تحریر : زاہد بلوچ
گوا:بھارتی فلم انڈسٹری کے معروف اداکار نانا پاٹیکر 75 برس کی عمر میں انتقال کرگئے،ان کے بیٹے ملہار نے اداکار کے انتقال کی تصدیق کی۔ نانا پاٹیکر نے اپنی جاندار اداکاری، منفرد مکالمہ ادائیگی اور پیچیدہ کرداروں کے باعث بھارتی سنیما میں منفرد مقام بنایا۔نانا پاٹیکر کو جمعرات کی علی الصبح گوا میں واقع ان کے گھر پر بے ہوشی کی حالت میں پایا گیا، جس کے بعد انہیں اسپتال منتقل کیا گیا۔ گوا کے منی پال اسپتال کے ڈاکٹر شیکھر سالکر نے بھارتی خبر رساں ادارے اے این آئی کو بتایا کہ مسلسل 45 منٹ تک سی پی آر دینے کے باوجود اداکار کو بچایا نہ جاسکا۔
وزیراعظم نریندر مودی سمیت بھارتی فلمی صنعت کی اہم شخصیات نے نانا پاٹیکر کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔وزیراعظم مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے تعزیتی پیغام میں کہا کہ نانا پاٹیکر نے ایسے کردار ادا کیے جو آنے والی نسلوں کی یادوں میں ہمیشہ زندہ رہیں گے۔ان کے انتقال سے فن کی دنیا میں ایک بڑا خلا پیدا ہوگیا ہے۔
بالی ووڈ اداکار اکشے کمار نے بھی نانا پاٹیکر کو خراج عقیدت پیش کیا۔ دونوں نے کامیڈی فلم ’’ویلکم‘‘ میں ایک ساتھ کام کیا تھا۔ اکشے کمار کے مطابق نانا پاٹیکر ایک ایسے منفرد فنکار تھے جن کی آواز، اداکاری کی شدت اور حقیقت پسندی ناظرین کی توجہ اپنی جانب کھینچ لیتی تھی۔
1978 میں فلمی سفر کا آغاز
نانا پاٹیکر نے 1978 میں فلم ’’گمن‘‘ سے اپنے فلمی سفر کا آغاز کیا۔ ابتدائی برسوں میں انہوں نے متعدد فلموں میں مختصر کردار ادا کیے، تاہم پردے پر ان کی غیر معمولی شدت اور اداکاری جلد ہی نمایاں ہوگئی۔1989 میں فلم ’’پرندہ‘‘ نے انہیں ملک بھر میں شہرت کی بلندیوں پر پہنچا دیا۔ فلم میں ان کا کردار ’’انا‘‘ ایک سخت مزاج اور پرتشدد گینگسٹر کا تھا۔اس کردار پر انہیں پہلا نیشنل فلم ایوارڈ اور فلم فیئر ایوارڈ ملا۔
اس کامیابی کے بعد نانا پاٹیکر نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا اور 1990 کی دہائی میں کئی یادگار کردار ادا کیے۔ ان کے کرداروں میں گینگسٹر، فوجی، پولیس افسر، سیاست دان، ولن، محب وطن، مزاحیہ کردار اور المیہ کردار شامل تھے۔
فلم ’’پراہار‘‘ میں میجر چوہان کا کردار ان کی یادگار اداکاری میں شمار ہوتا ہے۔ اس فلم کی ہدایت کاری بھی نانا پاٹیکر نے خود کی تھی۔ اس کے علاوہ ’’انگار‘‘ میں مجید خان، ’’ترنگا‘‘ میں ایک پرجوش محب وطن اور ’’کرانتی ویر‘‘ میں پرتاپ نارائن تلک کے کردار نے انہیں مزید شہرت دی۔ ’’کرانتی ویر‘‘ میں اداکاری پر انہیں بہترین اداکار کا نیشنل فلم ایوارڈ ملا۔
