• Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
ہفتہ, ستمبر 26, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
Rauf Klasra
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
No Result
View All Result
Rauf Klasra
No Result
View All Result
Home انٹرٹینمنٹ

نصرت فتح علی خان ’دولہے کا سہرا‘ گاتے ہوئے کیوں رو پڑے؟ 150 بار ریکارڈنگ روکنا پڑی

by Ahmed Arsalan
ستمبر 26, 2026
in انٹرٹینمنٹ
0
نصرت فتح علی خان ’دولہے کا سہرا‘ گاتے ہوئے کیوں رو پڑے؟ 150 بار ریکارڈنگ روکنا پڑی
0
SHARES
1.7k
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

تحریر : احمد ارسلان

بالی ووڈ کی مشہور فلم ’دھڑکن‘ کے سپرہٹ گانے ’دولہے کا سہرا سہانا لگتا ہے‘ کے پسِ پردہ ایک ایسی جذباتی کہانی سامنے آئی ہے جو یہ بتاتی ہے کہ عظیم فنکار صرف گانا نہیں گاتے بلکہ اپنے جذبات اور زندگی کے تجربات بھی اپنی آواز میں سمو دیتے ہیں۔

نغمہ نگار سمیر انجان نے ایک بھارتی پوڈکاسٹ میں شرکت کے دوران اس گانے کی ریکارڈنگ کا دلچسپ اور جذباتی قصہ سنایا۔ انہوں نے بتایا کہ موسیقار ندیم شروان، نصرت فتح علی خان کے بہت بڑے مداح تھے اور جب بھی کوئی گانا تیار کرنا ہوتا، وہ پہلے نصرت صاحب کا کوئی گانا سنتے تاکہ ایسا ماحول بن سکے جس میں بہترین موسیقی تخلیق کی جاسکے۔

اسی دوران نصرت فتح علی خان ممبئی آئے۔ اس وقت فلم ’دھڑکن‘ کے بیشتر گانے ریکارڈ ہوچکے تھے۔ ندیم شروان کی خواہش تھی کہ اگر اس فلم میں نصرت فتح علی خان کی آواز میں بھی کوئی گانا شامل ہوجائے تو یہ ان کے لیے بہت بڑی بات ہوگی۔

مسئلہ یہ تھا کہ نصرت فتح علی خان عام طور پر باہر کا گانا نہیں گاتے تھے۔ تاہم ندیم شروان کی درخواست پر ملاقات ہوئی اور انہوں نے اپنی خواہش کا اظہار کیا۔ نصرت فتح علی خان نے کہا کہ وہ گانا صرف اسی صورت میں گائیں گے جب انہیں پسند آئے گا۔

ندیم شروان نے ’دولہے کا سہرا سہانا لگتا ہے‘ تیار کیا اور نصرت فتح علی خان کو سنایا۔ گانا سنتے ہی انہوں نے اسے پسند کرلیا اور کہا کہ جلد از جلد اسٹوڈیو کا انتظام کیا جائے۔

گانے کی ریکارڈنگ سنی اسٹوڈیو میں ہوئی۔ اسی زمانے میں 100 ٹریکس والی جدید ریکارڈنگ مشین بھی بھارت پہنچی تھی، جسے چلانے کے لیے ایک برطانوی ریکارڈسٹ آیا تھا۔ وہ اس سے قبل لندن میں کئی مرتبہ نصرت فتح علی خان کو ریکارڈ کرچکا تھا اور ان کی آواز کی طاقت اور انداز سے بخوبی واقف تھا۔

نصرت فتح علی خان کو مائیک کے سامنے کھڑے ہوکر گانے کی عادت نہیں تھی، اس لیے ان کے لیے بیٹھ کر گانے کا خصوصی انتظام کیا گیا۔ ریکارڈنگ شروع ہوئی اور سب کچھ معمول کے مطابق چلتا رہا، لیکن پھر گانے کے ایک خاص مقام پر ایسا ہوا جس نے وہاں موجود ہر شخص کو حیران کردیا۔

گانے کے بول تھے:

’’میں تیری بانہوں کے جھولے میں پلی بابُل

جا رہی ہوں چھوڑ کر تیری گلی بابُل‘‘

جیسے ہی نصرت فتح علی خان اس لائن پر پہنچے، ان کی آواز جذبات سے بھر گئی اور وہ اچانک رو پڑے۔ ریکارڈنگ روکنا پڑی۔

سمیر انجان کے مطابق یہ واقعہ صرف ایک مرتبہ نہیں ہوا۔ تقریباً 150 مرتبہ اسی لائن پر ریکارڈنگ روکنا پڑی، کیونکہ نصرت فتح علی خان ہر بار گاتے ہوئے جذباتی ہوجاتے اور ان کی آنکھوں سے آنسو نکل آتے۔

