واشنگٹن: امریکی محکمہ خارجہ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے منصب سنبھالنے کے بعد سے 2 لاکھ 50 ہزار سے زائد ویزے منسوخ کر دیے ہیں،امریکی انتظامیہ کی جانب سے غیر قانونی امیگریشن کے خلاف کارروائیوں اورامریکا آنے والے غیر ملکیوں کی جانچ پڑتال کا عمل مزید سخت کیا جا رہا ہے،امریکی محکمہ خارجہ کے ایک عہدیدار نے ’فاکس نیوز ڈیجیٹل‘ کو بتایا کہ ویزے مختلف خلاف ورزیوں کی بنیاد پر منسوخ کیے گئے۔ان میں ویزا شرائط کی خلاف ورزی، جرائم میں ملوث ہونا،امریکا یا امریکی شہریوں کے خلاف تشدد کی حمایت یا اس کی اپیل کرنا، امریکی شہریوں کو دھوکا دینا، امیگریشن نظام کا غلط استعمال اور قومی سلامتی کو خطرے میں ڈالنا شامل ہے۔
منسوخ کیے جانے والے ویزوں میں 2 ہزار 300 ویزے ایسے افراد کے تھے جو ’برتھ ٹورازم‘ میں ملوث تھے۔اس اصطلاح سے مراد غیر ملکی حاملہ خواتین کا خصوصی طور پر امریکا کا سفر کرنا ہے تاکہ وہاں بچے کو جنم دیا جائےاور اسے امریکی شہریت حاصل ہو جائے۔
امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان ٹومی پیگوٹ نے کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور وزیر خارجہ مارکو روبیو کی قیادت میں محکمہ خارجہ اب تک 2 لاکھ 50 ہزار سے زائد ویزے منسوخ کر چکا ہے جو ایک اہم سنگ میل ہے اور امریکی عوام کے تحفظ کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہر ویزے سے متعلق فیصلہ قومی سلامتی سے جڑا ہوتا ہے۔مسلسل اور بڑے پیمانے پر جانچ پڑتال کے ذریعے ایسے افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے جو جرائم میں ملوث ہیں،دہشت گردی کی حمایت کرتے ہیں، امریکی شہریوں کو دھوکا دیتے ہیں یا امریکی امیگریشن نظام کا غلط استعمال کرتے ہیں۔
ترجمان کے مطابق امریکی ویزا کوئی حق نہیں بلکہ ایک اجازت اورسہولت ہے اور اگر کوئی شخص اس کی شرائط کی خلاف ورزی کرے گا تو اس کا ویزا منسوخ کر دیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ امریکی معاشروں کی سلامتی کے لیے خطرہ بننے والے ہر غیر ملکی کو قانون کے مطابق جوابدہ بنانے تک کارروائیاں جاری رہیں گی۔
پیر کے روز بھی امریکی محکمہ خارجہ نے بدعنوانی کے الزامات کے تحت 27 لاطینی امریکی حکام، سابق حکام اور ان کے اہل خانہ کے ویزے منسوخ کیے،ان افراد کا تعلق بولیویا، کولمبیا، ایکواڈور اور پیرو سے ہے۔
دوسری جانب،موسم گرما کے دوران ٹرمپ انتظامیہ نے ایسے تقریباً 2 لاکھ غیر ملکیوں کے کاروباری اور سیاحتی ویزے منسوخ کرنے کی تیاری شروع کی تھی جنہوں نے امریکا میں پناہ کی درخواستیں دی تھیں۔اس کارروائی کا ہدف 2016 سے 2026 کے دوران جاری کیے گئے B1 اور B2 ویزے تھے، جن کے حامل غیر ملکیوں نے بعد میں امریکا میں پناہ کی درخواست دی۔
اس وقت امریکی نائب وزیر خارجہ کرسٹوفر لینڈو نے کہا تھا کہ امریکی شہری ’جعلی پناہ کی درخواستوں‘ سے تنگ آ چکے ہیں۔انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا تھا کہ پناہ کا نظام امیگریشن قوانین سے بچنے کا راستہ نہیں ہونا چاہیے بلکہ یہ ان افراد کے لیے محدود تحفظ فراہم کرنے کا ذریعہ ہے جنہیں نسل، مذہب، قومیت، کسی مخصوص سماجی گروہ سے تعلق یا سیاسی نظریے کی بنیاد پر ظلم و ستم کا سامنا ہو۔
انہوں نے مزید کہا تھا کہ غیر سنجیدہ اور بے بنیاد درخواستوں کی بڑی تعداد نے نظام پر بوجھ ڈال دیا ہے اور بعض درخواستوں پر یہ فیصلہ کرنے میں کئی سال لگ سکتے ہیں کہ آیا متعلقہ شخص امریکا میں پناہ کا حقدار ہے یا نہیں۔امریکی محکمہ خارجہ نے اگست میں بھی ایک لاکھ 75 ہزار سے زائد ویزے منسوخ کیے تھے۔محکمہ خارجہ کے مطابق ان میں زیادہ تر ویزے مختلف جرائم کے سلسلے میں قانون نافذ کرنے والے اداروں سے سابقہ پڑنے کی بنیاد پر منسوخ کیے گئے،ان جرائم میں تشدد، نشے کی حالت میں گاڑی چلانا، چوری اور منشیات سے متعلق جرائم نمایاں تھے۔
امریکی حکام کے مطابق بڑی تعداد میں ویزے خطرناک ڈرائیونگ، جنسی حملوں، بچوں سے بدسلوکی، فراڈ، خوردبرد اور دیگر جرائم میں ملوث ہونے کی بنیاد پر بھی منسوخ کیے گئے۔
رپورٹ : زاہد بلوچ
