اسلام آباد (شفیق لغاری): سینیٹ کی اسٹینڈنگ کمیٹی برائے رولز آف پروسیجر اینڈ پرولیجز کا اجلاس چیئرمین سینیٹر سید وقار مہدی کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں کمیٹی کے ارکان نے مختلف استحقاقی معاملات کا جائزہ لیا۔
اجلاس کے دوران کمیٹی کے رکن سینیٹر بلال خان نے پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن (پی آئی اے) کے ملازمین کے رویے پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پی آئی اے کے زوال اور تباہی کی بڑی وجوہات میں صرف معاشی بحران اور سفارشی کلچر ہی شامل نہیں بلکہ مسافروں کے ساتھ ملازمین کا ہتک آمیز رویہ بھی اہم وجہ ہے۔
سینیٹر بلال خان نے کمیٹی کو بتایا کہ تقریباً پانچ ماہ قبل وہ کوئٹہ سے اسلام آباد پی آئی اے کی پرواز پر سفر کر رہے تھے، جہاں ایک ایئر ہوسٹس نے ان کے ساتھ ہتک آمیز رویہ اختیار کیا۔ ان کے بقول ایئر ہوسٹس نے ان کی شکایت کاک پٹ میں موجود پائلٹ سے کی، جس پر پائلٹ نے ان کا مؤقف سنے بغیر ہنگامی لینڈنگ کا فیصلہ کر لیا۔
انہوں نے کہا کہ طیارہ اترنے کے بعد بھی انہیں اپنا مؤقف پیش کرنے کا موقع نہیں دیا گیا بلکہ ایئرپورٹ سیکیورٹی فورس (اے ایس ایف) کو طلب کر لیا گیا۔
سینیٹر بلال خان نے کہا، "اگر میں بطور سینیٹر اپنا تعارف نہ کراتا تو یہ مجھے ہتھکڑیاں بلکہ بیڑیاں پہنا دیتے۔ جب ایک سینیٹر کے ساتھ ایسا رویہ اختیار کیا جا سکتا ہے تو عام مسافروں کے ساتھ ان کا رویہ کیا ہوگا؟”
انہوں نے کہا کہ اگرچہ دورانِ پرواز پائلٹ کو مجسٹریٹ کے اختیارات حاصل ہوتے ہیں اور اس وقت وہ مکمل اختیار رکھتے ہیں، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ قانون اور ضابطوں سے بالاتر ہیں۔ ان کے مطابق پائلٹ اور ایئر ہوسٹس دونوں قانون اور قواعد و ضوابط کے پابند ہیں اور انہیں کسی بھی کارروائی سے قبل تمام حقائق جاننے اور متعلقہ شخص کا مؤقف سننے کی ذمہ داری پوری کرنی چاہیے۔
اجلاس کے دوران کمیٹی نے دیگر استحقاقی معاملات کا بھی جائزہ لیا۔ کمشنر کو طلب کیے جانے کے باوجود ان کی عدم حاضری پر چیئرمین کمیٹی سینیٹر سید وقار مہدی نے سخت برہمی کا اظہار کیا۔
سینیٹر سید وقار مہدی نے کہا کہ "بیوروکریسی پارلیمانی کمیٹیوں کو سنجیدگی سے کیوں نہیں لیتی؟” انہوں نے کہا کہ سرکاری افسران کی مختلف تربیتی کورسز کی طرح پارلیمانی کمیٹیوں کے اختیارات، حیثیت اور ان کے سامنے پیش ہونے کے طریقہ کار سے متعلق بھی باقاعدہ تربیت دی جانی چاہیے تاکہ افسران پارلیمنٹ کے اداروں کا احترام کریں اور کمیٹیوں کی کارروائی کو سنجیدگی سے لیں۔کمیٹی نے متعلقہ حکام سے مختلف استحقاقی معاملات پر آئندہ اجلاس میں پیش رفت رپورٹ بھی طلب کر لی۔
