سمیرا سلیم کا بلاگ
حکومت نے جن کے استقبال کی تیاری اسلام آباد کے باسیوں کو قید کر کے کر رکھی تھی، سب داخلی راستے خاردار کنٹینرز اور دھاتی کیلیں ٹھونک کر بند کر رکھے تھے، انہوں نے اپنے آنے کا ارادہ ہی بدل دیا ہے۔
پی ٹی آئی نے لانگ مارچ موخر کر کے ایک نئی تاریخ دے دی ہے، جس کی توقع پہلے ہی کی جا رہی تھی۔ تحریک انصاف کی یہ حکمت عملی کیا گل کھلاتی ہے، وہ تو آنے والے دنوں میں عیاں ہو جائے گا۔
پسِ پردہ اگر کوئی بات چیت یا مذاکرات اور ڈیل بھی ہو رہی ہے تو آئندہ چند دنوں میں اڈیالہ میں ہونے والی ہلچل سے معلوم پڑ جائے گا۔
مگر ابھی تو حکومت کو ایک جھٹکا لگا ہے کہ ایک ہفتہ اور اس اذیت میں گزارنا پڑے گا کہ انصافیوں کے لانگ مارچ کے ساتھ کیسے نمٹنا ہے۔
حکومت پی ٹی آئی کو سبق سکھانا چاہتی تھی، لیکن شرارتی پی ٹی آئی نے حکومت سے ہی پرینک کر دیا۔
وہ حکومت جو لانگ مارچ روکنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہی تھی، اب موخر ہونے پر چیخ اٹھی ہے۔ وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے پی ٹی آئی کو بزدلی کا طعنہ دے دیا۔ ان سے پوچھنا یہ تھا کہ اگر حکومت اتنی بہادر تھی تو کس خوشی میں اسلام آباد کو کنٹینرز لگا کر بدصورت بنایا گیا ہے؟
کہا جا رہا ہے کہ دارالحکومت کو قلعہ بند کرنے کے لیے لائے گئے 1550 کنٹینرز کا روزانہ کا کرایہ تقریباً چار کروڑ 65 لاکھ روپے حکومتی خزانے سے ادا کرنا ہوگا۔ اس کے علاوہ دوسرے صوبوں سے بلائی گئی ہزاروں کی نفری کے کھانے پینے اور رہائش کے لیے کروڑوں روپے کے اخراجات الگ ہیں۔
خیبرپختونخوا کو جانے والے سب راستے خود ہی بند کر کے حکومت نے جس طرح معیشت کو جام کرنے کی کوشش کی ہے، شاید وزیر خزانہ نے اسی طرف اشارہ کیا ہے کہ یومیہ ملک کو 120 ارب کا ٹیکا لگایا جا رہا ہے؟
حکومت اتنی بہادر تھی تو آنے دیتی ان سب کو۔
اگرچہ حکومت 27 ستمبر کا لانگ مارچ فول پروف انتظامات اور راستے بند کر کے روکنے میں وقتی طور پر کامیاب ہو چکی ہے، لیکن حکومت کی سب سے بڑی ناکامی ایک احتجاج سے ڈر کر عوام کو پہنچنے والی دشواری اور قومی خزانے کا اندھا دھند استعمال ہے۔
پی ٹی آئی کی بھی بظاہر حکمتِ عملی یہی نظر آ رہی ہے کہ ان کو احتجاج کی تاریخوں پر تاریخیں دے کر تھکایا جائے۔ آخر کب تک دارالحکومت کو بند رکھا جا سکتا ہے؟ اشیائے خوردونوش سمیت دیگر ساز و سامان کی امپورٹ اور ایکسپورٹ کے لیے استعمال ہونے والے کنٹینرز کو حکومت کتنا عرصہ پہاڑ کی مانند کھڑا رکھ پائے گی؟
