سمیرا سلیم کا بلاگ
پاکستان 9/11 کے بعد سے ہی دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے اور یہ جنگ دو دہائیوں بعد بھی جاری ہے۔ ہم دہشت گردی کے خلاف اس جنگ میں تقریباً 1 لاکھ قیمتی جانیں گنوا بیٹھے، معیشت کو 150 ارب ڈالر کا ٹیکا لگا، مگر ہم یہ جنگ تاحال جیت نہ سکے۔بقول سہیل آفریدی، صرف صوبہ خیبر پختونخوا میں 80 ہزار لوگوں نے جانوں کا نذرانہ پیش کیا، جس صوبے کو دہشت گردی سے جوڑا گیا۔ اور اب وہاں ایمرجنسی یا گورنر راج لگانے کے بہانے تلاش کیے جا رہے ہیں۔حالانکہ ڈیرہ اسماعیل خان کے دورے کے دوران وزیراعلیٰ کے پی نے حکومت کو چارج شیٹ کیا کہ ادائیگیوں کے باوجود وفاقی حکومت نے جدید ہتھیار اور سازوسامان مہیا نہیں کیا۔سہیل آفریدی کو معلوم ہونا چاہیے، دہشت گردی زدہ ملک کا وزیراعظم تو عوامی خرچے پر 16 ستمبر سے امریکا اور لندن کے دورے سے ہی فارغ نہیں ہو پا رہا۔خیر، ابھی تو سہیل آفریدی کی حکومت انتہائی مشکل صورتِ حال سے دوچار ہے۔ ایک طرف دہشت گردی کی وجہ سے ہلاکتوں میں اضافہ ہو رہا ہے، تو دوسری طرف خان کی رہائی کے لیے لانگ مارچ نے ان کی کرسی خطرے میں ڈال دی ہے۔
وطنِ عزیز میں جو دہشت گردی ہے، اس کے پیچھے افغانستان اور بھارت ملوث ہیں، ایسا ڈی جی آئی ایس پی آر کئی بار بتا چکے ہیں۔ یہ اور بات ہے کہ ہماری فوج کے اس طاقتور بیانیے کو مریم نواز نے یہ کہہ کر منوں مٹی تلے دبا دیا ہے کہ خطرہ ان کو پڑوسی ممالک سے نہیں بلکہ پڑوسی صوبوں سے ہے۔یہ بیان 9 مئی اور ڈان لیکس سے بھی بڑا ہے، مگر پنجاب کی وزیراعلیٰ کے خلاف ایسا خطرناک بیان دینے پر نہ قانون حرکت میں آیا اور نہ ہی کسی نے غداری کا فتویٰ دیا۔جبکہ دوسری طرف شہباز سرکار کی کابینہ کے وزراء دہشت گردی زدہ صوبے خیبرپختونخوا میں رجیم چینج کا پورا ماحول بنا کر بیٹھے ہیں۔ جو دہشت گرد مسلسل ریاست کی رٹ کو چیلنج کر رہے ہیں، ریاست ان کا علاج خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی یا گورنر راج لگا کر کرنا چاہتی ہے۔کیا یہ ہے نیشنل ایکشن پلان اور دہشت گردی سے نمٹنے کا فارمولا؟
کئی بار خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ نے مرکز اور مقتدرہ سے اپیل کی ہے کہ دہشت گردی کے خلاف داخلہ پالیسیوں میں صوبے کی تجاویز کو شامل کیا جائے۔ انھوں نے بارہا کہا ہے کہ آپ تب تک امن حاصل نہیں کر سکتے جب تک آپ صوبے کی عوام کو آن بورڈ نہیں کرتے۔حیرت کی بات ہے کہ جو صوبہ دہشت گردی کی لپیٹ میں ہے، اسے ہی دہشت گردی کے خلاف بنائی گئی پالیسیوں سے دور رکھا جاتا ہے۔ اگر کہیں مذاکرات سے کسی چیز کا حل نکل سکتا ہے تو اس آپشن کو استعمال کرنے میں کیا برائی ہے؟ڈنڈا تو ہم نے کب سے اٹھایا ہوا ہے، پھر کامیابی کیوں دور بھاگ رہی ہے؟ دہشت گردی کیوں بڑھتی ہی جا رہی ہے؟وجہ یہ ہے کہ ہم کبھی یہ نہیں مانتے کہ ہماری پالیسیوں میں خلا ہے اور وہ زمینی حقائق پر مبنی نہیں۔ قومیں غلطیوں سے نہیں، ان پر اصرار سے تباہ ہوتی ہیں۔ جو لوگ خود کو ملک کی خاطر تبدیل نہ کر پائیں اور انتقام کی آگ میں جلنے پر بضد ہوں، بالآخر ناکامی سے ہمکنار ہوتے ہیں۔
ریاست کو اس وقت سیاسی و اقتصادی بحران کے ساتھ ساتھ دہشت گردی اور سیکیورٹی سے جڑے بڑے چیلنجز کا حقیقی طور پر سامنا ہے۔ مسائل کے انبار کے باوجود وزیراعظم شہباز شریف کا جہاز ملک کا رخ اختیار کرنے کو تیار نہیں۔ اپنا ملک جل رہا ہے اور چلے ہیں دوسروں کے گھر کی آگ بجھانے۔روزانہ اخبارات اور ٹی وی چینلز پر یہ دعوے سننے کو ملتے ہیں کہ ملٹری آپریشن میں آج 10 سے 15 فتنہ ہندوستان الخوارج جہنم واصل ہو گئے، وغیرہ وغیرہ۔مگر اہم سوال یہ ہے کہ جس طرح دہشت گرد مسلسل سیکیورٹی فورسز پر اور دیگر اہم جگہوں کو ٹارگٹ کرنے میں کامیاب ہو رہے ہیں، اس سے تو کہیں نہیں لگتا کہ ان کی تعداد میں کچھ کمی واقع ہوئی ہے۔ہماری انٹیلیجنس ایجنسی کو نہ جانے کس کام پر لگا رکھا ہے کہ وہ خودکش حملہ آوروں کا سراغ نہیں لگا پاتے، انھیں تباہی پھیلانے سے پہلے ہی ان کے ٹھکانوں سے گرفتار کیوں نہیں کیا جاتا؟
پاکستان اس وقت عوام میں ایک ایسی ریاست کے طور پر مقبول ہے جو سیاسی، معاشی، بیڈ گورننس اور دہشت گردی جیسے بڑے مسائل سے نمٹنے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔ ریاست عدل و انصاف کے بجائے انتقام کو جب اپنا اوڑھنا بچھونا بنا لے تو اس کا نتیجہ شدت پسندی کی صورت میں نکلتا ہے۔ بدقسمتی سے ملک کو اسی طرف دھکیلا جا رہا ہے۔دہشت گردی کے خلاف جو طریقہ کار اپنایا جا رہا ہے، اس پر نئے سرے سے غور و فکر کرنا ہوگا۔ حکومت اور ریاست کو اپنی ترجیحات بدلنا ہوں گی، ورنہ دہشت گردی کا ناسور ملک کے کونے کونے تک پھیل جائے گا۔
