے 20 فیصد تک کمی ہو رہی ہے۔ جس پر پنجاب اسمبلی کے اسپیکر ملک احمد خان نے تشویش کا اظہار کیا کہ رحیم یار خان جو کبھی کاٹن ایریا تھا اب وہاں پر مخدوموں اور چوہدریوں نے شوگر ملز لگا کر تباہی پھیر دی ہے۔ انہوں نے اس ظلم کی طرف توجہ تو دلا دی مگر یہ نہیں بتایا کہ اس میں سب سے بڑا ہاتھ ان کی ہی جماعت ن لیگ کا ہے۔ شوگر ملز مافیا نے کپاس بیلٹ کا بیڑا غرق اس لیے کیا کیونکہ وہ خود اقتدار میں تھے ان کا جہاں دل چاہا انہوں نے شوگر مل لگا لی، روکنا کس نے تھا؟ چیک اینڈ بیلنس تو حکومت اور حکومتی ادارے رکھتے ہیں اور اگر وہی ادارے ماتحت ہوں پھر سب سے بڑے کپاس پیدا کرنے والے علاقے رحیم یار خان میں ایک اور شوگر مل کی منظوری کوئی بڑی بات نہیں۔
ابھی تقریباً ایک دو ماہ قبل خبر آئی کہ کپاس کی ملکی پیداوار میں کمی کے خدشے کے باعث مقامی ٹیکسٹائل ملوں نے نئے کاٹن جننگ سیزن کے آغاز سے پہلے ہی امریکہ اور برازیل سے بڑے پیمانے پر روئی کی درآمد شروع کر دی ہے جس پر ملک کا تقریباً 1.2 ارب ڈالر قیمتی زرِمبادلہ خرچ ہو گا۔ امریکہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے ایک تو وہاں سے روئی منگوائی، دوسری طرف یہ ظلم کیا کہ حالیہ بجٹ میں شپنگ انڈسٹری پر 18 فیصد سیلز ٹیکس ختم کر دیا تاکہ شپنگ کے اخراجات کو کم کیا جا سکے۔ حکومت کے اس اعلان کے ساتھ ہی ملک میں کپاس کی فی من 300 روپے قیمت گر گئی۔ جو کسان تھوڑی بہت کپاس کاشت کر رہا تھا اس کی بھی حوصلہ شکنی کی گئی ہے۔ اگر اس بار پیداوار کم ہونے کے باعث کسان کو اچھی قیمت ملتی تو وہ اگلے سال پھر کپاس کی کاشت کرتا۔ حکومت کی ترجیحات میں کپاس کی کاشت اور بہتر پیداوار کی کوئی گنجائش ہی نہیں۔ حکومت کی بھرپور کوشش ہے کہ جو کسان ابھی بھی کپاس کاشت کرنے کی جرات کر رہے ہیں ان کی ہمت کو اس طریقے سے توڑا جائے کہ وہ کپاس چھوڑ کر گنے کی طرف راغب ہوں تاکہ ان حکمرانوں کو اپنی شوگر ملوں کے لیے سستا اور وافر گنا دستیاب ہو سکے۔
شہباز سرکار سے کسی بھی قسم کے ریلیف کی توقع رکھنا صریحاً غلط فہمی ہو گی، ابھی جو کچھ انہوں نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے ساتھ کیا ہے، اس سے انہوں نے ایک بار پھر عوام کو باور کرایا ہے کہ موجودہ سسٹم بڑے بڑے ڈیلرز، شوگر ملز مالکان، آئی پی پیز اور آئل کمپنیوں کے مالکان کو بھاری فائدہ پہنچانے کے لیے عوام کی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔ ایران امریکا جنگ کے ابتدا میں ان آئل کمپنیوں نے کم قیمت پر خریدا گیا تیل حکومتی سرپرستی میں عوام کو مہنگا بیچا۔ یہ وہ حکمران ہیں جو مشکل وقت میں بھی بوجھ عوام پر ڈالتے ہیں اور جب ریلیف کا وقت آتا ہے تو تب بھی بوجھ عوام پر ڈال کر ریلیف ڈیلرز اور آئل کمپنیوں کو دے دیا جاتا ہے، یا پھر پیٹرولیم لیوی بڑھا دی جاتی ہے۔ یہاں عوام ہمیشہ ہار جاتی ہے۔ جبکہ بھارت نے عالمی قیمتوں میں اضافے کے باوجود جنگ کے پہلے 78 دنوں تک تیل کی قیمتوں میں اضافہ نہ کرنے کے لیے آئل ریفائنریز اور ریٹیلرز کو 12.6 ارب ڈالرز کی سبسڈی دی، جس سے قیمتیں فریز ہو گئیں۔ 15 مئی کو بھارت نے ایندھن کی قیمت پہلی بار بڑھائی وہ بھی پیٹرول کی قیمت میں صرف 3 روپے فی لیٹر اضافہ ہوا۔ کسان کھاد مہنگی نہ خریدے اس لیے کھاد پر سبسڈی دی تاکہ جنگ کی وجہ سے خلل نہ پڑے، ڈی اے پی اور یوریا کھاد کاشتکار تک پہنچتی رہے۔ دوسری طرف ہماری حکومت سے زراعت میں بہتری کی امید لگائی جا سکتی ہے اور نہ ہی ٹیکسٹائل اور انڈسٹریل ڈیولپمنٹ کی۔ جو حکومت بچوں کی کاپی پینسل پر ٹیکس لگائے اور شپنگ انڈسٹری کو استثنیٰ دے، آپ ایسی حکومت کے بارے میں کیا رائے رکھتے ہیں؟
