امریکی ریاست ٹیکساس کے شہر ہیوسٹن میں ایک 35 سالہ خاتون نے اپنی 4 سالہ بیٹی کو گولی مار کر قتل کرنے کے بعد خود کو بھی گولی مار لی۔ خاتون ایک روز بعد ہسپتال میں دم توڑ گئیں۔
یہ واقعہ اس عدالتی سماعت کے چند گھنٹے بعد پیش آیا جس میں بچی کی تحویل اس کے والد کو دینے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔
ہیوسٹن پولیس کے مطابق سیبیل ساویلا کو اپنی بیٹی ویویئن ساویلا کو منگل کی شام اس کے والد ایرون ساویلا کے حوالے کرنا تھا، تاہم بچی اپنے والد کے گھر پہنچنے کے بجائے اپنی ماں کے ساتھ ہیوسٹن میں واقع گھر چلی گئی۔
پولیس کے لیفٹیننٹ لیری کراوسن کے مطابق، ’’آج ہی تحویل سے متعلق سماعت ہوئی تھی جو ماں کے لیے اچھی نہیں رہی۔ وہ گھر واپس آئی، اپنی 4 سالہ بیٹی کو گولی ماری اور پھر خود کو بھی گولی مار لی۔‘‘
سیبیل کو زخمی حالت میں ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں وہ اگلے روز دم توڑ گئیں۔
بچی کی تحویل پر طویل قانونی تنازع
ویویئن کی تحویل کے معاملے پر اس کے والدین کے درمیان کئی ماہ سے قانونی تنازع جاری تھا۔
رپورٹس کے مطابق سیبیل کا تعلق برازیل سے تھا اور انہوں نے نومبر 2024 میں تقریباً 4 سالہ ازدواجی زندگی کے بعد ایرون ساویلا سے طلاق لے لی تھی۔ طلاق کے بعد دونوں کے درمیان اپنی بیٹی کی تحویل کے معاملے پر قانونی جنگ جاری رہی۔
واقعے سے چند گھنٹے قبل ہونے والی سماعت میں جج نے ویویئن کی بنیادی تحویل اس کے والد ایرون کو دینے کا حکم دیا تھا۔
اس فیصلے کے تحت بچی کے رہنے کی جگہ، تعلیم اور طبی دیکھ بھال سے متعلق اہم فیصلے کرنے کا اختیار بھی والد کو حاصل ہوگیا تھا۔
دوسری جانب عدالتی فیصلے میں ماں کے لیے متعدد پابندیاں عائد کی گئی تھیں۔
رپورٹس کے مطابق سیبیل کو اپنی بیٹی سے پرتگالی زبان میں بات کرنے کی بھی اجازت صرف اس صورت میں تھی جب وہاں موجود نگران اس زبان کو سمجھتا ہو۔ انہیں بچی کی اسکول کی تقریبات اور غیر نصابی سرگرمیوں میں شرکت سے بھی روک دیا گیا تھا۔
اس کے علاوہ عدالت نے انہیں اپنے سابق شوہر کو بچوں کا خرچ ادا کرنے اور بچی کے ذاتی طبی اخراجات کا 50 فیصد برداشت کرنے کا بھی حکم دیا تھا۔
تاہم دستیاب معلومات میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ عدالت نے ماں سے بچی کی بنیادی تحویل کیوں واپس لی تھی یا اس پر اتنی سخت پابندیاں عائد کرنے کی مخصوص وجوہات کیا تھیں۔
’بچی کو اسی شام والد کے پاس پہنچنا تھا‘
ویویئن کے خاندان کے مطابق ایرون ساویلا نے عدالتی کارروائی کے دوران تمام قانونی احکامات پر عمل کیا اور عدالت کے فیصلے کا انتظار کیا۔
خاندان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ایرون نے ’’اپنے بچے کے تحفظ کے لیے ایک والد کی حیثیت سے قانون کے تمام تقاضے پورے کیے‘‘۔
بیان کے مطابق، ’’اسے عدالت پر اعتماد تھا۔ اس نے ہر حکم کی پیروی کی اور عدالتی عمل کے نتیجے کا انتظار کیا۔ منگل کو ایک جج نے ویویئن کو اس کی بنیادی تحویل میں دے دیا تھا اور اسے اسی شام اپنے والد کے گھر آنا تھا۔ لیکن وہ کبھی وہاں نہیں پہنچ سکی۔‘‘
خاندان نے ویویئن کو ایک ایسی بچی قرار دیا جس سے اس کے والد اور اس کی زندگی سے وابستہ ہر شخص ’’بے حد محبت‘‘ کرتا تھا۔
’28 سال میں ایسا واقعہ کبھی نہیں دیکھا‘
ایرون ساویلا کی وکیل شارلٹ رین واٹر نے واقعے پر گہرے صدمے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ خاندان اس سانحے سے ’’تباہ‘‘ ہوچکا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ گزشتہ 28 برس سے فیملی لا کی پریکٹس کر رہی ہیں، لیکن انہوں نے اس نوعیت کا واقعہ پہلے کبھی نہیں دیکھا۔
انہوں نے کہا، ’’مجھے نہیں لگتا کہ منگل کو عدالت میں موجود کسی شخص نے یہ تصور بھی کیا تھا کہ اس معاملے کا انجام ایسا ہوسکتا ہے۔‘‘
ویویئن کی موت نے نہ صرف اس خاندان کو شدید صدمے سے دوچار کیا بلکہ اس سوال کو بھی نمایاں کردیا ہے کہ عدالتی تحویل کے فیصلے اور بچے کی حوالگی کے درمیان موجود انتظامات کس حد تک مؤثر تھے۔
اس واقعے کے محرکات اور اس بات کی مکمل تفصیلات کہ بچی اپنی والدہ کے ساتھ گھر کیسے گئی، پولیس کی تحقیقات کا حصہ ہیں۔
ویویئن ساویلا صرف 4 برس کی تھی۔
