تحریر : تنویر احمد
بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) اپنی ایک جائزہ رپورٹ میں کہتا ہے کہ پاکستان کا سرکاری قرض ’’پائیدار‘‘ ہے۔ تاہم اسی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ درمیانی مدت میں خطرات بدستور ’’زیادہ‘‘ ہیں۔ دونوں باتیں درست ہیں اور مل کر یہ واضح کرتی ہیں کہ پاکستان جیسے ملک کا قرضوں کا تناسب دنیا کے بلند ترین تناسب میں شامل نہ ہونے کے باوجود اسے بار بار مالیاتی بحران سے نکلنے کے لیے آئی ایم ایف کے پاس کیوں جانا پڑتا ہے۔
قرض اور مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کے تناسب کو دیکھ کر جہاں عموماً زیادہ تر موازنوں کا آغاز اور اختتام ہوتا ہے، اس مسئلے کی مکمل وضاحت نہیں کی جاسکتی۔اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ قرض کس نے لیا، کس کرنسی میں لیا،اس کی لاگت کتنی تھی، اسے کس مقصد کے لیے استعمال کیا گیا اور کیا اس قرض سے معیشت کی ادائیگی کی صلاحیت میں اضافہ ہوا؟ اس پیمانے پر دیکھا جائے تو پاکستان کا بنیادی مسئلہ قرضوں کا حجم کم اور بار بار قرض لینے کی ضرورت زیادہ ہے۔
تعمیر کے لیے قرض، بقا کے لیے قرض
نتیجہ اخذ کرنے میں جلد بازی کے بجائے یہ حقیقت مدنظر رکھنی چاہیے کہ ریاستی قرض نہ تو لازماً تباہ کن ہوتا ہے اور نہ ہی ناکامی کی علامت،ہر جدید ملک نے اپنے مستقبل کی تعمیر کے لیے قرض لیا ہے۔ ریلوے، بندرگاہیں، بجلی کے نظام، جامعات اور پانی کی فراہمی کے نیٹ ورک ایسے اثاثے ہیں جن کے فوائد ان نسلوں تک پہنچتے ہیں جو ان کی تعمیر کے اخراجات ادا کرنے والی نسل کے بعد آتی ہیں۔
پاکستان نے بھی پیداواری صلاحیت بڑھانے والے بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کے لیے قرض لیا ہے اور اس حقیقت سے انکار کرنا درست نہیں ہوگا۔ تاہم، گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران صورت حال بدل گئی ہے۔ اب بیرونی مالی معاونت کی ضرورت بنیادی طور پر مستقبل کی پیداواری صلاحیت بڑھانے کے لیے نہیں رہ گئی، بلکہ موجودہ سرکاری مالیاتی نظام کو مستحکم رکھنے، ادائیگیوں کے توازن کا خسارہ پورا کرنے اور ماضی کی مالی ذمہ داریوں کو سنبھالنے کے لیے پیش آتی ہے۔
قرض اور جی ڈی پی کا تناسب گمراہ کن کیوں ہے؟
کوئی ریاست اپنے قرض کی ادائیگی مجموعی قومی پیداوار سے نہیں کرتی۔ قرض چکانے کے لیے سرکاری آمدن، برآمدات، زرمبادلہ اور قابلِ اعتماد شرائط پر نئے قرض حاصل کرنے کی صلاحیت درکار ہوتی ہے۔ دو ممالک کا قرض اور جی ڈی پی کا تناسب یکساں ہوسکتا ہے، لیکن ان کے معاشی نتائج بالکل مختلف ہوسکتے ہیں۔ایک ایسی معیشت جس کی پیداواری صلاحیت مضبوط ہو، محصولات کی بنیاد وسیع ہو، مقامی سرمایہ منڈی ترقی یافتہ ہو، بچت کی شرح بلند ہو، برآمدات متنوع ہوں، ادارے قابلِ اعتماد ہوں اور افرادی قوت ہنرمند ہو، وہ اتنا قرض بھی برداشت کرسکتی ہے جو کسی غریب ریاست کی معیشت کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دے۔
