رپورٹ : فروا نقوی
راولپنڈی کے علاقے وارث خان میں 35 سالہ مریم شہزادی نے مبینہ طور پر نیند کی گولیاں کھا کر اپنی جان لے لی، جبکہ اپنی پانچ اور سات سالہ دو بیٹیوں کو بھی نیند کی گولیاں دے دیں۔ بروقت اسپتال منتقل کیے جانے کے باعث دونوں بچیوں کی جان بچ گئی۔
دی نیشن میں فروا نقوی کی رپورٹ کے مطابق اہل خانہ نے بتایا کہ مریم شہزادی طویل عرصے سے شدید ذہنی دباؤ کا شکار تھی اور باقاعدگی سے نیند کی گولیاں استعمال کرتی تھی۔ اس کی دو شادیاں ہوئیں، مگر دونوں شوہروں نے اسے اور اس کی بیٹیوں کو چھوڑ دیا، جس کے بعد وہ اپنی والدہ کے گھر رہ رہی تھی۔ خاندان مالی مشکلات کا شکار تھا اور گزر بسر کے لیے وقتی کاموں اور رشتہ داروں و پڑوسیوں کی مدد پر انحصار کرتا تھا۔
رپورٹ کے مطابق مریم نے ایک تحریری نوٹ بھی چھوڑا، جس میں اس نے اپنے عمل کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے خواہش ظاہر کی کہ اسے اور اس کی بیٹیوں کو ایک ہی قبر میں دفن کیا جائے۔ تاہم واقعے کے فوراً بعد اس کے بھائی نے تینوں کو اسپتال پہنچایا، جہاں مریم جانبر نہ ہو سکی جبکہ دونوں بچیاں بچ گئیں۔
پولیس کے مطابق دونوں بچیاں شدید غذائی قلت کا شکار تھیں اور ان کی جسمانی حالت انتہائی کمزور تھی۔ حکام نے شہریوں پر زور دیا ہے کہ ذہنی دباؤ اور شدید مالی مشکلات کا شکار افراد پر نظر رکھیں اور بروقت مدد فراہم کریں، کیونکہ بروقت تعاون اور ذہنی صحت سے متعلق آگاہی ایسے افسوسناک واقعات کی روک تھام میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
(بشکریہ ‘ دی نیشن ‘ )
