کالج آف فزیشنز اینڈ سرجنز پاکستان (سی پی ایس پی) کی جانب سے عدالت میں جمع کرائے گئے تحریری مؤقف نے ڈاکٹروں سے طویل اوقات کار لینے کے ان کی صحت کے ساتھ ساتھ مریضوں کی حفاظت پر بھی سنگین اثرات کی نشاندہی کردی
اسلام آباد ہائیکورٹ نے پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کو ہدایت کی ہے کہ ڈاکٹروں سے ضرورت سے زیادہ کام لینے کے معاملے کا جائزہ لے کر اپنی سفارشات حکومت کے سامنے پیش کرے۔عدالت نے مشاہدہ کیا کہ ڈاکٹروں سے ہفتے میں 102 گھنٹے تک کام لینا غیر انسانی عمل ہے۔
اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس راجہ انعام امین منہاس نے منگل کو ڈاکٹروں کے اوقات کار سے متعلق درخواست کی تفصیلی سماعت کی۔فریقین کی رضامندی سے عدالت نے درخواست کو پی ایم ڈی سی کے سامنے نمائندگی میں تبدیل کرتے ہوئے کونسل کو ہدایت کی کہ وہ معاملے کا فیصلہ کرے اور اپنی سفارشات وفاقی و صوبائی حکومتوں کے سامنے مناسب کارروائی کے لیے پیش کرے۔
یہ معاملہ اس لیے بھی اہمیت اختیار کر گیا ہے کہ کالج آف فزیشنز اینڈ سرجنز پاکستان (سی پی ایس پی) کی جانب سے عدالت میں جمع کرائے گئے تحریری مؤقف میں ڈاکٹروں سے طویل اوقات کار لینے کے ان کی صحت کے ساتھ ساتھ مریضوں کی حفاظت پر بھی سنگین اثرات کی نشاندہی کی گئی ہے۔
سی پی ایس پی کے مطابق تقریباً 18 گھنٹے کام کرنے کے بعد ڈاکٹروں میں نفسیاتی و حرکی صلاحیتوں میں ایسی خرابی پیدا ہونا شروع ہوجاتی ہے جو خون میں الکوحل کی مقدار 0.05 فیصد ہونے کے برابر قرار دی گئی ہے۔ 24 گھنٹے مسلسل ڈیوٹی کے بعد یہ خرابی خون میں الکوحل کی مقدار 0.1 فیصد ہونے کے مساوی بتائی گئی ہے۔
دستاویز میں سوال اٹھایا گیا ہے کہ ایسے تھکے ہوئے ڈاکٹر سے اتنے طویل اوقات ڈیوٹی کے بعد اہم طبی فیصلے کرنے یا پیچیدہ طبی طریقہ کار انجام دینے کی توقع کس حد تک محفوظ ہوسکتی ہے۔
سی پی ایس پی کے تحریری مؤقف کے مطابق تھکے ہوئے ڈاکٹر تازہ دم، چوکنا اور مناسب نگرانی میں کام کرنے والے ڈاکٹروں کے مقابلے میں زیادہ غلطیاں کرتے ہیں۔دستاویز میں کہا گیا ہے کہ اس صورتحال میں مقصد کام کے اوقات کو اس سطح تک محدود کرنا ہونا چاہیے جہاں طبی عملے کو صحت مند زندگی اور کام کے درمیان توازن حاصل ہو اور مریضوں کو محفوظ طبی سہولیات فراہم کی جاسکیں۔
ڈان کی رپورٹ کے مطابق ڈاکٹروں کے اوقات کار سے متعلق بین الاقوامی طریقہ کار کا حوالہ دیتے ہوئے سی پی ایس پی نے بتایا کہ یورپی ورکنگ ٹائم ڈائریکٹو کے تحت ہفتہ وار اوسط کام کی زیادہ سے زیادہ حد 48 گھنٹے مقرر ہے، جبکہ روزانہ کم از کم 11 مسلسل گھنٹے آرام اور ہفتہ وار آرام کی کم از کم مدت بھی مقرر کی گئی ہے۔
