• Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
منگل, جون 30, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
Rauf Klasra
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
No Result
View All Result
Rauf Klasra
No Result
View All Result
Home بلاگ

پنجاب غنڈا مکاؤ قانون! برطانوی نوآبادیاتی دور کی واپسی

by ویب ڈیسک
جون 30, 2026
in بلاگ
0
پنجاب غنڈا مکاؤ قانون! برطانوی نوآبادیاتی دور کی واپسی
0
SHARES
7
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

سمیرا سلیم کا بلاگ

شہباز شریف سرکار کی جانب سے ڈیجیٹلائزیشن کے نام پر ٹیلی کام کمپنیوں کو کھلی چھوٹ دیتے ہوئے شہریوں کے حقوق کی پامالی اور نجی جائیداد پر قبضے یا زبردستی ٹاورز لگانے کے متنازع قانون کے بعد پنجاب حکومت بھی پیچھے نہ رہی اور شہری آزادیوں کو سلب کرنے کے لیے ایسا خوفناک بل خاموشی سے قائمہ کمیٹی سے منظور کرا لیا، جس کے سامنے انگریز سامراج کے قوانین بھی نرم محسوس ہوتے ہیں۔بھلا ہو میڈیا کا، جہاں خبر آنے کے بعد ہنگامہ اٹھ کھڑا ہوا۔ سوئی ہوئی اپوزیشن بھی جاگ گئی، وگرنہ پنجاب اسمبلی کی قائمہ کمیٹی سے منظور ہونے والا یہ بل اسمبلی سے بھی منظور ہو جاتا۔پنجاب کنٹرول آف ہیبیچوئل آفینڈرز اینڈ اینٹی سوشل بیہیوئیر بل 2026 کے نام سے جس بل کو وقتی طور پر روکا گیا ہے، یہ ایک ایسا کالا قانون ہے جسے اگر نوآبادیاتی دور کی جانب واپسی کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔پنجاب حکومت کا یہ نیا قانون 1871 کے برطانوی نوآبادیاتی دور کے کرمنل ٹرائبز ایکٹ (Criminal Tribes Act) کا بدترین ورژن ہے۔ برصغیر پاک و ہند پر قابض انگریزوں نے اپنے مفتوحہ علاقوں میں قبائلی بغاوتوں سے بچنے کے لیے مخصوص قبائل اور برادریوں کو پیدائشی یا عادی مجرم قرار دے کر ان کی نقل و حرکت محدود کرنے کے لیے یہ قانون بنایا تھا۔ ان قبائل کے افراد کے لیے روزانہ مقامی پولیس اسٹیشن میں حاضری لگانا لازم تھا، جبکہ قانون کی خلاف ورزی پر سخت سزائیں دی جاتی تھیں۔پاکستان معرضِ وجود میں آیا تو یہ قانون بھی ختم ہو گیا۔ بعد ازاں جنرل ایوب خان نے اقتدار پر قبضہ کرنے کے بعد مفتوحہ ملک پر اپنی گرفت مضبوط کرنے کے لیے اپنے گورے آقاؤں کی پیروی کرتے ہوئے اسی طرز کا کنٹرول آف غنڈا آرڈیننس 1959 نافذ کیا اور ایک بابو پر مشتمل ٹریبونل قائم کیا، جس طرح موجودہ پنجاب حکومت کے اس قانون کے تحت ضلعی انٹیلیجنس کمیٹیاں بنانے کی تجویز دی گئی ہے۔آج کے جدید دور میں، جب شخصی آزادیوں کے معاملے میں دنیا پہلے سے کہیں زیادہ حساس ہے، برطانوی سامراج کے ظالمانہ قانون سے بھی دو ہاتھ آگے جا کر ایسی قانون سازی کی منصوبہ بندی آمرانہ سوچ کی عکاسی کرتی ہے۔ پنجاب حکومت اب ایسے قوانین لانا چاہتی ہے کہ کوئی سر اٹھا کر نہ چل سکے، عوام ان کے کارناموں پر انگلی نہ اٹھا سکیں، اور وہ ٹیکس دہندگان کے پیسوں سے لگژری جہاز خریدیں یا محلات، مگر کوئی سوال کرنے والا نہ ہو۔

