وزیراعلیٰ پنجاب کی زیر صدارت کورونا وائرس کے متعلق پہلے اجلاس میں چیف سیکرٹری ، ایڈیشنل سیکرٹری داخلہ سمیت تمام وزرا اور بیوروکریسی موجود تھی، اس وقت تک کورونا کا کوئی کیس پاکستان میں سامنے نہیں آیا تھا۔
اس اجلاس کے چند شرکاء کا کہنا ہے کہ ایجنڈے میں مزید کئی محکموں کے کیسز بھی شامل کر دیے گئے اور کورونا وائرس کو آخری ایجنڈے کے طورپر رکھا گیا، جب کورونا وائرس کی باری آئی تو بعض وزرا کی جانب سے سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں ہوا۔
بعض افسران اور چند وزرا نے کہا کہ یہ سنجیدہ معاملہ ہے، اس کا ایک بھی کیس آ گیا تو یہ بڑھ کر کئی سو تک پہنچ جائے گا، اس پر ایک سیکرٹری نے اپنی بریفنگ شروع کی جس میں کچھ مثالیں دیں اور چند کتابی واقعات سنا کر انہیں اس کیس سے جوڑ دیا۔
ان کی بریفنگ ختم ہوئی تو وزرا خاموش ہو گئے اور کسی نے یہ نہیں کہا کہ ہمیں اس پر کام کرنے کے لیے آگے نکلنا ہو گا، یہ معاملہ ابھی چل ہی رہا تھا کہ کابینہ کا اجلاس بغیر کسی نتیجے کے ختم کرنے کا کہہ دیا گیا۔
اس دوران چیف سیکرٹری نے کہا کہ ہمیں اس پر کوئی فیصلہ لینا چاہیے تاکہ کچھ نہ کچھ قبل از وقت تیاری کر لی جائے، اس پر وزیراعلیٰ عثمان بزدار دوبارہ بیٹھ گئے اور ان سے منصوبہ بندی کی تفصیل دریافت کی۔
پنجاب کے مختلف شہروں میں کورونا وائرس کے مریضوں میںاضافہ
کورونا وائرس، پنجاب میں نیا حکم نامہ نافذ، بھاری جرمانے اور سزاؤں کا اعلان
پاکستان میں کورونا سے مزید 2 افراد جاں بحق، مریضوں کی تعداد میں اضافہ جاری
محکمہ صحت کی جانب سے کچھ بہت ہی بنیادی تجاویز سے آگاہ کیا گیا، ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ مومن آغا کی جانب سے بریفنگ دی گئی، انہوں کچھ فیصلے کرائے اور کہا کہ ہمیں فوری طورپر ان پر عملدرآمد کرنا ہوگا۔
انہوں نے اجلاس میں واضح کیا کہ لوگوں کو اس بارے میں پوری طرح علم نہیں ہے، یہ بہت سنجیدہ معاملہ ہے۔ انہوں نے کچھ ممالک کی مثالیں بھی دیں۔
بعض وزرا نے بعد ازاں بتایا کہ اجلاس تو ختم ہو گیا اور کچھ فیصلے بھی ہو گئے لیکن کابینہ اجلاس کے اختتام پر چند وزرا باہر آ کر اس کا مذاق اڑاتے اور قہقے لگاتے رہے۔
پنجاب کے ایک انتہائی سینئر وزیر، جو پہلے بھی ایک اہم عہدے پر رہ چکے ہیں، نے بتایا کہ جب کچھ وزرا قہقے لگارہے تھے اور مذاق اڑا رہے تھے تو انہیں بہت ہی دکھ ہو رہا تھا کہ یہ اسقدر خوفناک وبا کو کس طرح لے رہے ہیں۔
انہوں نے اس خدشے کا اظہار کیا کہ اگر یہ وبا پاکستان میں پھیل گئی تو اس پر قابو پانا بہت ہی مشکل ہو گا کیونکہ ہمارے پاس اس حوالے سے سہولیات میسرنہیں ہیں۔
اب جبکہ یہ وبا پاکستان میں قدم جما چکی ہے تو انہی وزیر نے دوبارہ بتایا کہ جب ہم کہتے رہے کہ اس معاملے کو سنجیدہ لینا چاہیے تو کبھی پنجاب سے اور کبھی وفاق سے معاملے کو گول مول کر دیا جاتا رہا۔
بھارت میں کورونا کے شکار ہندو کی آخری رسومات مسلمانوں کے ہاتھوں، ویڈیو وائرل
پاکستان میں کورونا کے مریضوں کی تعداد بہت بڑھ سکتی ہے، ڈاکٹر عطاالرحمان
پنجاب کے سینئر افسر اور وزرا نام نہ بتانے کی شرط پر اس سارے واقعے کی تصدیق کرتے ہیں، البتہ پنجاب حکومت کے ترجمان اس کے متعلق کچھ بتانے سے گریز کر رہے ہیں۔
وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد کا کہنا ہے کہ حکومت نے اس معاملے کو بہت سنجیدگی سے لیا ہے اور ہر اجلاس میں مثبت اور فوری فیصلے لیے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومت پنجاب نے اپنے فیصلوں پر عملدرآمد کرانے کے لیے ہر ممکن کوششیں کی ہیں، اجلاسوں میں اظہار خیال ہوتا ہے اور ان کی باتوں کو سنا بھی جاتا ہے۔
صوبائی وزیر صحت کے مطابق کسی نے ایسی بات نہیں کی، پنجاب حکومت شروع دن سے ہی اس مسئلے کو سنجیدگی سے لے رہی ہے۔
