واشنگٹن: امریکا کے جدید ترین اور انتہائی خفیہ ٹیکنالوجی سے لیس F-35 اسٹیلتھ فائٹر کے اہم پرزے ہانگ کانگ پہنچنے اور چین کے ہاتھ لگنے کی اطلاعات پر پینٹاگون نے تحقیقات شروع کردی ہیں۔
امریکی حکام کے مطابق F-35 کے پرزوں کی ایک کھیپ آسٹریلیا سے امریکا بھیجی جارہی تھی، تاہم راستے میں غیر متوقع طور پر ہانگ کانگ پہنچ گئی۔ یہ واضح نہیں ہوسکا کہ کھیپ کا رخ ہانگ کانگ کی جانب کیسے موڑا گیا۔
بلومبرگ کے مطابق چین کے پاس F-35 کے کاک پٹ کینوپی اور ہتھیاروں کے خانے کا دروازہ موجود ہے۔ یہ پرزے آسٹریلیا سے امریکا مرمت یا تلفی کے لیے بھیجے گئے تھے۔
F-35 جوائنٹ پروگرام آفس نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی حکام اور صنعتی شراکت دار پرزے واپس حاصل کرنے، واقعے کی تحقیقات اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے حفاظتی اقدامات پر کام کر رہے ہیں۔
دوسری جانب آسٹریلیا کے وزیر دفاع رچرڈ مارلز نے تصدیق کی کہ طیارے کے پرزے ہانگ کانگ پہنچے، تاہم ان کا کہنا تھا کہ دستیاب معلومات کے مطابق یہ حساس آلات یا حساس پرزے نہیں تھے۔
واقعے پر امریکی کانگریس میں بھی تشویش کا اظہار کیا گیا ہے، جبکہ پولیٹیکو کے مطابق اس معاملے نے یہ خدشات پیدا کیے ہیں کہ چین کو F-35 کی انتہائی خفیہ ٹیکنالوجی کے اہم اجزا تک رسائی حاصل ہوسکتی ہے۔
F-35 کو امریکا کا جدید ترین پانچویں نسل کا اسٹیلتھ لڑاکا طیارہ سمجھا جاتا ہے، جس میں جدید ریڈار، سینسرز، اسٹیلتھ ٹیکنالوجی اور جنگ کے دوران اتحادی طیاروں و زمینی فورسز سے رابطے کی جدید صلاحیت موجود ہے۔
کانگریشنل ریسرچ سروس کے مطابق اب تک 1,200 سے زائد F-35 طیارے تیار کیے جاچکے ہیں جبکہ 19 ممالک ان طیاروں کے آرڈر دے چکے ہیں۔
یہ واقعہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب چین پر ماضی میں امریکی دفاعی پروگرامز سے متعلق سائبر معلومات حاصل کرنے کے الزامات بھی عائد کیے جاچکے ہیں۔ 2013 میں امریکی ڈیفنس سائنس بورڈ نے دعویٰ کیا تھا کہ چینی سائبر حملہ آوروں نے پینٹاگون کے متعدد پروگرامز کا ڈیٹا حاصل کیا، جن میں F-35 کا جوائنٹ اسٹرائیک فائٹر پروگرام بھی شامل تھا۔
اب اصل سوال یہ ہے کہ F-35 کے پرزے امریکا پہنچنے کے بجائے ہانگ کانگ کیسے پہنچے اور چین تک ان کی رسائی کیسے ہوئی؟ پینٹاگون کی تحقیقات میں اس سوال کا جواب تلاش کیا جارہا ہے۔