قرض کی کرنسی بھی اتنی ہی اہم ہے،اگر کسی ملک نے اپنی ہی کرنسی میں قرض لیا ہو تو اسے ادا کرنے کے لیے اس کے مرکزی بینک کے پاس نسبتاً زیادہ مالیاتی گنجائش ہوتی ہے لیکن اگر قرض ڈالر میں ہو تو ادائیگی بھی ڈالر میں کرنا ہوگی جس کے لیے ملک کو ڈالر کمانے یا مزید قرض لینے کی ضرورت پڑتی ہےیہی وہ مقام ہے جہاں پاکستان کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ آئی ایم ایف کی جانب سے قرض کو ’’پائیدار‘‘ قرار دینے کا مطلب صرف یہ ہے کہ فی الحال ملک قرض کی ادائیگیاں جاری رکھ سکتا ہے۔ اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ مالی صورت حال اطمینان بخش ہے۔
پاکستان کے قرض اور اس کی پیداواری صلاحیت میں فرق
پاکستان کا اصل بحران اس کے واجب الادا قرضوں اور ملکی پیداواری صلاحیت کے درمیان بڑھتے ہوئے فرق میں پوشیدہ ہے۔ٹیکس نیٹ محدود ہے، 24 کروڑ آبادی والے ملک کی ضروریات کے مقابلے میں برآمدات ناکافی ہیں، انسانی ترقی کے اشاریے کمزور ہیں اور کئی برسوں سے سرمایہ کاری اور پیداواری صلاحیت میں خاطر خواہ اضافہ نہیں ہوسکا۔
عالمی بینک بھی نشاندہی کرچکا ہے کہ پاکستان کی معیشت طویل عرصے سے غیر مستحکم اور کم شرح نمو اور کم سرمایہ کاری کے مسائل سے دوچار ہے، جس کے نتیجے میں وہ اپنی ہم پلہ معیشتوں سے پیچھے رہ گیا ہے۔آئی ایم ایف کے تخمینے اس مسئلے کی سنگینی واضح کرتے ہیں۔ مالی سال 2026ء میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں سمیت عمومی حکومتی آمدن اور گرانٹس مجموعی قومی پیداوار کے تقریباً 15.8 فیصد کے برابر رہنے کا تخمینہ ہے، جبکہ حکومتی قرض جی ڈی پی کے تقریباً 67.5 فیصد کے برابر ہے۔ دوسری جانب حقیقی معاشی نمو میں بھی معمولی اضافے کی توقع ہے۔
اصل سوال یہ نہیں کہ پاکستان کا قرض اور جی ڈی پی کا تناسب دنیا میں سب سے زیادہ ہے یا نہیں، کیونکہ ایسا نہیں ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ کم محصولات اور کم پیداواری صلاحیت رکھنے والی معیشت اپنی ترقی کو گروی رکھے بغیر کتنا قرض برداشت کرسکتی ہے؟
محصولات کی حکمرانی اور قرضوں کی حکمرانی
مرحوم ماہرِ معاشیات ڈاکٹر پرویز طاہر نے ٹیکس نظام کی اس خرابی کے لیے ایک اصطلاح استعمال کی تھی: ’’ریونیو کریسی‘‘ (Revenue-cracy)۔ ان کی مراد صرف وفاقی بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نہیں تھی، بلکہ ایسے پورے نظام سے تھی جو شہریوں کے ساتھ منصفانہ مالیاتی معاہدہ قائم کرنے کے بجائے ہر سال ٹیکس وصولی کا ہدف پورا کرنے پر توجہ مرکوز رکھتا ہے۔تنخواہ دار طبقہ آسانی سے نظر آتا ہے، اس لیے اس پر ٹیکس لگا دیا جاتا ہے۔ رجسٹرڈ کاروبار دستاویزی شکل میں موجود ہیں، اس لیے ان سے ٹیکس وصول کیا جاتا ہے۔ درآمد کنندگان کسٹمز کے نظام سے گزرتے ہیں، لہٰذا ان پر بھی ٹیکس عائد ہوتا ہے۔بجلی صارفین کو بل ملتا ہے، اس لیے ان سے مختلف محصولات وصول کیے جاتے ہیں۔ بینک رقوم کی ادائیگی کے وقت ہی ٹیکس کاٹ سکتے ہیں، جبکہ پٹرولیم مصنوعات پر ٹیکس لگانا بھی نسبتاً آسان ہے۔یوں ریاست وہاں سے ٹیکس وصول کرتی ہے جہاں تک رسائی آسان ہو، نہ کہ لازماً وہاں سے جہاں اصل دولت اور آمدن موجود ہے۔
ہر مسئلے کا ذمہ دار آئی ایم ایف نہیں
یہ صورت حال مکمل طور پر بیرونی قوتوں کی مسلط کردہ نہیں ہے۔پاکستان ایک خودمختار رکن ملک کی حیثیت سے آئی ایم ایف کے پروگراموں پر مذاکرات کرتا ہے۔ فنڈ کے کئی مطالبات، مثلاً کم ٹیکس دینے والے شعبوں سے زیادہ محصولات وصول کرنا، توانائی کے شعبے کی اصلاح، سرکاری اداروں کے نقصانات کم کرنا اور عوامی مالیاتی انتظام بہتر بنانا، دراصل پاکستان کی اپنی ان خامیوں سے متعلق ہیں جنہیں ملک نے خود دور نہیں کیا۔آئی ایم ایف خود بھی تسلیم کرتا ہے کہ حالیہ مالیاتی استحکام کی کوششوں کا زیادہ تر بوجھ رسمی اور دستاویزی معیشت پر پڑا ہے۔ اسی لیے وہ ان شعبوں پر زیادہ ٹیکس لگانے پر زور دیتا ہے جہاں سے محصولات کم وصول کیے جاتے ہیں۔تاہم، اصلاحات کے معاشی حساب کتاب کے ساتھ ساتھ ان کی سیاست کو سمجھنا بھی ضروری ہے۔
پاکستان کئی دہائیوں سے ٹیکس نظام، انتظامیہ، توانائی، سرکاری اداروں اور حکمرانی میں اصلاحات کے اعلانات کرتا آیا ہے۔قرض دینے والے اداروں نے بھی ان اصلاحات کی حمایت کے لیے یکے بعد دیگرے مالیاتی پروگراموں کی معاونت کی۔ اس کے باوجود بنیادی ساختی مسائل برقرار ہیں۔
یہ صورت حال ایک مشکل سوال اٹھاتی ہے: اتنے قرضوں کے باوجود پاکستان نے کون سا مستقل ادارہ جاتی اثاثہ پیدا کیا ہے؟
ریلوے، ڈیم یا بجلی کی ترسیلی لائن کے لیے لیا گیا قرض ایک ایسا اثاثہ چھوڑتا ہے جسے دیکھا اور استعمال کیا جاسکتا ہےلیکن ادارہ جاتی اصلاحات کے لیے لیے گئے قرض کو جانچنے کا پیمانہ مختلف ہونا چاہیے۔ کیا ان قرضوں سے ٹیکس جمع کرنے کی صلاحیت بہتر ہوئی؟ انصاف کی فراہمی تیز ہوئی؟ انتظامیہ زیادہ مؤثر بنی؟ ضابطہ سازی کا نظام مضبوط ہوا؟ یا حکومت چلانے کی لاگت کم ہوئی؟
اگر قرض لینے کے باوجود اداروں میں کوئی بنیادی تبدیلی نہ آئے تو اصلاحات سے گریز کی قیمت اگلی نسل کو ادا کرنا پڑتی ہے۔ یہ گویا ان لوگوں پر ٹیکس عائد کرنے کے مترادف ہے جو ابھی پیدا بھی نہیں ہوئے۔
قومی خودمختاری حقیقت میں کہاں کھو جاتی ہے؟
