• Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
ہفتہ, اکتوبر 3, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
Rauf Klasra
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
No Result
View All Result
Rauf Klasra
No Result
View All Result
Home بلاگ

رٹا لگا کر مستقبل بنے گا۔۔۔؟

by Ahmed Arsalan
اکتوبر 2, 2026
in بلاگ
0
رٹا لگا کر مستقبل بنے گا۔۔۔؟
0
SHARES
58
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

تحریر : رافعہ زاہد

ہم اپنے بچوں کی تعلیم پر سالہا سال خرچ کرتے ہیں۔ اسکول کی فیس، کالج کے 30 سے 50 ہزار روپے اور بعض یونیورسٹیوں میں ایک سمسٹر کی ڈیڑھ لاکھ روپے یا اس سے زیادہ فیس۔ والدین یہ سب اس امید پر برداشت کرتے ہیں کہ پڑھائی مکمل ہونے کے بعد بچہ اپنے پاؤں پر کھڑا ہوگا اور اچھی نوکری حاصل کرلے گا۔لیکن جب یہی بچہ ڈگری لے کر نوکری کی تلاش میں نکلتا ہے تو کمپنی کا سوال کچھ اور ہوتا ہے۔ وہاں یہ نہیں پوچھا جاتا کہ کس بادشاہ نے کس سن میں کس پر حملہ کیا تھا۔ پوچھا جاتا ہے کہ AI آتی ہے؟ Data science کا کتنا علم ہے؟ Coding آتی ہے؟ Budget manage کرسکتے ہیں؟ Cost کم کرنے کا طریقہ آتا ہے؟ ایک professional email لکھ سکتے ہیں؟ Communication skills کیسی ہیں؟ یہ سوال صرف کسی ایک بچے کا نہیں، پورے تعلیمی نظام کا ہے۔ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے ساتھ ہماری جامعات کو بھی دیکھنا ہوگا کہ آج کے بچے کو ہم کس دنیا کے لیے تیار کر رہے ہیں۔ دنیا AI، data science، blockchain اور space technology میں آگے بڑھ رہی ہے، جبکہ ہمارے ہاں اب بھی بہت سا تعلیمی وقت ایسی چیزیں یاد کرنے میں گزر جاتا ہے جن کا عملی زندگی میں براہِ راست استعمال نہیں ہوتا۔ تاریخ پڑھنا ضروری ہے، اپنے ماضی کو جاننا بھی ضروری ہے، لیکن مستقبل صرف ماضی یاد کرکے نہیں بنایا جا سکتا۔ بچے کو یہ بھی آنا چاہیے کہ وہ جو کچھ پڑھ رہا ہے اسے عملی زندگی میں کیسے استعمال کرے گا۔ اور یہ بحث صرف ان بچوں تک محدود نہیں جو یونیورسٹی پہنچتے ہیں۔ پاکستان میں تقریباً 2 کروڑ 50 لاکھ بچے آج بھی اسکول سے باہر ہیں۔ یعنی ہمارے سامنے دو الگ مگر جڑے ہوئے مسئلے ہیں۔ایک طرف لاکھوں بچے بنیادی تعلیم سے محروم ہیں، دوسری طرف جو بچے تعلیم حاصل کر رہے ہیں، ان کی تعلیم کو روزگار کی بدلتی ہوئی ضروریات سے جوڑنے کا سوال موجود ہے۔ پاکستان اکنامک سروے 2025-26 کے مطابق ملک میں خواندگی کی شرح 63 فیصد ہے، جبکہ 5 سے 16 سال کی عمر کے 28 فیصد بچے اسکول سے باہر ہیں۔ اسی رپورٹ کے مطابق ملک میں 4,746 تکنیکی و فنی ادارے ہیں، لیکن ان میں داخل طلبہ کی تعداد تقریباً 4 لاکھ 60 ہزار ہے۔ FY2025 میں تعلیم پر سرکاری اخراجات 962 ارب روپے رہے، جو GDP کا تقریباً 0.8 فیصد بنتے ہیں۔ روزگار کی صورتحال بھی اس بحث کو مزید اہم بناتی ہے۔ Labour Force Survey 2024-25 کے مطابق 15 سے 24 سال کے نوجوانوں میں بیروزگاری کی شرح 12.8 فیصد رہی ہے۔ دوسری طرف دنیا میں digital work کا دائرہ بڑھ رہا ہے۔ پاکستان کے ICT services exports جولائی 2024 سے مارچ 2025 کے دوران 2.825 ارب ڈالر تک پہنچے، جبکہ اسی عرصے میں پاکستانی freelancers نے 400 ملین ڈالر کی remittances بھیجیں۔ تو سوال یہ نہیں کہ تاریخ پڑھائی جائے یا آرٹیفشل انٹیلیجینس سوال یہ ہے کہ کیا ہماری تعلیم بچے کو دونوں چیزوں کے ساتھ عملی زندگی کے لیے بھی تیار کر رہی ہے۔
Ahmed Arsalan

Ahmed Arsalan

Next Post
تحویل کی جنگ ہارنے کے چند گھنٹے بعد ماں نے 4 سالہ بیٹی کو گولی مار کر خودکشی کر لی

تحویل کی جنگ ہارنے کے چند گھنٹے بعد ماں نے 4 سالہ بیٹی کو گولی مار کر خودکشی کر لی

جنوبی کوریا کی نہر میں پھنسی شارک تین ہفتوں سے مدد کی منتظر

جنوبی کوریا کی نہر میں پھنسی شارک تین ہفتوں سے مدد کی منتظر

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • About
  • Advertise
  • Careers
  • Contact

© 2024 Raufklasra.com

No Result
View All Result
  • Home
  • Politics
  • World
  • Business
  • Science
  • National
  • Entertainment
  • Gaming
  • Movie
  • Music
  • Sports
  • Fashion
  • Lifestyle
  • Travel
  • Tech
  • Health
  • Food

© 2024 Raufklasra.com

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In