امریکی ریاست ٹینیسی میں سزائے موت کی قیدی کرسٹا پائیک، جنہیں گزشتہ ہفتے مہلک انجیکشن کے ذریعے موت کی سزا دینے کی 2 کوششوں کے باوجود زندہ بچا لیا گیا تھا، اب ہوش میں آگئی ہیں اور بات چیت کر رہی ہیں۔
پائیک کے وکلا کے مطابق 50 سالہ کرسٹا پائیک کو اب بھی اسپتال میں انتہائی نگہداشت فراہم کی جا رہی ہے اور انہیں ہاتھکڑی لگا کر رکھا گیا ہے۔
ان کے وکلا نے منگل کو جاری ایک بیان میں کہا کہ پائیک کی طبی حالت کے بارے میں ابھی حتمی طور پر کچھ کہنا ممکن نہیں، تاہم ان کی صحت یابی کا عمل طویل ہوسکتا ہے۔
یہ واقعہ اس لیے غیر معمولی قرار دیا جا رہا ہے کہ ماہرین کے مطابق کرسٹا پائیک ممکنہ طور پر پہلی ایسی شخص ہیں جن کے جسم میں مہلک انجیکشن کی دوا داخل ہونے کے باوجود وہ زندہ بچ گئی ہیں۔
دو مرتبہ مہلک انجیکشن دینے کی کوشش ناکام ہوئی
کرسٹا پائیک کو گزشتہ بدھ کو ٹینیسی میں سزائے موت دینے کا عمل شروع کیا گیا۔ انہیں مہلک کیمیکل پینٹوباربیٹل کی خوراک دی گئی، لیکن پھانسی کا عمل منصوبے کے مطابق مکمل نہ ہوسکا۔
مہلک انجیکشن کی 2 کوششوں کے بعد پائیک کو اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں وہ کئی روز تک بے ہوش رہیں۔
طبی عملے نے ان کے جسم میں داخل کیے گئے کیمیکل کے اثرات سے نمٹنے کے لیے علاج جاری رکھا۔ تاہم اب ان کے ہوش میں آنے اور بات کرنے کی اطلاع سامنے آئی ہے۔
پائیک کے وکیلوں کا کہنا ہے کہ ان کے بازوؤں کو شدید نقصان پہنچا ہے اور ان کی صحت یابی کے بارے میں ابھی بہت سے سوالات موجود ہیں۔
’یہ پہلے کبھی نہیں ہوا‘
فورڈہم لا اسکول کی ماہرِ جرائم اور پروفیسر ڈیبورا ڈینو نے کرسٹا پائیک کے ہوش میں آنے کو انتہائی غیر معمولی قرار دیا ہے۔
انہوں نے بی بی سی سے گفتگو میں کہا کہ وہ اس پیش رفت پر ’بالکل حیران‘ ہیں۔
ان کے مطابق ماضی میں امریکا میں 7 ایسے واقعات سامنے آئے ہیں جن میں قیدی پھانسی سے بچ گئے، لیکن ان تمام کیسز میں ایک اہم فرق موجود تھا۔
ڈینو کے مطابق ان واقعات میں پھانسی دینے والے اہلکار قیدیوں کی رگوں میں مہلک دوا داخل ہی نہیں کر سکے تھے۔
وہ کہتی ہیں کہ کرسٹا پائیک کا کیس اس لیے مختلف ہے کیونکہ ان کے جسم میں مہلک کیمیکل داخل کیا گیا تھا۔
ڈیبورا ڈینو کے مطابق:
’وہ واحد شخص ہیں جس کے جسم میں کسی قسم کا زہریلا مادہ داخل کیا گیا اور وہ اس کے باوجود زندہ بچ گئی۔‘
ان کا کہنا تھا کہ پھانسی کے عمل میں حکام نے وہ تمام اقدامات کیے جو ان کے مطابق کیے جانے تھے، لیکن اس کے باوجود عمل کامیاب نہیں ہوا۔
’ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا۔‘
دوا خون میں داخل ہونے کے بجائے جسم کے ٹشوز میں پھیل گئی؟
پائیک کی دفاعی ٹیم کو طبی مشاورت فراہم کرنے والے اینستھیزیولوجسٹ ڈاکٹر جوئل زیوٹ کے مطابق اس معاملے میں کئی سوالات اب بھی جواب طلب ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ یہ واضح نہیں کہ پینٹوباربیٹل کی کتنی مقدار پائیک کے خون میں شامل ہوئی اور انجیکشن کے بعد ان کے خون میں اس دوا کی سطح کیا تھی۔
زیوٹ کے مطابق پائیک کو دی جانے والی پینٹوباربیٹل کی 2 خوراکیں اس قدر زیادہ تھیں کہ اگر یہ دوا معمول کے مطابق خون میں شامل ہوجاتی تو ان کے زندہ بچنے کا امکان تقریباً نہ ہونے کے برابر تھا۔
ان کے مطابق ایک ممکنہ وضاحت یہ ہوسکتی ہے کہ دوا رگ کے ذریعے خون میں جانے کے بجائے جلد کے نیچے موجود بافتوں میں پھیل گئی۔
تاہم ڈاکٹر زیوٹ نے خبردار کیا ہے کہ پائیک کے ہوش میں آنے کا مطلب یہ نہیں کہ تمام خطرات ختم ہوگئے ہیں۔
انہوں نے کہا:
’میں اس مرحلے پر ہرگز یہ نہیں کہوں گا کہ تمام بڑے خطرات ان کے پیچھے رہ گئے ہیں۔‘