یہ وہ مقام ہے جہاں قومی خودمختاری محض سیاسی نعرہ نہیں رہتی، بلکہ ایک حقیقی معاشی مسئلہ بن جاتی ہے۔جو ملک اپنے اخراجات پورے کرنے کے لیے مسلسل نئے قرضوں اور پرانے قرضوں کی ری فنانسنگ پر انحصار کرتا ہووہ معاشی فیصلے کرنے میں اس ملک جیسی آزادی نہیں رکھتا جو اپنے وسائل سے اخراجات پورے کرسکتا ہو۔اس کے لیے کسی علاقے پر قبضہ کرنا ضروری نہیں، نہ ہی کسی غیر ملکی عہدیدار کو آکر ٹیکس وصول کرنے کی ضرورت ہے۔مسلسل مالیاتی انحصار خود ہی دباؤ ڈالنے کا ذریعہ بن جاتا ہے۔
ایک کھرب ڈالر کی معیشت کا امتحان
پاکستانی حکومت نے 2035ء تک معیشت کو ایک کھرب ڈالر تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ منصوبہ بندی کے وفاقی وزیر احسن اقبال کے مطابق اس مقصد کے حصول کے لیے روایتی طریقۂ کار جاری رکھنے کے بجائے بنیادی نوعیت کی تبدیلیاں ناگزیر ہیں۔اس ہدف کو سیاسی بنیادوں پر نہ تو محض سراہنا چاہیے اور نہ ہی مسترد کرنا چاہیے، بلکہ اسے معاشی حقائق کی روشنی میں پرکھنا ضروری ہے۔
ایک کھرب ڈالر کی معیشت محض اعلان کرنے سے وجود میں نہیں آسکتی۔ اس کے لیے پیداواری صلاحیت میں مسلسل اضافہ، سرمایہ کاری میں نمایاں بہتری، برآمدات میں کئی گنا اضافہ، قابلِ اعتماد توانائی، مسابقت کے قابل شہر، بااختیار مقامی حکومتیں، پیداواری سرگرمیوں کے لیے سستے مالی وسائل اور سب سے بڑھ کر انسانی سرمایہ درکار ہوگا۔
خصوصی شعبوں کے اداروں کو خودمختاری اور پیشہ ورانہ قیادت درکار ہے۔صوبوں کو اپنی آئینی ذمہ داریاں پوری کرنا ہوں گی۔ مقامی حکومتوں کو حقیقی اختیارات کے ساتھ آمدن کے حقیقی ذرائع بھی دینا ہوں گے۔ ٹیکس نظام کو محض وصولی اور دباؤ کے طریقۂ کار سے نکال کر ریاست اور شہریوں کے درمیان منصفانہ مالیاتی معاہدے میں تبدیل کرنا ہوگا۔
قرض لینے کے طریقۂ کار میں بھی تبدیلی ضروری ہے۔ طویل مدت کے بیرونی قرضوں کا بنیادی مقصد طویل مدتی پیداواری صلاحیت پیدا کرنا ہونا چاہیے۔ اس میں پانی، توانائی، ٹرانسپورٹ، ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے، تعلیم، صحت، موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے تحفظ اور کسانوں و کاروباری اداروں کے لیے سستے قرضوں کی فراہمی شامل ہے۔مستقبل کی نسلوں سے ایسے قرضوں کی ادائیگی کی توقع رکھنا منصفانہ ہے جن کے نتیجے میں انہیں اپنے آباؤ اجداد سے زیادہ پیداواری اثاثے ورثے میں ملیں۔ لیکن ان پر ایسی مالی ذمہ داریاں ڈالنا درست نہیں جن میں اضافہ صرف اس لیے ہوتا رہا کہ موجودہ نسل ریاستی نظام میں اصلاحات کرنے کے لیے تیار نہیں تھی۔
پاکستان کے لیے قرضوں سے مکمل طور پر آزاد ہونا ضروری نہیں، کیونکہ جدید معیشتوں میں قرض لینا ایک معمول کی بات ہے۔ تاہم، پاکستان کو زندہ رہنے اور روزمرہ کے مالی معاملات چلانے کے لیے قرضوں پر انحصار ختم کرنے کی اشد ضرورت ہے۔
نوٹ : تنویراحمد امریکا میں مقیم معروف پاکستانی کاروباری شخصیت اور سماجی خدمت گار ہیں۔ وہ ہلالِ امتیاز اور پرائیڈ آف پاکستان کے اعزازات کے بھی حامل ہیں
