ٹینیسی میں کرسٹا گیل پائیک کو 18 سال کی عمر میں کیے گئے قتل کے جرم میں دی جانے والی سزائے موت پر عمل درآمد بدھ کو شروع ہونے سے تقریباً ایک گھنٹہ قبل روک دیا گیا۔
وفاقی اپیل عدالت نے پائیک کی جانب سے بچپن میں جنسی زیادتی اور ریپ کا نشانہ بننے کے الزامات کا جائزہ لینے کا فیصلہ کیا ہے کہ آیا سزا سناتے وقت ان حالات کو مکمل طور پر مدنظر رکھا گیا تھا یا نہیں۔
اب 50 سالہ کرسٹا پائیک اور اس کے بوائے فرینڈ کو 1995 میں 19 سالہ کولیئن سلیمر کے قتل کا مجرم قرار دیا گیا تھا۔ دونوں ناکس وِل کے ایک پیشہ ورانہ تربیتی ادارے میں ساتھی تھے۔ پائیک کم از کم 200 سال میں ٹینیسی میں پھانسی پانے والی پہلی خاتون بننے والی تھی۔
امریکی اپیل کورٹ برائے چھٹے سرکٹ نے 2-1 کی اکثریت سے پھانسی پر حکمِ امتناع جاری کیا۔ اس وقت نیش وِل کی ریور بینڈ میکسیمم سیکیورٹی انسٹی ٹیوشن میں پھانسی کے گواہ اور دیگر افراد موجود تھے۔
ٹینیسی کے اٹارنی جنرل نے فوری طور پر اس حکم کے خلاف امریکی سپریم کورٹ سے رجوع کیا۔ گواہ اور میڈیا کے نمائندے جیل میں موجود رہے تاکہ اگر سپریم کورٹ پھانسی کی اجازت دے تو کارروائی آگے بڑھائی جا سکے۔
یہ مقدمہ اس لیے بھی خاصی توجہ کا مرکز رہا کہ مقتولہ کے جسم پر پینٹا گرام یعنی ستارے کی شکل کا نشان کندہ کیا گیا تھا۔ قتل کے دیگر پہلوؤں نے 1980 اور 1990 کی دہائی میں پھیلنے والے نام نہاد ’’شیطانی عبادت‘‘ کے خوف کو مزید ہوا دی تھی۔
نوعمر ملزمان کو سزائے موت دینے پر بحث دوبارہ شروع
پائیک کی پھانسی کی تاریخ قریب آنے کے ساتھ ہی کم عمری میں کیے گئے قتل پر سزائے موت کے معاملے پر ایک بار پھر بحث شروع ہوگئی۔
پائیک نے قتل کرنے سے انکار نہیں کیا، تاہم اس کے حامیوں کا کہنا ہے کہ سزا سناتے وقت اس کی عمر، ذہنی بیماری اور شدید جنسی زیادتیوں کی تاریخ کو مدنظر رکھا جانا چاہیے تھا۔ ان کے مطابق پائیک کو بچپن سے ہی جنسی زیادتی کا سامنا رہا، حتیٰ کہ اس کا کہنا ہے کہ وہ شیر خوار عمر سے ہی ریپ کا شکار ہوتی رہی۔
اس کے وکیل اسٹیفن فیرل نے کہا کہ پائیک کی سزائے موت غیر معمولی ہے کیونکہ ٹینیسی میں 18 سال کی عمر میں جرائم کرنے والے دیگر افراد کی ایسی سزائیں ختم کی جا چکی ہیں۔
قتل کے بعد پائیک میں بائی پولر ڈس آرڈر اور پوسٹ ٹرامیٹک اسٹریس ڈس آرڈر (PTSD) کی تشخیص ہوئی۔
معافی کی درخواست میں پائیک نے کہا کہ وہ صرف سلیمر سے لڑنا چاہتی تھی، تاہم جب وہ خود پر قابو نہ رکھ سکی تو حملہ شدت اختیار کرگیا اور اس کے نتیجے میں سلیمر کی جان چلی گئی۔
پائیک نے اپنے بیان میں کہا، ’’میں ذہنی طور پر بیمار 18 سالہ لڑکی تھی۔ مجھے یہ سمجھنے میں کئی سال لگے کہ میں نے کیا کیا اور اس کے کتنے لوگوں کی زندگیاں متاثر ہوئیں۔ میں نے کسی کی بیٹی، بہن اور دوست کی جان لی، اور اب یہ سوچ کر مجھے شدید تکلیف ہوتی ہے کہ میں ایسا جرم کرنے کی صلاحیت رکھتی تھی۔‘‘
