تحریر:تنویر احمد
جب بھی پاکستان کسی سیاسی بحران،معاشی مشکلات یا قومی بے چینی کا شکار ہوتا ہے،ہماری نظریں کسی طاقتور شخصیت کی طرف اٹھ جاتی ہیں۔کبھی کسی جنرل، کبھی کسی مقبول سیاسی رہنما اور کبھی کسی ٹیکنوکریٹ سے یہ امید وابستہ کر لی جاتی ہے کہ وہ آہنی ہاتھ کے ذریعے تمام مسائل حل کر دے گا۔ہم نے حکمران کی طاقت کو ریاست کی طاقت سمجھنے کی غلطی کی ہے،ایسا کرتے ہوئے ہم تاریخ کے ایک بنیادی سبق کو نظرانداز کرتے رہے ہیں کہ قومیں طاقتور افراد سے نہیں بلکہ مضبوط نظاموں سے بنتی ہیں۔
پاکستان کی سیاسی تاریخ اختیارات کو شخصیات کے گرد مرکوز کرنے کے ایک مسلسل چکر کی داستان ہے،استحکام اور قومی مفاد کے نام پر آئین معطل کیے گئے، پارلیمانیں تحلیل ہوئیں اور عدلیہ کو تابع بنانے کی کوششیں کی گئیں لیکن اس سب کا نتیجہ استحکام نہیں بلکہ اداروں کی مسلسل کمزوری کی صورت میں نکلا۔آج پاکستان کا اصل بحران یہ نہیں کہ ملک پر کون حکومت کر رہا ہے،بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ پاکستان میں حکومت کیسے کی جا رہی ہے۔ایک فعال جمہوریت صرف انتخابات سے متعین نہیں ہوتی۔اصل جمہوریت کا امتحان انتخابات کے درمیان ہوتا ہے،ایسا نظام ضروری ہے جہاں انتظامی اختیار آئین کا پابند ہو، اداروں کو اختیارات پر نظر رکھنے اور انہیں محدود کرنے کی خودمختاری اور حوصلہ حاصل ہو اور حکمرانی کی ذمہ داری واضح اور قابلِ احتساب ہو۔ہمیں ایسے نظام کی ضرورت ہے جہاں اقتدار کو جیتنے اور اپنے مفاد کے لیے استعمال کرنے والی چیز نہیں بلکہ ایک امانت، یعنی عوام کا مقدس اعتماد، سمجھا جائے اور اسے آئین کی حدود کا پابند رکھا جائے۔
اگر پاکستان اس دائرے سے باہر نکلنا چاہتا ہے تو اصلاحات کی بنیاد تین ناقابلِ سمجھوتہ ستونوں پر رکھنا ہوگی۔آئین کے تابع انتظامیہ اور حقیقی طور پر آزاد ادارے،حکومتی اختیارات کا بے لگام ارتکاز ہمارے نظام حکمرانی کی بنیادی خامیوں میں سے ایک ہے،ایک مضبوط نظام کا تقاضا ہے کہ کوئی بھی عہدہ، خواہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، قانون سے بالاتر نہ ہو۔ہمیں ایسے اداروں سے آگے بڑھنا ہوگا جو طاقت کے سامنے جھک جائیں اور ایسے ادارے قائم کرنا ہوں گے جو طاقت کو آئینی حدود میں رکھنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ہمیں ایسی پارلیمان چاہیے جو خوف کے بغیر قانون سازی کرے، ایسی عدلیہ چاہیے جو دباؤ کے بغیر فیصلے کرے اور ایسا احتسابی نظام چاہیے جو کسی عہدے،وردی یا سیاسی وابستگی سے متاثر نہ ہو۔اختیارات میں توازن اور ایک دوسرے پر نگرانی کو ترقی کی راہ میں رکاوٹ نہیں بلکہ حقیقی ترقی کی بنیاد سمجھنا ہوگا۔ان اداروں کا مقصد انتقام نہیں بلکہ ان 25 کروڑ شہریوں کے سامنے ذمہ داری کا احساس پیدا کرنا ہے جن کی خدمت کے لیے ریاستی ادارے قائم کیے گئے ہیں۔
