رپورٹ : رانا اشرف
اسلام آباد: تھانہ رمنا کے علاقے میں گولڈ میڈلسٹ لائبہ اعجاز کی موت کے معاملے میں اہم حقائق سامنے آگئے، بیرون ملک تعلیم کے لیے رقم لینے والا شخص ایجنٹ نہیں بلکہ مبینہ فراڈیا نکلا۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے اسلام آباد شہزاد ندیم بخاری لائبہ اعجاز کے گھر پہنچ گئے، جہاں انہوں نے اہلخانہ سے تفصیلی ملاقات کی، فاتحہ خوانی کی اور تعزیت کا اظہار کیا۔

شہزاد ندیم بخاری کے مطابق لائبہ کے اہلخانہ سے تمام تفصیلات حاصل کرلی گئی ہیں اور ان سے تحریری درخواست بھی لے لی گئی ہے۔ فراڈ میں ملوث شخص کے خلاف این سی سی آئی اے کے قانون کے تحت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے نے کہا کہ لواحقین کے دکھ میں برابر کے شریک ہیں اور اس معاملے کو ٹیسٹ کیس بنایا جائے گا، جبکہ ذمہ دار شخص کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
اہلخانہ کے مطابق لائبہ اعجاز کو بیرون ملک بھجوانے کے لیے رقم وصول کرنے والا شخص مبینہ فراڈیا تھا، جو کبھی خود کو سپریم کورٹ کا ملازم اور کبھی حساس ادارے کا افسر ظاہر کرتا تھا۔
اہلخانہ نے بتایا کہ ملزم نے لائبہ اعجاز کو بیرون ملک یونیورسٹی میں داخلہ دلوانے کے لیے 75 لاکھ روپے کا فراڈ کیا، جبکہ لائبہ کے بھائی کو سرکاری ملازمت دلوانے کے نام پر بھی 5 لاکھ روپے وصول کیے تھے۔
دوسری جانب ڈی جی ایف آئی اے عثمان انور نے بھی لائبہ اعجاز کے والد سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا اور واقعے سے متعلق معلومات حاصل کیں۔
واضح رہے کہ اسلام آباد کے تھانہ رمنا کے علاقے میں گولڈ میڈلسٹ لائبہ اعجاز کی موت کے بعد بیرون ملک تعلیم کے نام پر مالی فراڈ کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں، جبکہ موت کی اصل وجہ سے متعلق حتمی نتیجے کے لیے متعلقہ حکام کی رپورٹ کا انتظار ہے۔