ان کے مطابق پائیک کی آئندہ صحت یابی کا عمل ابھی غیر یقینی ہے۔
پائیک کو سزائے موت کیوں سنائی گئی؟
کرسٹا پائیک کو 1995 میں 19 سالہ کولین سلیمر کے قتل کے جرم میں سزائے موت سنائی گئی تھی۔
اس وقت پائیک کی عمر صرف 18 سال تھی۔
استغاثہ کے مطابق پائیک نے اپنے اس وقت کے بوائے فرینڈ ٹاڈیرل شپ کے ساتھ مل کر کولین سلیمر کو تشدد کا نشانہ بنایا اور پھر قتل کردیا۔
پائیک اور سلیمر کی ملاقات مسائل سے دوچار نوجوانوں کے لیے قائم ایک تربیتی کیمپ میں ہوئی تھی۔
اس قتل کے بعد کرسٹا پائیک کو گرفتار کیا گیا اور مقدمے کے نتیجے میں انہیں سزائے موت سنائی گئی۔
وہ کئی دہائیوں سے ڈیتھ رو پر موجود تھیں۔
پائیک کی طبی حالت پہلے ہی ایک مسئلہ تھی
کرسٹا پائیک کے وکلا نے مہلک انجیکشن سے قبل عدالت میں ان کی طبی حالت کے حوالے سے خدشات بھی ظاہر کیے تھے۔
ان کے مطابق پائیک کو تھرمبوسائٹوسس نامی ایسی طبی کیفیت کا سامنا ہے جس میں خون میں پلیٹ لیٹس کی تعداد غیر معمولی طور پر بڑھ جاتی ہے اور خون جمنے کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔
وکلا نے یہ بھی مؤقف اختیار کیا تھا کہ پائیک کی رگیں نسبتاً چھوٹی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ان حالات کے باعث مہلک انجیکشن کے دوران انہیں غیر ضروری درد اور تکلیف کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
اب وکلا کے مطابق پائیک کے بازوؤں کو ’شدید نقصان‘ پہنچا ہے۔
کیا کرسٹا پائیک کو دوبارہ پھانسی دی جائے گی؟
یہ سوال اب سب سے اہم بن گیا ہے کہ کیا ریاست ٹینیسی کرسٹا پائیک کو دوبارہ سزائے موت دینے کی کوشش کرے گی۔
فی الحال حکام نے یہ نہیں بتایا کہ آئندہ کیا لائحہ عمل اختیار کیا جائے گا۔
ٹینیسی کے گورنر بل لی نے ریاست میں رواں سال کے اختتام تک تمام پھانسیوں کو معطل کردیا ہے۔
ریاست کے محکمہ جیل خانہ جات کے سربراہ نے بھی گزشتہ ہفتے کے اختتام پر اپنے عہدے سے استعفیٰ دینے کا اعلان کیا ہے۔
پائیک کے وکلا بدھ کو نیش وِل کی عدالت میں پیش ہوں گے اور عدالت کے باہر پریس کانفرنس بھی کریں گے۔
امریکا میں پھانسیوں کے طریقہ کار پر سوالات
کرسٹا پائیک کا معاملہ امریکا میں سزائے موت کے طریقہ کار اور خاص طور پر مہلک انجیکشن کی کامیابی اور شفافیت پر ایک بار پھر سوال اٹھا رہا ہے۔
ڈیتھ پینلٹی انفارمیشن سینٹر کے مطابق 2022 میں امریکا میں ہونے والی پھانسیوں میں ایک تہائی سے زیادہ ایسے واقعات تھے جنہیں ناکام یا سنگین مسائل سے دوچار قرار دیا گیا۔
مہلک انجیکشن کے معاملے میں سب سے عام مشکلات میں قیدی کی رگ میں قابلِ اعتماد طریقے سے IV لگانے میں ناکامی شامل رہی ہے۔
ایسے بیشتر واقعات میں مہلک دوا داخل کیے جانے سے پہلے ہی پھانسی کا عمل روکنا پڑا۔
رواں سال بھی ٹینیسی میں ایسا ہی ایک واقعہ پیش آیا تھا، جب ٹونی کارتھرز کو مہلک انجیکشن دینے کی کوشش اس لیے مؤخر کردی گئی کیونکہ عملہ ان کی رگ تلاش کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکا۔
کارتھرز کو 1994 میں 3 افراد کے اغوا اور قتل کے جرم میں سزا سنائی گئی تھی اور گورنر نے انہیں ایک سال کی مہلت دے دی تھی۔
لیکن کرسٹا پائیک کا معاملہ ان واقعات سے مختلف ہے۔
یہاں مسئلہ صرف یہ نہیں تھا کہ رگ تلاش نہیں کی جاسکی، بلکہ مہلک دوا جسم میں داخل کیے جانے کے باوجود پائیک زندہ رہیں۔
اسی وجہ سے ماہرین اس واقعے کو امریکا میں سزائے موت کی تاریخ کا ایک غیر معمولی اور بے مثال واقعہ قرار دے رہے ہیں۔
اب توجہ نیش وِل کی عدالت میں ہونے والی کارروائی اور اس سوال پر مرکوز ہے کہ پائیک کی آئندہ طبی حالت کیا رہتی ہے اور کیا ریاست ٹینیسی انہیں دوبارہ مہلک انجیکشن دینے کی کوشش کرے گی۔