پاکستان بہت بڑا، متنوع اور پیچیدہ ملک ہے،اسے صرف اسلام آباد سے نہیں چلایا جا سکتا،کئی دہائیوں سے ہم نے اختیارات، وسائل اور فیصلہ سازی کو وفاقی دارالحکومت میں مرکوز رکھا ہے جو ملک کے مختلف علاقوں کی زمینی حقیقتوں سے کئی بار دور دکھائی دیتا ہے۔
2010 میں 18ویں آئینی ترمیم صوبائی خودمختاری کی جانب ایک اہم قدم تھی لیکن اس کی اصل روح اب بھی پوری طرح نافذ نہیں ہو سکی،صوبوں کو ذمہ داریاں تو دی گئیں، لیکن اس کے مطابق مالی وسائل اور انتظامی صلاحیت فراہم نہیں کی گئی جبکہ وفاقی حکومت بھی اپنے اختیارات اور وسائل سے دستبردار ہونے میں ہچکچاہٹ کا شکار رہی ہے۔حقیقی وفاقیت صوبوں پر کوئی احسان نہیں بلکہ قومی یکجہتی کی بنیادی ضرورت ہے۔
جب تربت کی ایک ماں کو بنیادی مرکزِ صحت کے لیے اسلام آباد کی طرف دیکھنا پڑے، جب بدین کا ایک کسان پانی کے انتظام کے لیے وفاقی منظوری کا منتظر ہو اور جب وزیرستان کا ایک طالب علم تعلیم سے متعلق وفاقی پالیسی کا انتظار کرے تو اس کا مطلب ہے کہ نظام اپنی بنیادی ذمہ داری پوری کرنے میں ناکام ہو چکا ہے۔ہماری جمہوریت کی سب سے بڑی ناکامی تیسرے درجے یعنی مقامی حکومت کے نظام میں نظر آتی ہے۔آئین کا آرٹیکل 140-A مقامی حکومتوں کے قیام کا تقاضا کرتا ہے، لیکن عملی طور پر یہ نظام سب سے کمزور کڑی بن کر رہ گیا ہے۔ مقامی حکومتیں مسلسل مالی وسائل کی کمی، اختیارات کی عدم دستیابی اور صوبائی حکومتوں کی مرضی سے تحلیل کیے جانے کا شکار رہی ہیں۔صوبائی دارالحکومتوں نے بھی وہی مرکزیت اختیار کر لی ہے جس کی شکایت وہ کبھی وفاقی حکومت سے کیا کرتے تھے۔حقیقی اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کا مطلب یہ ہے کہ ہمارے شہروں، تحصیلوں اور دیہات کو حقیقی اختیار دیا جائے۔ براہِ راست منتخب میئرز اور ناظمین کو اپنے مالی وسائل، پولیس، تعلیم اور صحت کی خدمات کے حوالے سے مؤثر اختیارات حاصل ہوں۔جو لوگ گلیوں میں رہتے ہیں، انہیں اپنی گلیوں کے مستقبل کے فیصلے کا اختیار ملنا چاہیے۔حکمرانی کو وہاں پہنچنا چاہیے جہاں عوام رہتے ہیں، نہ کہ عوام کو وہاں جانے پر مجبور کیا جائے جہاں طاقت موجود ہے۔
پاکستان کو کسی زیادہ طاقتور ہاتھ سے چلانے کی ضرورت نہیں،ملک کے بیشتر عرصے میں اسے طاقتور ہاتھوں سے چلایا جاتا رہا ہے اور اس کے نتائج ہمارے سامنے ہیں،پاکستان کو ایک ایسے مضبوط، منصفانہ اور عادلانہ نظام کے ذریعے متحد رکھنے کی ضرورت ہے جو کسی ایک فرد، سیاسی جماعت یا ادارے سے بڑا ہو،ایسا نظام جو بالآخر اپنے عوام کی خدمت کرے ان پر حکمرانی نہ کرےکیونکہ یہ سرزمینِ پاک صرف حکمرانوں کے لیے نہیں بنائی گئی تھی یہ ہمیشہ اپنے عوام کے لیے تھی۔
نوٹ : تنویراحمد امریکا میں مقیم معروف پاکستانی کاروباری شخصیت اور سماجی خدمت گار ہیں۔ وہ ہلالِ امتیاز اور پرائیڈ آف پاکستان کے اعزازات کے بھی حامل ہیں
