تحریر:تنویر احمد
پاکستان میں قرض کے حوالے سے بحث ایک غلط تناسب کے گرد گھوم رہی ہے،زیادہ تر گفتگو قرض اورمجموعی قومی پیداوار (GDP) کے تناسب تک محدود رہتی ہے جیسے کسی ملک کی مالی استطاعت کا انحصار صرف قرض کی مجموعی مقدار پر ہو۔حقیقت میں ایسا نہیں ہے۔کسی ملک کی قرض برداشت کرنے کی صلاحیت کا انحصار اس کی آمدنی،برآمدات، زرمبادلہ کے ذخائر، پیداواری صلاحیت، قرض کی مدت، کرنسی کی ساخت اور سب سے بڑھ کر ان اثاثوں پر ہوتا ہے جو ان واجبات کے مقابل موجود ہوں۔
یہاں ایک زیادہ مشکل سوال پیدا ہوتا ہے: قرض لینے کے بعد کوئی ملک اپنے پیچھے کیا چھوڑتا ہے؟صرف اس وجہ سے کہ کوئی ترقیاتی ادارہ قرض فراہم کر رہا ہے، قرض لینا ترقی نہیں بن جاتا۔قرض سے ریلوے، ڈیم، بجلی کی ترسیل کا نظام یا ایسا تعلیمی نظام قائم کیا جا سکتا ہے جو مستقبل میں ملک کی پیداواری صلاحیت بڑھائےلیکن یہی قرض ایسے بجٹ کو چلانے کے لیے بھی استعمال ہو سکتا ہے جو پہلے ہی اپنے اخراجات پورے کرنے کے قابل نہ ہو۔
ایک تیسری قسم کا قرض ادارہ جاتی اصلاحات کے لیے لیا جاتا ہے،اس کا نتیجہ فوری طور پر کسی عمارت یا منصوبے کی صورت میں نظر نہیں آتا لیکن اس کے لیے بھی یہی سخت معیار ہونا چاہیے کہ کیا متعلقہ ادارہ قابلِ پیمائش حد تک بہتر ہوا؟
بین الاقوامی تجربات اس حوالے سے ایک اہم فرق واضح کرتے ہیں۔ورلڈ بینک کی چین سے متعلق اپنی جائزہ رپورٹ میں دو غیر معمولی پہلو سامنے آتے ہیں۔ایک ایسے وقت میں جب دنیا کے دیگر حصوں میں انفراسٹرکچر کے لیے قرض میں کمی آ رہی تھی، چین کے لیے ورلڈ بینک کی مالی معاونت مسلسل بنیادی ڈھانچے پر مرکوز رہی۔بجٹ سپورٹ قرضوں کا اہم ذریعہ نہیں تھا،چین پالیسی شرائط قبول کرنے کے حوالے سے بھی محتاط رہا۔جائزہ لیے گئے عرصے میں صرف ایک ایسا ایڈجسٹمنٹ قرض تھا جس کے ساتھ پالیسی شرائط منسلک تھیں۔اس کا مطلب یہ نہیں کہ چین نے ترقی صرف اس لیے کی کہ ورلڈ بینک نے اسے قرض دیا،حقیقت اس کے برعکس تھی،بیرونی مالی معاونت کو چین کی اس ریاستی ترقیاتی حکمت عملی میں شامل کیا گیا جس میں پہلے ہی یہ طے کیا جا چکا تھا کہ ملک کو کس قسم کی پیداواری صلاحیت پیدا کرنی ہے،بھارت کا ورلڈ بینک کے ساتھ تعلق بھی کچھ اسی انداز میں شروع ہوا۔ 1949 میں بھارت کو دیا جانے والا پہلا قرض بھارتی ریلوے کے لیے تھا۔1950 کی دہائی میں بینک کی مالی معاونت کے ذریعے بجلی اور اسٹیل کے منصوبوں کے لیے زرمبادلہ فراہم کیا گیا اور بندرگاہوں کی ترقی میں مدد دی گئی بعد کے برسوں میں قرضوں کے ذریعے اداروں اور بنیادی ڈھانچے کی تعمیر میں بھی معاونت کی گئی، جن میں پاور گرڈ اور نیشنل ہائی ویز اتھارٹی آف انڈیا شامل ہیں۔اہم بات یہ نہیں کہ ہر قرض کامیاب ہوا۔اصل سوال یہ ہے کہ بیرونی مالی معاونت کا بڑا حصہ ایسی پیداواری صلاحیت میں تبدیل ہوا جس کی واضح طور پر نشاندہی کی جا سکتی ہے۔
