سمیرا سلیم کا بلاگ
پاکستان میں زراعت کا شعبہ نظر انداز ہونے کے باوجود جی ڈی پی میں تقریباً 22 فیصد حصہ ڈالتا ہے، جبکہ آبادی کے 60 فیصد حصے کو روزگار بھی فراہم کرتا ہے، مگر مختص کردہ بجٹ صرف 2 سے 3 فیصد ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب آدھا پاکستان خطِ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کر رہا ہے تو یہ شعبہ معیشت کے لیے دل کی دھڑکن جیسی حیثیت رکھتا ہے۔
حال ہی میں کسان بورڈ پاکستان نے حکومت سے بڑے قابلِ غور مطالبے کیے ہیں کہ زراعت کو وفاقی اور صوبائی بجٹ کا کم از کم 10 فیصد دیا جائے تاکہ ان کی پیداواری لاگت اور خسارہ کم ہو۔
کسانوں کی زبوں حالی کا حوالہ دیتے ہوئے دوسرا مطالبہ یہ کیا کہ گندم کی 5,000 روپے فی من جبکہ گنے کی 700 روپے فی من امدادی قیمتیں مقرر کی جائیں۔
کھاد کی قیمتوں میں بے پناہ اضافہ، یوریا کی قلت، بجلی کے زیادہ بل اور پاک افغان سرحد کی بندش کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے بورڈ نے حکومت کو وارننگ دی ہے کہ ان کے مطالبات مانے جائیں، ورنہ پھر حکومت ایک اور احتجاج کے لیے تیار رہے۔
قیامِ پاکستان سے اب تک کئی حکومتیں آئیں، مگر کسی نے زراعت میں اسٹرکچرل ریفارمز پر توجہ نہ دی۔ زراعت کی پیداواری صلاحیت اور معیار کو بہتر کرنے، آبپاشی کے نظام کو بہتر بنانے، سستا پانی و بجلی، کھیت سے مارکیٹ تک رسائی، کولڈ اسٹوریج، ریسرچ اور ٹیکنالوجی کے استعمال کو فروغ دینے کا کسی کو خیال نہ آیا۔ بس چند ارب کی سبسڈی دے کر کام چلاتے رہے، جس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ ہر سال گندم باہر سے منگوانی پڑتی ہے۔
ہمارے ہمسایہ ملک بھارت میں کسانوں کو پاکستان کی نسبت کافی سہولیات میسر ہیں۔ اس وقت بھارت میں حکومت کی کسانوں کے لیے آٹھ بڑی اسکیمیں موجود ہیں، جو پانی، پیداواری صلاحیت، مارکیٹ تک رسائی، ٹیکنالوجی، ڈیجیٹلائزیشن سے لے کر قلیل مدتی آسان قرضوں اور دیگر سہولیات کو کور کرتی ہیں، اس کے باوجود بھارتی کسان مودی کی زراعت پالیسیوں کے خلاف آئے روز سڑکوں پر ہوتے ہیں۔
جب ستمبر 2020 میں بھارت نے تین متنازعہ زرعی قوانین متعارف کرائے، جن کا مقصد کسانوں کو سرکاری منڈیوں کے علاوہ پیداوار کی فروخت کے لیے نجی معاہدے کرنے کی راہ ہموار کرنا تھا، ان قوانین کو پنجاب اور ہریانہ کے کسانوں نے اپنے روزگار کے لیے خطرہ سمجھا۔ کسانوں کو خوف تھا کہ سرکار ان قوانین کے ذریعے فصل کی کم از کم سپورٹ پرائس کے نظام کو ختم کر رہی ہے اور اگر قوانین لاگو ہوگئے تو کسانوں کو تاجروں کے رحم و کرم پر جینا پڑے گا۔
ان خدشات نے بڑے پیمانے پر احتجاج کو جنم دیا، اور نومبر 2020 میں ہزاروں کسان دہلی کی طرف مارچ کرنے لگے، تاہم ان کو شہر میں داخل نہیں ہونے دیا گیا تھا۔ کسانوں نے ہار نہ مانی اور 26 جنوری 2021 کو دہلی میں ایک بڑی ٹریکٹر ریلی نکالی جو تھوڑی پرتشدد ہوگئی اور قومی و بین الاقوامی توجہ کا مرکز بنی، جس کے بعد مودی حکومت نے قوانین کو 18 ماہ کے لیے معطل کرنے کے لیے ایک کمیٹی بنانے کی تجویز دی۔
کسان ثابت قدم رہتے ہوئے احتجاج کرتے رہے، بالآخر 19 نومبر 2021 کو مودی نے تینوں زرعی قوانین کے خاتمے کا اعلان کیا، جو کسانوں کے لیے ایک بڑی جیت تھی، مگر یہاں سوال یہ ہے کہ جس امدادی قیمت کا مطالبہ پاکستانی کسان کر رہے ہیں، کیا ان کی شنوائی بھی احتجاج کے بغیر ہوگی یا انھیں بھی بھارتی کسانوں کا روٹ لینا پڑے گا؟
بدقسمتی سے ہم ایسے حکمرانوں کے سائے تلے جینے پر مجبور ہیں جو غیر ملکی کسانوں کو ڈالرز تو دے سکتے ہیں، مگر اپنے کسانوں کو ان کی پیداواری لاگت تک دینا گوارا نہیں کرتے۔ رواں برس جو کچھ گندم کے ساتھ کیا گیا، وہ سب جانتے ہیں کہ کس طرح اپنے کسانوں کو حکومت نے تاجروں اور مڈل مین کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا، اور نتیجہ یہ نکلا کہ ملکی کسان کو اپنی گندم 2,700 سے 3,200 کے درمیان فروخت کرنی پڑی۔
ابھی کسانوں کو گندم فروخت کیے ہوئے 5 ماہ بھی نہیں گزرے کہ مارکیٹ میں گندم کی قیمت 4,500 روپے فی من تک پہنچ گئی ہے۔ مڈل مین پیسے بنا رہا ہے اور کوئی پوچھنے والا نہیں۔ کسان کو اس کی محنت کا پورا معاوضہ نہ ملنے کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ ملک میں گندم کی پیداوار کا ٹارگٹ پورا نہ ہوسکا۔ اب ملکی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے گندم باہر سے منگوائی جا رہی ہے، جس پر قیمتی زرِ مبادلہ خرچ ہوگا۔
المیہ یہ ہے کہ ہم اپنے کسان کو اس کی محنت کا پورا حق دینے کے بجائے مسلسل اس کا استحصال کرنے میں لگے ہیں۔ غور کریں تو کسان بورڈ کے مطالبات میں بہت وزن ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ حکمران اشرافیہ ان پر کان دھرتی ہے یا اسی طرح ہر سال غیر ملکی کسانوں پر ڈالر نچھاور کرتی رہے گی۔


