سمیرا سلیم کا بلاگ
کل کا دن بہت اہم تھا، معاملہ فہمی سے لانگ مارچ بھی ٹل سکتا تھا اور تحریک انصاف کے بنیادی مطالبات بھی تسلیم کئے جا سکتے تھے۔ حکومتی مذاکراتی وفد کے اپنے قائدین ماضی میں اسیری کے دوران ان سہولیات سے مستفید ہوتے رہے، چاہے ذاتی معالجین کی رسائی ہو یا ملاقاتوں کا بلا تعطل سلسلہ۔ اگر دہشت گردی کے خلاف جنگ حکومت کے لیے اتنی اہم تھی، اس کو سیاست زدہ کرنے کی بجائے پی ٹی آئی کے کافی حد تک بنیادی مطالبات مانے جا سکتے تھے۔ عمران خان کو ذاتی معالجین تک رسائی دینے سے کوئی قیامت برپا نہیں ہو جانی تھی اور نہ ہی اس سے حکومتی اقتدار کو کوئی خطرہ لاحق ہو جانا تھا۔
مذاکرات میں اپوزیشن کو دینے کے لیے حکومت کے پاس بہت کچھ ہوتا ہے اور اسے ہی زیادہ لچک دکھانا پڑتی ہے۔ سیاست دانوں کے پاس ماضی کے انتقامی سائے سے نکل کر ملک کے اصل مسائل، جن میں خوفناک مہنگائی، بے روزگاری، دہشت گردی اور معیشت سرفہرست ہیں، ان کے حل کی طرف اکٹھے ہونے کا موقع بھی تھا، جسے ضائع کر کے سیاست دان ایک بار پھر ناکام ہو گئے۔
مذاکرات کی ناکامی نے آشکار کر دیا ہے کہ یہ سیاست دان پرانی راہوں کے مسافر ہیں، نئی سوچ اور عوام کے درد سے کوسوں دور۔ ایک نہیں، دو صوبوں میں آگ لگی ہوئی ہے، مگر 4 سال گزرنے کے باوجود ماضی کے حساب کتاب ابھی چکتا ہونا باقی ہیں۔ اگر کے پی میں گورنر راج یا ایمرجنسی لگا کر یہ حساب کتاب چکتا ہوتا ہے تو پھر یہ کر کے بھی دیکھ لیں۔ جو انتقام کی آگ میں جلنے پر بضد ہوں، بالآخر تباہی ان کا مقدر ہوتی ہے۔
اندیشہ یہی ہے کہ پی ٹی آئی اور حکومت، دونوں فریقین کے ہاتھ کچھ نہیں آئے گا، قیمت ملک چکائے گا۔
حکومتی نقطۂ نظر، رانا ثناء اللہ کے بقول، جو سامنے آیا ہے، وہ یہ ہے کہ مذاکرات میں بنیادی بات خیبرپختونخوا کے حالات سے متعلق تھی۔ حکومت کا مطالبہ تھا کہ صوبائی حکومت دہشت گردی کے خلاف اپنا کردار ادا کرے، تاہم صوبائی حکومت اس معاملے پر انکاری رہی اور اپنا کردار ادا کرنے میں تعاون پر رضامند نہیں ہوئی۔
رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ عمران خان سے ملاقات کا معاملہ نسبتاً چھوٹا تھا اور حکومت نے ان سے ملاقاتوں پر رضامندی ظاہر بھی کی تھی۔ اب ذرا اس بیان کو دیکھا جائے تو میرا خیال ہے تحریک انصاف مذاکرات سے عمران خان کے لیے آسانی چاہتی تھی، مگر حکومت اگر ایک ایسا ایشو لے کر بیٹھ گئی، جس پر سہیل آفریدی بارہا کہہ چکے ہیں کہ کے پی میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ذرا ان کی بھی تجاویز کو شامل کر کے دیکھ لیں تو 100 دن میں امن آ جائے گا۔
یہ وہ تجاویز ہیں جن پر خیبرپختونخوا کی تمام جماعتوں کا مکمل اتفاقِ رائے ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس میں خیبرپختونخوا کی مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کی صوبائی قیادت بھی شامل ہیں۔ اگر ایک دہشت گردی کا شکار صوبے کا وزیراعلیٰ بار بار کہہ رہا ہے کہ آپ کی پالیسی وہ نتائج نہیں دے رہی، تو پھر آپ بھی تھوڑی لچک دکھا کر دہشت گردی کے خلاف ایک جوائنٹ میکنزم بنا لیں، تاکہ قوم کو پتا چلے کہ صوبائی حکومت، وفاق اور عسکری قوتیں دہشت گردی کے معاملے پر سیم پیج پر ہیں۔
بقول سلمان اکرم راجہ، مذاکرات کی ناکامی کی وجہ ہی خیبرپختونخوا حکومت کو دہشت گردی کے خلاف بنائی گئی پالیسی کا حصہ نہ بنانا ہے۔ اگر ملک چلانے والوں کے حالات یہ ہیں کہ وہ اپنی اپنی ضد اور انا کے اسیر ہو چکے ہیں تو بہتری کی امید محض خام خیالی سے زیادہ کچھ نہیں۔
افسوس کی بات ہے کہ اتنے گھمبیر مسائل کے باوجود دونوں طرف سے سمجھداری اور لچک کی بات سنائی نہیں دی گئی۔ سیاسی بانجھ پن کا دور دورہ ہے۔
پی ٹی آئی نے لانگ مارچ کی ٹھان لی ہے تو حکومت نے وارننگ دے دی ہے کہ مارچ اسلام آباد کی حدود میں داخل نہیں ہونے دیا جائے گا۔ کے پی اور اسلام آباد میں امن و امان تو خراب ہو گا ہی، لیکن قیمت پورا ملک ادا کرے گا اور کر رہا ہے۔ دارالحکومت کو قلعہ بند کرنے کے لیے لائے گئے 1550 کنٹینرز کا روزانہ کا کرایہ تقریباً 4 کروڑ 65 لاکھ روپے عوامی خزانے سے ہی ادا ہو رہا ہے۔ مالکان کو مل رہا ہے یا نہیں، یہ الگ کہانی ہے۔ اس کے علاوہ دوسرے صوبوں سے بلائی گئی ہزاروں کی نفری کے کھانے پینے اور رہائش کے لیے کروڑوں روپے کے اخراجات الگ ہیں۔
بقول وزیر خزانہ، یومیہ معیشت کو 120 ارب کا ٹیکا لگ رہا ہے۔ لیکن اس سب کے باوجود مجال ہے کہ حکومت اور نظام اپنے انتقام سے ایک انچ بھی پیچھے ہٹی ہو۔ ناکام مذاکرات نظام کی نہیں بلکہ اسے چلانے والوں کی ناکامی ہے، جس کا خمیازہ ایک بار پھر عوام بھگتے گی۔