متنازع قانون کے جو مندرجات میڈیا میں رپورٹ ہوئے ہیں، ان کے مطابق ضلعی انٹیلیجنس کمیٹیاں بنائی جائیں گی، جو کسی بھی شہری کو محض الزامات، پولیس چالان یا ایک سے زائد بار گرفتاری کی بنیاد پر، بغیر عدالت سے جرم ثابت ہوئے، "عادی مجرم” قرار دے سکیں گی۔اس قانون کے ذریعے جو ایک بہت بڑی واردات ڈالنے کی کوشش کی جا رہی تھی، وہ یہ ہے کہ بل میں سماج دشمن رویوں کی 23 مختلف کیٹیگریز شامل کی گئی ہیں۔ مطلب یہ کہ اگر آپ کو کوئی وزیر یا کوئی عہدیدار پسند نہیں، یا اس کا طرزِ حکمرانی پسند نہیں، تو آپ عوامی سطح پر یا واٹس ایپ پر بھی اپنی پسند یا ناپسند کا اظہار نہیں کر سکیں گے۔اس ایکٹ کے تحت سماج دشمن رویوں میں منظم جرائم کے ساتھ ساتھ پبلک میں گالم گلوچ، کسی کو تنگ کرنا، سوشل میڈیا پر غلط معلومات پھیلانا اور جانوروں پر تشدد جیسے مبہم اور انتہائی وسیع پہلو بھی شامل ہیں۔بظاہر پیکا قانون سے بات نہیں بنی، اس لیے مزید کالے قوانین کا سہارا لیا جا رہا ہے۔ مجوزہ قانون میں انتظامیہ کو اتنے زیادہ اختیارات دیے جا رہے ہیں کہ عدالت کی ضرورت ہی باقی نہیں رہے گی۔ اب ایک افسر فیصلہ کرے گا کہ کون شریف ہے اور کون غنڈہ۔صرف یہی نہیں، بلکہ ضلعی انٹیلیجنس کمیٹیوں کی سفارش پر کسی بھی شہری کا بینک اکاؤنٹ منجمد کرنا، جائیداد ضبط کرنا، سوشل میڈیا اکاؤنٹس ڈیلیٹ کرنا، فون اور لیپ ٹاپ ضبط کرنا، پاسپورٹ اور شناختی کارڈ بلاک کرنا، اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے چوبیس گھنٹے نگرانی کرنا بھی ممکن ہوگا۔یعنی انٹیلیجنس کمیٹی کے اشارۂ ابرو پر شہریوں کے فون، لیپ ٹاپ، پاسپورٹ، جائیداد اور بینک اکاؤنٹس سب ضبط کیے جا سکیں گے۔ زبان پر تو تالا لگے گا ہی، لگے ہاتھوں شہریوں کے بینک اکاؤنٹس بھی حکومت سے محفوظ نہیں رہیں گے۔حیران کن طور پر اس کمیٹی میں شامل افسران کو مکمل استثنیٰ حاصل ہوگا اور ان کے خلاف کسی بھی قسم کی قانونی کارروائی نہیں کی جا سکے گی۔

خواجہ آصف کے بقول موجودہ ہائبرڈ پلس نظام میں حکومتی رعونت کا اندازہ مریم اورنگزیب کے پنجاب اسمبلی کے فلور پر اندازِ تخاطب سے لگایا جا سکتا ہے، جہاں وہ فرماتی ہیں: "ہاں، خریدا ہے جہاز۔”یہ وہی 11 ارب روپے مالیت کا جہاز ہے جس کے بارے میں صوبائی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے کہا تھا کہ یہ جہاز ایئر پنجاب کے لیے خریدا گیا ہے۔ عوام سے کی گئی اس غلط بیانی پر نہ پیکا قانون حرکت میں آیا، نہ ہی کوئی بازپرس ہوئی۔گویا حکمران ہر قانون سے بالاتر ہیں یا استثنیٰ کی بلند و بالا فصیلوں میں پناہ لیے ہوئے ہیں، جبکہ قوانین محض رعایا کے لیے ہیں۔کالے قوانین لانے کا مقصد شاہی طرزِ حکمرانی کو دوام بخشنا ہے۔ یہ سیاہ کریں یا سفید، کوئی سوال اٹھانے کی جرات نہ کر سکے۔مین اسٹریم میڈیا اور سوشل میڈیا پر بے پناہ تنقید اور شور و غوغا کے بعد اس مجوزہ قانون کو فی الحال روک دیا گیا ہے، مگر سوال یہ ہے کہ اگر یہ قانون دوبارہ کاسمیٹک سرجری کے بعد پیش ہوتا ہے تو اس سے شہریوں کی آزادی کو جو شدید خطرات لاحق ہوں گے، اس بے بس عدالتی نظام میں وہ کس کا دروازہ کھٹکھٹائیں گے؟

ویب ڈیسک

ویب ڈیسک

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • About
  • Advertise
  • Careers
  • Contact

© 2024 Raufklasra.com

No Result
View All Result
  • Home
  • Politics
  • World
  • Business
  • Science
  • National
  • Entertainment
  • Gaming
  • Movie
  • Music
  • Sports
  • Fashion
  • Lifestyle
  • Travel
  • Tech
  • Health
  • Food

© 2024 Raufklasra.com

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In