عرب نیوز میں وسیم عباسی کی رپورٹ
اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف کے 27 ستمبر کو اسلام آباد کی جانب احتجاجی مارچ سے قبل تقریباً 2 ہزار مال بردار گاڑیاں تحویل میں لیے جانے کا ٹرانسپورٹرز نے دعویٰ کیا ہے، جس کے باعث اربوں روپے مالیت کا تجارتی سامان پھنس گیا جبکہ ٹرانسپورٹرز کے نقصانات میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔
آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ اونرز ایسوسی ایشن کے صدر محمد اویس چوہدری کے مطابق اسلام آباد میں تقریباً 1,000 کنٹینر گاڑیاں جبکہ راولپنڈی اور گردونواح کے اضلاع میں مزید 1,000 گاڑیاں تحویل میں لی گئی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بعض گاڑیاں 6 ستمبر سے کھڑی ہیں۔
اویس چوہدری کے مطابق کچھ کنٹینرز سامان سے لدے ہوئے ہیں، جن میں بعض گاڑیوں پر 2 کروڑ سے 4 کروڑ روپے مالیت تک کا سامان موجود ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مجموعی طور پر تجارتی سامان کی مالیت اربوں روپے تک پہنچ سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ صورتحال صرف ٹرانسپورٹرز کے لیے نقصان دہ نہیں بلکہ تاجروں، معیشت اور عام شہریوں کو بھی متاثر کرسکتی ہے۔ ٹرانسپورٹرز نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ سامان سے لدے کنٹینرز فوری خالی کرائے جائیں اور گاڑیوں کے مالکان کو مناسب معاوضہ دیا جائے۔
تاجر رہنما اجمل بلوچ نے بتایا کہ بعض تحویل میں لی گئی گاڑیوں میں خوراک، ادویات اور دیگر سامان موجود ہے۔ ان کے مطابق گاڑیاں طویل عرصے تک پھنسی رہیں تو خراب ہونے والا سامان ضائع ہوسکتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ سیکیورٹی انتظامات کے باعث مارکیٹوں میں صارفین کی آمد میں پہلے ہی کمی دیکھی جارہی ہے۔
دوسری جانب ٹرانسپورٹرز کے ساتھ مذاکرات میں شامل ایک سینئر حکومتی عہدیدار نے سامان سے لدے کنٹینرز کو بطور رکاوٹ استعمال کرنے کے دعوے کو مسترد کردیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی معلومات کے مطابق کنٹینرز خالی ہیں، تاہم اگر کوئی کنٹینر سامان سے لدا ہوا ہے تو اسے واپس کردیا جائے گا۔
حکومتی عہدیدار کے مطابق سیکیورٹی آپریشن کے لیے استعمال ہونے والے کنٹینرز کے مالکان کو معاوضہ دینا معمول کا طریقہ کار ہے، جبکہ اہم موٹرویز اور شاہراہیں کھلی ہیں اور ملک میں سپلائی کا کوئی بڑا مسئلہ نہیں۔
تاہم موٹروے پولیس کی جانب سے M-1 موٹروے، M-14 اور N-5 ہائی وے کے بعض حصوں پر پابندیوں کا اعلان کیا گیا ہے۔
حکومت نے سڑکوں کی ممکنہ بندش کے پیش نظر ایندھن کی سپلائی برقرار رکھنے کے لیے ہنگامی منصوبہ بھی تیار کیا ہے۔ وزارت پٹرولیم کے مطابق اہم ڈپوؤں پر اضافی ذخائر رکھے گئے ہیں جبکہ ضرورت پڑنے پر خیبرپختونخوا کو بالخصوص ڈیزل کی ترسیل کے لیے پاکستان ریلوے کے مال بردار ویگنز استعمال کیے جائیں گے۔
پاکستان شپ ایجنٹس ایسوسی ایشن کے سیکریٹری جنرل سید طاہر حسین نے کہا کہ بندرگاہوں پر شپنگ لائنز کو تاحال کسی بڑی رکاوٹ کی اطلاع نہیں ملی، تاہم کنٹینرز کو نقصان پہنچنے کی صورت میں ٹرانسپورٹرز کو مالی ذمہ داری کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
پی ٹی آئی نے اپنے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی رہائی کے مطالبے کے لیے 27 ستمبر کو اسلام آباد مارچ کی کال دے رکھی ہے۔ حکومت نے سیکیورٹی انتظامات کے تحت مختلف راستوں پر رکاوٹیں اور پابندیاں عائد کی ہیں۔

