سمیرا سلیم کا بلاگ
مکہ مکرمہ میں طے پانے والا مشترکہ دفاعی مکہ معاہدہ اب صرف کاغذی نہیں رہا بلکہ فعال ہو چکا ہے۔ تاریخی معاہدہ، جس میں اب ترکیہ بھی شامل ہے، کے تحت تینوں برادر ممالک میں سے کسی ایک پر حملہ تینوں ممالک پر مشترکہ حملہ تصور کیا جائے گا۔ معاہدے کا مقصد بھی یہ تھا کہ مسلم امہ اپنے دفاع اور بقا کے لیے امریکہ جیسی بڑی طاقتوں کی محتاج نہ رہے۔
امریکہ، اسرائیل/ایران جنگ کے بعد اس معاہدے کی ضرورت زیادہ محسوس ہونے لگی، تاہم اس سے قبل 1982 اور 2005 کے معاہدوں کے تحت بھی پاکستان سعودی عرب کو دفاعی تعاون فراہم کرنے کا پابند تھا اور اس کا انکشاف اس وقت کے وزیراعظم کے مشیر سرتاج عزیز نے 2016 میں کیا تھا۔
اب چونکہ یمنی حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب پر جارحیت کا سلسلہ جاری ہے تو ایسے میں مکہ معاہدے کا فعال ہونا ناگزیر تھا۔ سعودی عرب وہ برادر ملک ہے جو 1998 سے پاکستان کو ریسکیو کر رہا ہے۔ جب پاکستان نے بھارت کے جواب میں ایٹمی دھماکے کیے اور سخت بین الاقوامی پابندیوں کی زد میں آیا تو کئی سال تک پاکستان کو مؤخر ادائیگیوں پر تیل فراہم کیا اور اربوں ڈالر امداد بھی دی۔
آج بھی ہم سعودی عرب سے ادھار پر تیل لے رہے ہیں اور ہمارے زرمبادلہ کے ذخائر کو مستحکم رکھنے میں سعودی عرب کے 8 ارب ڈالر بھی بڑی اہمیت رکھتے ہیں۔
لیکن مکہ معاہدے کا فعال ہونا عالمی میڈیا کی بے چینی کا سبب بنا ہے، حالانکہ جب سے حوثی سعودی مملکت پر حملے کر رہے ہیں، تب سے ہی عالمی میڈیا نظریں جمائے بیٹھا تھا کہ کب پاکستان معاہدے پر باقاعدہ عمل درآمد کرتے ہوئے سعودی عرب کے دفاع کے لیے میدانِ جنگ میں اترتا ہے۔ مکہ معاہدہ اس وقت عالمی میڈیا کی بحث کا مرکز بنا ہوا ہے۔
اب جب پاکستان نے اپنی فوجی اور عسکری صلاحیت کو سعودی عرب کی حفاظت کے لیے استعمال کرنے کی تصدیق کی ہے تو اس پر بھی عالمی میڈیا کو اعتراض ہو رہا ہے کہ پاکستان کی عسکری قیادت نے پارلیمنٹ کو بائی پاس کیوں کیا۔
عالمی میڈیا میں یہ بحث ہو رہی ہے کہ عسکری قیادت نے پارلیمنٹ سے ووٹ یا منظوری کے بغیر ہی مزید فوجی دستوں کو جنگ لڑنے بھیج دیا ہے۔ پہلی بات تو یہ کہ پاکستان کی پارلیمنٹ صرف ایسی قانون سازی کے لیے استعمال ہو رہی ہے جو موجودہ نظام کی بقا کے لیے ضروری ہے، اور دوسری بات کا جواب دفتر خارجہ نے یہ کہہ کر دے دیا ہے کہ اس معاملے کو پارلیمنٹ میں لے جانے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ حکومت نے رولز آف بزنس کے مطابق فیصلہ کیا ہے۔
پارلیمنٹ کے بغیر سعودی عرب میں مزید فوج کی فوری تعیناتی پر جن کو زیادہ مسئلہ ہے، وہ ہماری تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں تو ان کو معلوم ہو جائے گا کہ پاکستان میں سیکیورٹی اور خارجہ پالیسی پر ہماری ملٹری اسٹیبلشمنٹ کی گرفت ہمیشہ سے ہی مضبوط رہی ہے، جس کی وجہ سیاست دانوں کے رویے اور باہمی دشمنیاں رہی ہیں۔ یہ حکمران صرف اپنی شوگر ملیں اور فیکٹریاں چلا سکتے ہیں، ادارے اور ملک نہیں۔
سن 2015 میں یمن، سعودی تنازعے کے دوران بھی سعودی عرب نے پاکستان سے مدد مانگی تھی، تاہم اس وقت کی سیاسی و ملٹری قیادت نے معاملہ پارلیمنٹ کے سپرد کیا، جس نے پاکستان کو اس تنازعے سے دور رہنے کا فیصلہ کیا۔
گیارہ سال بعد اب پاکستان اس لیے بھی فوجی دستے بھیجنے پر رضامند ہوا کیونکہ اس وقت نہ تو یہ معاہدہ ہوا تھا اور نہ ہی اتنی ضرورت محسوس کی گئی تھی، اس لیے نیوٹرل رہنے کا فیصلہ کیا گیا۔ مگر سعودی عرب، حرمین شریفین اور مقدس مقامات کی حفاظت تب بھی پاکستان نے اپنے ذمے لی تھی، مگر اب وہ دور نہیں رہا، حالات اور سیکیورٹی و معاشی مسائل بہت گھمبیر ہیں۔
ایسے میں سعودی عرب کا ساتھ، اس کی مضبوط معیشت اور تیل پاکستان کی معاشی بقا کے لیے بھی ضروری ہو چکے ہیں۔ دنیا میں کہیں بھی فری لنچ نہیں ملتا، پاکستان بھی فری میں سعودی عرب کو ریسکیو کرنے نہیں گیا۔
ویسے بھی بدلتی ہوئی عالمی سیاسی، معاشی اور سیکیورٹی کی صورتِ حال کے پیشِ نظر، ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے انفرادی قوت کے بجائے باہمی تعاون اور مشترکہ معاشی و جنگی حکمتِ عملی کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ ہے۔
پاکستان کی دفاعی صلاحیت، سعودی عرب کی معاشی اہمیت اور ترکیہ کی جدید دفاعی ٹیکنالوجی اور ایوی ایشن میں تجربہ مل کر ایک مضبوط شراکت داری کی بنیاد فراہم کرتے ہیں، جس سے تینوں ممالک کسی بھی ممکنہ بیرونی جارحیت کے خلاف اپنے دفاع کو مستحکم اور ناقابلِ شکست بنا سکتے ہیں۔