امریکا میں ڈاکٹروں کے لیے ہفتے میں زیادہ سے زیادہ 80 گھنٹے ڈیوٹی کی حد مقرر ہے، جس کا حساب چار ہفتوں کی اوسط بنیاد پر کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ ہر سات دن میں کم از کم ایک دن مریضوں کی دیکھ بھال کی ذمہ داریوں سے آزاد رکھنے اور مسلسل ڈیوٹی کے دورانیے کو محدود کرنے کی بھی شرائط موجود ہیں۔
سی پی ایس پی کی دستاویز کے مطابق بھارت میں سپریم کورٹ کی ہدایات کے بعد جونیئر ڈاکٹروں کے لیے عموماً ہفتے میں 48 گھنٹے کام اور ایک مرتبہ میں 12 گھنٹے سے زیادہ ڈیوٹی نہ لینے کی ہدایات دی گئی ہیں۔
ایران میں ایرانی کونسل فار گریجویٹ میڈیکل ایجوکیشن نے ڈاکٹروں کے لیے ہفتے میں کم از کم 50 گھنٹے کام کی حد مقرر کی ہے، جبکہ رات کی ڈیوٹی کے حوالے سے بھی پابندیاں عائد ہیں۔
سی پی ایس پی نے خود بھی سفارش کی ہے کہ کلینیکل شعبوں کے ریزیڈنسی پروگرامز میں ہفتے میں کم از کم 48 گھنٹے ڈیوٹی رکھی جائے، تاہم ہنگامی ڈیوٹی اور اتوار کی آن کال ڈیوٹی اس میں شامل نہیں ہوگی۔
ادارے کے مطابق کسی ٹرینی ڈاکٹر سے ایک ہفتے میں 12، 12 گھنٹے کی دو سے زیادہ رات یا ہنگامی ڈیوٹیاں نہیں لی جانی چاہئیں۔ اسی طرح ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ میں تعینات ٹرینی ڈاکٹروں کی شفٹ 12 گھنٹے سے زیادہ نہیں ہونی چاہیے۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ سی پی ایس پی نے عدالت میں اپنے پیرا وار جواب میں وضاحت کی کہ وہ ڈاکٹروں کو ملازمت فراہم نہیں کرتا، اس لیے ڈاکٹروں کے اوقات کار مقرر کرنا بھی اس کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا۔ ڈاکٹروں کے اوقات کار متعلقہ صوبائی حکومتوں یا نجی اداروں کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں۔سی پی ایس پی کا کردار تسلیم شدہ اداروں میں چلنے والے تربیتی پروگرامز تک محدود ہے۔
دستاویز میں مزید کہا گیا ہے کہ مختلف اداروں میں ڈاکٹروں کے حقیقی اوقات کار، کام کے حالات اور نوجوان ڈاکٹروں کو دستیاب نگرانی کی سطح میں نمایاں فرق پایا جاتا ہے۔
سی پی ایس پی نے نشاندہی کی کہ اگر ریزیڈنٹ ڈاکٹروں کے اوقات کار کم کیے جاتے ہیں تو صحت کے مراکز کو کام کا بوجھ پورا کرنے کے لیے اضافی ڈاکٹروں کا انتظام کرنا ہوگا۔دستاویز میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ تھکن کا تعلق صرف کام کے گھنٹوں کی تعداد سے نہیں بلکہ کام کے ماحول سے بھی ہوتا ہے۔ سی پی ایس پی کے مطابق شدید گرمی، ایئرکنڈیشنر کے بغیر کام کرنے کی جگہیں اور دیگر ماحولیاتی عوامل ڈاکٹروں میں جسمانی اور ذہنی تھکن کو مزید بڑھا سکتے ہیں۔
اسلام آباد ہائیکورٹ نے پی ایم ڈی سی کو ہدایت کی ہے کہ وہ ڈاکٹروں کے اوقات کار سے متعلق نمائندگی پر فیصلہ کرتے ہوئے اپنی سفارشات وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے سامنے پیش کرے تاکہ اس معاملے پر مناسب کارروائی کی جاسکے


