اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ اگر ہم لوگوں کو کھانا نہیں پہنچا سکتے تو لاک ڈاؤن کا کوئی فائدہ نہیں۔
قوم سے خطاب کے دوران وزیراعظم نے کہا کہ چین نے ووہان کو لاک ڈاؤن کر کے کورونا کو شکست دی لیکن ہمارے حالات بہت مختلف ہیں، پاکستان کی 25 فیصد آبادی خط غربت سے نیچے رہ رہی ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ لاک ڈاؤن کیا تو لوگ وائرس سے نہیں بلکہ بھوک سے مر جائیں گے، ہم نے ملکی حالت دیکھ کر یہ جنگ حکمت عملی سے لڑنی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بھارتی وزیراعظم نے لاک ڈاؤن کے فیصلے پر قوم سے معافی مانگی کیونکہ وہاں لوگ بھوک کی وجہ سے سڑکوں پر آ گئے۔
عمران خان اور بلوچستان کی معذور بچی
پنجاب میں کورونا وائرس کے خطرے کو سنجیدہ نہیں لیا گیا؟ اندورنی کہانی
پنجاب کے مختلف شہروں میں کورونا وائرس کے مریضوں میںاضافہ
عمران خان نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہم نے پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا پیکج دیا ہے جو آٹھ ارب ڈالر پر مشتمل ہے۔
انہوں نے پرائم منسٹر کورونا ریلیف فنڈ کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اس میں رقم جمع کرانے پر کوئی پوچھ گچھ نہیں ہو گی۔
انہوں نے بیرون ملک پاکستانیوں سے اپیل کی کہ وہ بڑھ چڑھ کر ریلیف فنڈ میں حصہ لیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ہماری پہلی طاقت ایمان اور دوسری نوجوان ہیں جو پاکستان کی آبادی کا بڑا حصہ ہیں۔
انہوں نے کورونا سے مقابلے کے لیے ریلیف ٹائیگر فورس کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ہم جن علاقوں کو لاک ڈاؤن کریں گے وہاں ٹائیگر فورس کے رضاکار کھانا پہنچائیں گے۔
وزیراعظم نے اپنے خطاب میں بتایا کہ بےروزگار افراد کو اسٹیٹ بینک سستا قرض فراہم کرے گا۔
انہوں نے ذخیرہ اندوزوں کو متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں اناج کی کوئی کمی نہیں لیکن آپ لوگوں کی وجہ سے لوگ بھوک سے مر جائیں گے۔
عمران خان نے اعلان کیا کہ اگر کسی نے ذخیرہ اندوزی کی تو اسے عبرتناک سزا دیں گے، ہمیں پاکستان کے غریب طبقے کا خیال رکھنا ہے۔