پاکستان میں بھی پیداواری قرضوں کی مثالیں موجود ہیں،پاکستان کے بارے میں بھی یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ ملک نے کبھی پیداواری مقاصد کے لیے قرض نہیں لیا۔ اس کی ایک مثال داسو ہائیڈرو پاور پراجیکٹ اسٹیج ون ہے۔ورلڈ بینک نے 2024 میں اس منصوبے کے لیے مزید ایک ارب ڈالر کی منظوری دی۔ اس منصوبے کے پہلے مرحلے سے 2,160 میگاواٹ بجلی پیدا کرنے اور سالانہ 12 ہزار گیگا واٹ سے زیادہ کم لاگت کی قابلِ تجدید بجلی پیدا کرنے کا ہدف ہے۔ورلڈ بینک کے اندازے کے مطابق درآمدی ایندھن سے پیدا ہونے والی بجلی کی جگہ اس منصوبے سے پیدا ہونے والی بجلی آنے کے بعد پاکستان کو سالانہ تقریباً 1.8 ارب ڈالر کی بچت ہو سکتی ہے۔
مالی سال 2025 میں پاکستان کے مالیاتی خسارے کی بڑی ضروریات مقامی ذرائع سے پوری کی گئیں، تاہم ورلڈ بینک کے مطابق بجٹ سپورٹ کے لیے کثیرالجہتی اداروں اور کمرشل بینکوں سمیت بیرونی ذرائع سے 619 ارب روپے کی مالی معاونت بھی حاصل کی گئی۔قرض دینے والا ادارہ تبدیل ہو سکتا ہے، لیکن کسی مالی خسارے کو پورا کرنے کے لیے استعمال ہونے والا قرض خود بخود کوئی نیا پیداواری اثاثہ پیدا نہیں کرتا۔
کئی برس بعد ’’پاکستان ریزز ریونیو‘‘ پروگرام سامنے آیا۔ ابتدائی طور پر اس کے لیے 400 ملین ڈالر مختص کیے گئےجبکہ 2025 میں مزید 70 ملین ڈالر فراہم کیے گئے اور منصوبے کی مدت جون 2027 تک بڑھا دی گئی۔ورلڈ بینک کے مطابق اس پروگرام کے نتیجے میں 15 لاکھ نئے ٹیکس دہندگان کا اضافہ،ودہولڈنگ ٹیکس کی متعدد شقوں میں کمی، آئی ٹی نظام میں بہتری اور ٹیکس اخراجات میں زیادہ شفافیت جیسے نتائج حاصل ہوئے ہیں۔ان کامیابیوں کو تسلیم کیا جانا چاہیے۔تاہم ادارہ جاتی سطح پر ایک سوال اب بھی موجود ہے: کئی دہائیوں سے بیرونی مالی معاونت سے ٹیکس اصلاحات کے باوجود فیڈرل بورڈ آف ریونیو کو ایک اور بیرونی مالی معاونت سے چلنے والے تبدیلی کے منصوبے کی ضرورت کیوں پیش آ رہی ہے؟
ایشین ڈویلپمنٹ بینک کا ’’ایکسیس ٹو جسٹس پروگرام‘‘2001 میں منظور ہوا تھا۔اس کے تحت 330 ملین ڈالر کے دو پروگرام قرضوں کے ساتھ تکنیکی معاونت کے لیےبھی قرض فراہم کیا گیا۔انصاف کے شعبے میں اصلاحات کا جائزہ کسی بجلی گھر کی طرح نہیں لیا جا سکتا کیونکہ اس کا منافع ایک ادارہ جاتی نوعیت کا ہوتا ہے۔اس لیے قابلِ پیمائش سوالات یہ ہونے چاہئیں کہ کیا مقدمات پہلے سے زیادہ تیزی سے نمٹائے گئے؟ کیا انصاف تک رسائی سستی ہوئی؟ کیا عدالتیں زیادہ جواب دہ بنیں؟اور کیا شہریوں کو زیادہ قابلِ اعتماد انصاف مل سکا؟
نوٹ : تنویراحمد امریکا میں مقیم معروف پاکستانی کاروباری شخصیت اور سماجی خدمت گار ہیں۔ وہ ہلالِ امتیاز اور پرائیڈ آف پاکستان کے اعزازات کے بھی حامل ہیں