مقتولہ کی والدہ سزائے موت پر عمل درآمد کی منتظر
سلیمر کی والدہ چاہتی ہیں کہ پائیک کو مہلک انجیکشن کے ذریعے دی جانے والی سزائے موت پر عمل درآمد کیا جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ کئی دہائیوں سے اپنی بیٹی کے قاتل کو سزا ملنے کا انتظار کر رہی ہیں۔
مے مارٹینیز نے ایسوسی ایٹڈ پریس سے گفتگو میں کہا، ’’جب بھی میں اس بارے میں سوچتی ہوں تو مجھے کولیئن کا درد یاد آتا ہے، وہ اٹھنے اور بھاگنے کی کوشش کر رہی تھی۔‘‘
انہوں نے بتایا کہ ایک گروپ نے رقم جمع کرنے میں مدد کی تاکہ وہ اور ان کے شوہر فلوریڈا سے سفر کرکے پائیک کی پھانسی دیکھ سکیں۔
مقتولہ کی والدہ کا کہنا تھا کہ پائیک کی قسمت کا فیصلہ کرتے وقت ان کی بیٹی کی عمر کو بھی مدنظر رکھنا چاہیے۔
انہوں نے کہا، ’’ایسا کوئی دن یا لمحہ نہیں گزرتا جب میں کولیئن کے بارے میں نہ سوچوں۔ تعطیلات کے دن سب سے زیادہ مشکل ہوتے ہیں۔‘‘ ان کی بیٹی رواں ستمبر میں 51 سال کی ہوجاتی۔
اس قتل نے ناکس وِل شہر کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ استغاثہ کے مطابق پائیک کو خدشہ تھا کہ سلیمر اس کے بوائے فرینڈ کو اس سے چھیننے کی کوشش کر رہی ہے، چنانچہ 12 جنوری 1995 کو وہ اسے ایک جنگلاتی علاقے میں لے گئی۔
پائیک نے سلیمر کو باکس کٹر سے زخمی کیا اور اس کے سر پر اسفالٹ کا ایک بڑا ٹکڑا مارا۔ پائیک کے بوائے فرینڈ شِپ نے اعتراف کیا تھا کہ اس نے مقتولہ کے جسم پر شیطان سے منسوب ستارے کی شکل کا پینٹا گرام کندہ کیا تھا۔
جرم کے وقت شِپ کی عمر 17 سال تھی اور اسے عمر قید کی سزا سنائی گئی، جس میں پیرول کی گنجائش موجود تھی۔ پائیک واحد ملزم تھی جسے سزائے موت سنائی گئی۔
امریکا میں خواتین کو پھانسی دینا انتہائی نایاب
ڈیتھ پینلٹی انفارمیشن سینٹر کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر رابن ایم مہر کے مطابق ٹینیسی میں کم از کم گزشتہ 200 سال سے کسی خاتون کو پھانسی نہیں دی گئی۔ تاہم پرانے ریکارڈ مکمل نہ ہونے کے باعث یہ حتمی طور پر بتانا مشکل ہے کہ وہاں آخری بار کسی خاتون کو کب سزائے موت دی گئی۔
امریکا بھر میں بھی خواتین کو پھانسی دینا انتہائی نایاب ہے۔ مرکز کے مطابق 1976 سے اب تک امریکا میں 18 خواتین کو سزائے موت دی گئی، جو مجموعی پھانسیوں کا تقریباً 1 فیصد ہیں۔
حالیہ ترین مثال 2023 میں میسوری میں امبر میک لافلن کی پھانسی ہے، جسے 2003 میں کیے گئے قتل کے جرم میں سزا دی گئی تھی۔ اسے امریکا میں کسی ٹرانس جینڈر خاتون کی پہلی پھانسی قرار دیا جاتا ہے۔

