• Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
منگل, ستمبر 22, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
Rauf Klasra
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
No Result
View All Result
Rauf Klasra
No Result
View All Result
Home بلاگ

پیٹرول 1000 روپے تک پہنچنے کا خدشہ لیکن احتجاج پر اربوں خرچ،کیا یہ کھلا تضاد نہیں؟

by Ahmed Arsalan
ستمبر 22, 2026
in بلاگ
0
پٹرولیم لیوی میں فی لیٹر 20 روپے تک اضافے کا امکان
0
SHARES
7
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter


رافعہ زاہد کا بلاگ

غریب عوام کو پیٹرول پر مناسب ریلیف دینے کی گنجائش نہیں، لیکن اسلام آباد میں احتجاج روکنے کے لیے اربوں روپے کے انتظامات موجود ہیں۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے خبردار کیا ہے کہ عالمی تیل بحران برقرار رہا تو پاکستان میں پیٹرول 1000 روپے فی لیٹر میں بھی ملنا مشکل ہوسکتا ہے، جبکہ دوسری جانب حکومت احتجاج سے نمٹنے کے لیے بھاری سیکیورٹی اخراجات کی تیاری کر رہی ہے۔ کیا یہ کھلا تضاد نہیں؟

اگر مختلف، بیان کردہ اور غیر دہرائے گئے اعداد کو جمع کیا جائے تو 2013 سے 2026 تک تقریباً 4 ارب 43 کروڑ 86 لاکھ روپے بنتے ہیں۔ تاہم، یہ 13 سال کا کوئی ایک سرکاری مجموعی عدد نہیں، بلکہ مختلف برسوں کے دستیاب دستاویزی اخراجات اور 2026 کے لیے طلب کی گئی رقم کا مجموعہ ہے۔

پاکستان میں سیاسی احتجاج، دھرنے اور طویل مارچ صرف سڑکوں کی بندش تک محدود نہیں رہتے بلکہ ان کے باعث معیشت، کاروباری سرگرمیوں اور سرکاری خزانے پر بھی اضافی مالی دباؤ پڑتا ہے۔ حالیہ احتجاجی سرگرمیوں کے پیش نظر وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے اندازہ ظاہر کیا ہے کہ احتجاج، دھرنوں اور سڑکوں کی بندش سے ملک کو روزانہ 120 ارب روپے تک کا معاشی نقصان ہوسکتا ہے۔ اس تخمینے میں خدمات کے شعبے کا ممکنہ نقصان 86 ارب، صنعت کا 25 ارب اور زراعت کا 9 ارب روپے روزانہ بتایا گیا ہے، جبکہ حکومتی محصولات کو روزانہ 17 ارب روپے تک نقصان کا اندازہ لگایا گیا ہے۔

ماضی کے اعداد و شمار دیکھیں تو جنوری 2013 میں تحریکِ منہاج القرآن کے لانگ مارچ کی سیکیورٹی پر پولیس کے 3 کروڑ 32 لاکھ روپے خرچ ہوئے۔ اگست سے دسمبر 2014 کے دوران پی ٹی آئی اور عوامی تحریک کے دھرنوں پر 75 کروڑ 59 لاکھ روپے خرچ کیے گئے، جبکہ اگست 2014 کے دھرنے میں امن و امان کے لیے اضافی 35 کروڑ 76 لاکھ روپے مختص کیے گئے۔

نومبر 2016 میں پی ٹی آئی کے اسلام آباد لاک ڈاؤن سے نمٹنے کے لیے 2 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد خرچ ہوئے، جبکہ نومبر 2017 میں فیض آباد دھرنے کی سیکیورٹی پر 13 کروڑ 38 لاکھ روپے سے زائد اخراجات رپورٹ ہوئے۔ مجموعی طور پر 2013 سے 2018 تک دھرنوں اور سیکیورٹی انتظامات پر اسلام آباد پولیس کے 1 ارب 14 کروڑ 58 لاکھ روپے خرچ ہونے کی تفصیلات سامنے آئیں۔

مئی 2022 کے پی ٹی آئی لانگ مارچ میں بھی سرکاری خزانے پر نمایاں بوجھ پڑا۔ اسلام آباد پولیس کے مطابق مارچ پر 14 کروڑ 90 لاکھ روپے خرچ ہوئے۔ صرف 380 کنٹینرز کے 5 روزہ کرائے کے لیے 4 کروڑ 75 لاکھ روپے مانگے گئے، جبکہ 15 ہزار پولیس اہلکاروں کے 5 دن کے کھانے کے لیے 4 کروڑ 12 لاکھ 50 ہزار روپے مختص کیے گئے۔ انسدادِ ہنگامہ آرائی کے سامان کی خریداری کے لیے مزید 3 کروڑ 53 لاکھ روپے درکار تھے۔

مالی سال 2019-20 میں ریڈ زون کی سیکیورٹی پر 15 کروڑ 77 لاکھ روپے، مالی سال 2020-21 میں احتجاجی سیکیورٹی پر 9 کروڑ 61 لاکھ روپے، مالی سال 2021-22 میں ریڈ زون کی سیکیورٹی پر 27 کروڑ 79 لاکھ روپے، جبکہ مالی سال 2022-23 میں احتجاج روکنے اور ریڈ زون محفوظ رکھنے پر 72 کروڑ 40 لاکھ روپے خرچ ہوئے۔ مالی سال 2023-24 میں احتجاجی سیکیورٹی کے اخراجات تقریباً 10 کروڑ روپے رہے۔

جولائی سے نومبر 2024 کے دوران پی ٹی آئی کی احتجاجی سرگرمیوں کے حوالے سے اسلام آباد پولیس نے قومی خزانے سے 1 ارب 11 کروڑ روپے سے زائد اخراجات رپورٹ کیے۔ اس عرصے میں 1,641 کنٹینرز کے کرائے پر 24 کروڑ 77 لاکھ روپے خرچ ہوئے، جبکہ ستمبر 2024 میں پی ٹی آئی کے سنگجانی جلسے کے دوران 470 سے زائد کنٹینرز لگانے پر 8 کروڑ روپے سے زائد اخراجات کی رپورٹ سامنے آئی۔

اب 2026 میں ایک مرتبہ پھر ممکنہ احتجاج کے پیش نظر اسلام آباد پولیس نے 82 کروڑ 70 لاکھ روپے کے اضافی فنڈز طلب کیے ہیں۔ سیکیورٹی انتظامات کے لیے 2,000 سے زائد کنٹینرز، اضافی پولیس نفری، رہائش، خوراک، ٹرانسپورٹ اور انسدادِ ہنگامہ آرائی کے سامان کا انتظام کیا جا رہا ہے۔ پولیس کے مطابق 20,000 سے 25,000 افراد اسلام آباد پہنچ سکتے ہیں اور صورتحال تقریباً ایک ہفتے تک برقرار رہنے کا خدشہ ہے۔

Ahmed Arsalan

Ahmed Arsalan

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • About
  • Advertise
  • Careers
  • Contact

© 2024 Raufklasra.com

No Result
View All Result
  • Home
  • Politics
  • World
  • Business
  • Science
  • National
  • Entertainment
  • Gaming
  • Movie
  • Music
  • Sports
  • Fashion
  • Lifestyle
  • Travel
  • Tech
  • Health
  • Food

© 2024 Raufklasra.com

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In