جب ناقدین یہ سمجھنے لگے تھے کہ نانا پاٹیکر صرف بلند آواز اور سخت مزاج کرداروں کے لیے موزوں ہیں، تو انہوں نے فلم ’’خاموشی‘‘ میں ایک ایسے شخص کا کردار ادا کرکے سب کو حیران کردیا جو نہ سن سکتا تھا اور نہ بول سکتا تھا۔
بی بی سی کی مطابق2010 میں ہدایت کار پرکاش جھا کی فلم ’’راج نیتی‘‘ میں ایک زیرک سیاست دان کا کردار ادا کرکے انہوں نے اپنی اداکاری کا ایک اور پہلو سامنے لایا۔
تین نیشنل فلم ایوارڈز
نانا پاٹیکر کو اپنے فلمی کیریئر میں تین نیشنل فلم ایوارڈز سے نوازا گیا۔ یہ اعزاز انہیں ’’پرندہ‘‘، ’’کرانتی ویر‘‘ اور ’’اگنی ساکشی‘‘ میں شاندار اداکاری پر ملے۔ان کا تقریباً پانچ دہائیوں پر محیط کیریئر ان کی غیر معمولی فنی استعداد کا عکاس ہے۔ انہوں نے ہندی اور مراٹھی فلموں میں کام کرنے کے ساتھ ساتھ ہدایت کاری اور اسکرپٹ رائٹنگ کے شعبوں میں بھی اپنی صلاحیتیں دکھائیں۔
تھیٹر سے فلموں تک
فلموں میں شہرت حاصل کرنے سے قبل نانا پاٹیکر نے کئی برس تھیٹر میں کام کیا۔ مراٹھی اور ہندی تھیٹر میں بھی وہ ایک بااثر شخصیت رہے۔تھیٹر نے ان کی مکالمہ ادائیگی اور کرداروں میں شدت پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ ’’پرش‘‘ اور ’’حمیدابائی چی کوٹھی‘‘ ان کے معروف تھیٹر ڈراموں میں شامل تھے۔
فلمی دنیا میں کامیابی کے باوجود نانا پاٹیکر نے اپنی پیشہ ورانہ زندگی کے دوران تھیٹر سے تعلق برقرار رکھا۔
کسانوں کے لیے فلاحی سرگرمیاں
نانا پاٹیکر سماجی اور عوامی مسائل پر کھل کر اظہار خیال کرنے کے حوالے سے بھی مشہور تھے۔ وہ حکومت اور وزرا کی پالیسیوں پر براہ راست تنقید کرنے سے بھی گریز نہیں کرتے تھے۔کسانوں کے مسائل بالخصوص ان کے لیے اہم تھے۔ 2015 میں انہوں نے اداکار مکرند انا سپورے کے ساتھ مل کر ’’نام فاؤنڈیشن‘‘ قائم کی، جس نے مہاراشٹر میں کسانوں کی فلاح و بہبود اور پانی کے تحفظ کے لیے کام کیا۔
تنازعات بھی کیریئر کا حصہ رہے
نانا پاٹیکر کا کیریئر تنازعات سے بھی مکمل طور پر پاک نہیں رہا۔ 2018 میں اداکارہ تنوشری دتہ نے ایک دہائی قبل فلم کے سیٹ پر پیش آنے والے مبینہ واقعے کے حوالے سے نانا پاٹیکر پر جنسی ہراسانی کے الزامات عائد کیے تھے۔نانا پاٹیکر نے ان الزامات کی تردید کی تھی۔یہ معاملہ بھارت میں ’’می ٹو‘‘ تحریک کے نمایاں واقعات میں شامل ہوگیا،2019 میں پولیس نے تحقیقات کے بعد نانا پاٹیکر کو الزامات سے بری کردیا تھا۔ پولیس کا کہنا تھا کہ ان کے خلاف الزامات ثابت کرنے کے لیے خاطر خواہ شواہد نہیں مل سکے۔