سہیل آفریدی پر اگرچہ تنقید کی جا سکتی ہے کہ وہ علی امین گنڈاپور کی طرح دی گئی تاریخ پر مارچ شروع نہیں کر سکے۔ تاہم بہت سارے لوگوں کے نزدیک سہیل آفریدی کی حکمتِ عملی علی امین سے بہتر لگ رہی ہے۔ احتجاجی ریلی لا کر اور بیچ چوراہے چھوڑ کر بھاگ جانے سے بہتر ہے کہ ایسی حکمتِ عملی اپنائی جائے جس سے حکومت پر مسلسل ایک پریشر رکھا جائے۔
ان کا کام فیصلہ سازوں نے خود ہی آسان کر دیا۔ حکومت نے جس طرح خندقیں کھود کر اور اسلام آباد کو کنٹینر سٹی بنا کر خوف زدہ ہونے کا مظاہرہ کیا ہے، وہ تحریکِ انصاف کے احتجاج کیے بغیر ہی بڑی کامیابی ہے۔
حکومت کی حالت اس وقت گاؤں میں رہنے والے ان باسیوں جیسی ہے جنہیں بھیڑ بکریوں کا ریوڑ چرانے والے ایک شرارتی بچے نے کہا کہ ’’شیر آ گیا، شیر آ گیا۔‘‘ گاؤں والے لٹھ لے کر اسے مارنے پہنچے تو بچے نے کہا کہ میں تو مذاق کر رہا تھا۔ گاؤں والوں کو بہت غصہ آیا اور شرارتی منڈے کو برا بھلا کہہ کر لوٹ آئے۔
اگلے روز اس نے پھر گاؤں والوں کو پکارا کہ ’’شیر آیا، شیر آیا۔‘‘ گاؤں والے پھر دوڑے، مگر وہاں کچھ نہ تھا۔ شرارتی منڈا کھڑا ان کی حالت پر ہنس رہا تھا۔ اس بار گاؤں والوں نے تہیہ کر لیا کہ آئندہ اس کی بات پر یقین نہیں کرنا۔
تیسرے دن حقیقت میں شیر آ گیا اور وہ شرارتی منڈا زور زور سے چلایا کہ ’’لوگو! شیر آ گیا، شیر آ گیا۔‘‘ مگر اس بار کسی نے کان نہ دھرے اور انجام وہی ہوا جس کا ڈر تھا۔
حکومت کی حالت بھی کچھ ایسی ہی ہے، جنہیں سمجھ نہیں آ رہی کہ وہ اس شرارتی منڈے کی بات پر یقین کریں یا نہ کریں۔
اب جہاں تک عمران خان کی رہائی کا معاملہ ہے تو سب جانتے ہیں کہ یہ معاملہ محض احتجاج سے حل نہیں ہونا۔ احتجاج تحریکِ انصاف کے پاس دباؤ بڑھانے کا صرف ایک ذریعہ ہے۔ ان کے پاس کوئی ٹینک توپیں تو ہیں نہیں کہ وہ اپنے لیڈر کو جیل کی دیواریں توڑ کر ساتھ لے جائیں گے۔
سہیل آفریدی اس وقت ٹیسٹ میچ کھیلنے کے موڈ میں ہیں۔ ان کے ارادے یہی ہیں کہ لانگ مارچ کی تاریخیں دے کر حکومت کو مسلسل اس دباؤ میں رکھا جائے۔ حکومت اسی گومگو میں رہے کہ شاہراہوں کو کھولا جائے اور اسلام آباد کی حصار بندی کو ختم کیا جائے یا نہیں، جس پر کروڑوں روپے یومیہ عوام کے ٹیکس کے پیسوں سے خرچ ہو رہے ہیں۔
دیکھتے ہیں کہ ایک نوجوان سیاست دان سہیل آفریدی کی فیصلہ سازی انہیں اپنے مقصد میں کامیابی دلاتی ہے یا نہیں، جہاں ماضی میں ان سے زیادہ تجربہ کار لوگ ناکام ہوئے تھے۔