بالآخر ندیم شروان نے کہا کہ خان صاحب شاید آج تھک گئے ہیں، بہتر ہے گانا اگلے روز ریکارڈ کرلیا جائے۔ لیکن نصرت فتح علی خان نے اس تجویز کو مسترد کردیا اور کہا:

’’اگر آج یہ گانا ریکارڈ ہوا تو ہوا، پھر کبھی نہیں ہوگا۔ یہ جو بخار مجھے آیا ہے نا، اسی بخار میں یہ گانا نکلے گا، نہیں تو پھر میں یہ گانا نہیں گاؤں گا۔‘‘

جب ان سے پوچھا گیا کہ آخر اس ایک لائن پر وہ اتنے جذباتی کیوں ہوجاتے ہیں تو نصرت فتح علی خان نے ایسا جواب دیا جس نے سب کو خاموش کردیا۔

انہوں نے کہا:

’’میں جیسے ہی یہ لائن بولتا ہوں، مجھے اپنی بیٹی یاد آجاتی ہے۔‘‘

یہ صرف ایک گانے کی لائن نہیں رہی تھی، بلکہ ایک باپ کے دل میں اپنی بیٹی سے جڑی محبت اور جدائی کا احساس بن چکی تھی۔ یہی وجہ تھی کہ ہر بار جب وہ ’’جا رہی ہوں چھوڑ کر تیری گلی بابل ‘‘ کہتے تو ان کے اپنے جذبات ان کی آواز پر حاوی ہوجاتے۔

سمیر انجان کے مطابق اس گانے کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ فلم کے تھیٹر میں انہوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ جب یہی لائن آئی تو لوگ روپڑے اور بہت روئے ۔

انہوں نے کہا کہ یہ ان فنکاروں کا دور تھا جو دل سے کام کرتے تھے۔ ان کی کوشش تھی کہ جب نصرت فتح علی خان جیسا عظیم فنکار گانا گائے تو لکھنے میں بھی کوئی کسر نہ چھوڑی جائے، جبکہ ندیم شروان نے بھی اس کی دھن اور کمپوزیشن انتہائی خوبصورت انداز میں تیار کی۔

اصل منصوبہ یہ تھا کہ یہ گانا نصرت فتح علی خان پر ہی فلمایا جائے، تاہم ان کے انتقال کے بعد فلم میں قادر خان کو مخصوص گیٹ اپ میں اس گانے کے لیے شامل کیا گیا۔

سمیر انجان نے ماضی اور آج کی موسیقی کا موازنہ کرتے ہوئے کہا کہ جب آج کے بچے پوچھتے ہیں کہ پرانے اور موجودہ دور کے میوزک میں کیا فرق ہے تو ان کے پاس ایک ہی جواب ہے:

’’پہلے گانے دل سے بنائے جاتے تھے اور اب دماغ سے کام ہوتا ہے۔ جب دل سے کام ہوتا تھا تو وہ دل میں اترتا تھا، اب دماغ سے ہورہا ہے تو بس وہیں سے آگے نکل جاتا ہے۔‘‘

ہماری آجکل کی ٹک ٹاک جنریشن کو کیا معلوم کہ نصرت فتح علی خان کس چیز کا نام تھا👇❤️

2001 میں میرے بڑے کی شادی تھی تب ڈیک ہوا کرتے تھے تو میں نے بارات والے دن اسپیشل یہ سونگ چلوایا تھا😊 pic.twitter.com/kGDmDHR3fP

— Naseer Awan(نصیر اعوان) (@MNasAwan555) September 25, 2026
Ahmed Arsalan

Ahmed Arsalan

Next Post
سوشل میڈیا پر دھن دولت کی نمائش مہنگی پڑی، بھارتی خاتون یوٹیوبر کے گھر 81تولے زیورات کی ڈکیتی

سوشل میڈیا پر دھن دولت کی نمائش مہنگی پڑی، بھارتی خاتون یوٹیوبر کے گھر 81تولے زیورات کی ڈکیتی

پچھلا جلسہ موخر ، اب کی بار جلسہ یا دھرنا ؟ چیئرمین پی ٹی آئی کا بڑا سرپرائز ، جولائی کی تاریخ دے دی

پی ٹی آئی کی حکومت کے ساتھ آنکھ مچولی

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • About
  • Advertise
  • Careers
  • Contact

© 2024 Raufklasra.com

No Result
View All Result
  • Home
  • Politics
  • World
  • Business
  • Science
  • National
  • Entertainment
  • Gaming
  • Movie
  • Music
  • Sports
  • Fashion
  • Lifestyle
  • Travel
  • Tech
  • Health
  • Food

© 2024 Raufklasra.com

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In