بھارتی ریاست اترپردیش کے شہر کانپور میں 60 سالہ فارما کاروباری شخصیت وِنیت منوچا کے قتل کیس میں سنسنی خیز انکشافات سامنے آئے ہیں۔ پولیس کے مطابق مقتول کے اپنے بیٹے سبرت منوچا نے مبینہ طور پر 3 ماہ تک قتل کی منصوبہ بندی کی اور واردات کے بعد اپنی اہلیہ شالو کو بھی کیس میں پھنسانے کی کوشش کی۔
وِنیت منوچا اپنے بیٹے کے ساتھ کانپور کے برہانا روڈ پر فارماسیوٹیکل کاروبار چلاتے تھے۔ انہیں 5 ستمبر کو کلیان پور کے رتن آربٹ اپارٹمنٹ میں چاقو کے وار کرکے قتل کردیا گیا تھا۔ پولیس کو ان کی گلا کٹی لاش فلیٹ سے ملی تھی۔
قتل کو دل کا دورہ قرار دینے کا تھا منصوبہ
پولیس تحقیقات کے مطابق سبرت نے ابتدا میں ایسا منصوبہ بنایا تھا کہ والد کی موت قتل کے بجائے دل کا دورہ پڑنے سے ہوئی محسوس ہو۔
اس مقصد کے لیے اس نے اپنے والد کے سابق ملازم وشال اور ساتھی راج کشور کو مبینہ طور پر قتل کے لیے تیار کیا۔ منصوبے کے مطابق دونوں افراد وِنیت کا منہ تکیے سے دبا کر دم گھونت دیتے اور بعد میں موت کو دل کا دورہ قرار دیا جاتا۔
تاہم واردات کے وقت صورتحال اچانک بدل گئی۔ وِنیت نے مبینہ حملہ آوروں کو اپنے فلیٹ میں چھپا ہوا دیکھ لیا اور شور مچا دیا۔ اس کے بعد مزاحمت اور ہاتھا پائی ہوئی، جس دوران وشال نے چاقو سے وار کرکے وِنیت کو قتل کردیا۔
پولیس کے مطابق قتل کے وقت سبرت، اس کی اہلیہ شالو اور ان کا بیٹا ایک تقریب میں موجود تھے۔
جائیداد کسی اور خاتون کو ملنے کا خدشہ
پولیس نے بتایا کہ سبرت کو مبینہ طور پر خدشہ تھا کہ اس کے والد کے مختلف خواتین سے تعلقات ہیں اور وہ اپنی جائیداد کسی دوسری خاتون کے نام منتقل کرسکتے ہیں۔ اسی خوف نے مبینہ طور پر اسے والد کے قتل کی سازش پر آمادہ کیا۔
تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا کہ سبرت مالی مشکلات اور قرضوں میں گھرا ہوا تھا۔ والد کی جانب سے اسے ہر ماہ 40 ہزار بھارتی روپے خرچ کے لیے ملتے تھے، جنہیں وہ اپنی ضروریات کے لیے ناکافی سمجھتا تھا۔
رپورٹ کے مطابق سبرت کو مختلف قرضوں کی مد میں ہر ماہ تقریباً 55 ہزار بھارتی روپے ادا کرنے پڑتے تھے، جبکہ بینکوں سے لیے گئے قرضوں اور دیگر واجبات سمیت اس کا مجموعی قرض تقریباً 40 لاکھ بھارتی روپے تک پہنچ چکا تھا۔
بہو کو گرفتار کرایا، پھر کہانی نے نیا رخ اختیار کرلیا
وِنیت منوچا کے قتل کے اگلے ہی روز پولیس نے ان کی بہو شالو منوچا اور مبینہ اجرتی قاتلوں وشال اور راج کشور کو گرفتار کرلیا تھا۔
تاہم تقریباً 19 روز بعد تفتیش میں اس وقت بڑا موڑ آیا جب پولیس کو سبرت کے کردار پر شبہ ہوا۔ پولیس نے شالو اور وشال کو کلیان پور پولیس اسٹیشن میں سبرت کے سامنے بٹھا کر پوچھ گچھ کی۔
پولیس کے مطابق دورانِ تفتیش وشال نے انکشاف کیا کہ اسے قتل کے لیے سبرت نے ہی مبینہ طور پر رکھا تھا اور واردات کے بعد شالو کا نام لینے کی ہدایت بھی سبرت نے دی تھی۔
پولیس کا کہنا ہے کہ سبرت نے مبینہ طور پر اپنے جرم کا اعتراف بھی کرلیا ہے۔
یوں ابتدائی طور پر جس کیس میں مقتول کی بہو کو گرفتار کیا گیا تھا، تفتیش آگے بڑھنے پر اصل سازش کا رخ مقتول کے اپنے بیٹے کی جانب ہوگیا۔
رپورٹ: ہندوستان ٹائمز
