وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید نے تین سو کوچز کو آئسو لیشن وارڈز میں تبدیل کرنے کا اعلان کر دیا۔
انہوں نے کہا کہ بڑھتے ہوئے کورونا مریضوں کے پیش نظر ریلوے نے ایمرجنسی کی صورت میں 450 بستروں کا انتظام کیا ہے جبکہ کچھ کوچز میں وینٹی لیٹرز کی سہولت بھی فراہم کی گئی ہے۔
وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ اس وقت ریلوے کی طرف سے ملتان، کراچی، پشاور، سکھر اور کوئٹہ میں موجود کوچز میں سات اسپتال بنا دیے گئے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان ریلوے کے پاس 17 سو کوچز موجود ہیں، راولپنڈی اسٹیشن کے ساتھ ساتھ 570 ریلوے اسٹیشن ہیں جن میں 16 نئے اسٹیشن بھی شامل ہیں۔
;لوگوں کو کھانا نہیں پہنچا سکتے، عمران خان کا لاک ڈاؤن سے انکار
رائیونڈ مرکز میں تبلیغی جماعت کے27 افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق
پاکستان میں کورونا کے مریضوں کی تعداد بہت بڑھ سکتی ہے، ڈاکٹر عطاالرحمان
شیخ رشید نے مزید کہا کہ تمام ریلوے اسٹیشن میں ٹوائلٹ اور پانی کی سہولت موجود ہے۔
اپنے ایک ٹویٹ میں ان کا کہنا تھا کہ ملک بھر میں 570 ریلوے اسٹیشن میں قرنطینہ کے لیے انتظامات بھی موجود ہیں۔
شیخ رشید نے مزید کہا کہ ہم مسافرریل گاڑیاں نہیں چلا رہے ہیں کیونکہ وزیراعظم عمران خان نے کور کمیٹی کے اجلاس میں میں ٹرینوں کو نہ چلانے کی ہدایت کی ہے۔
وفاقی وزیر ریلوے نے کہا کہ پہلے ہمارا خیال تھا کہ یکم اپریل کو مسافر ٹرینیں چلائیں گے مگر وزیر اعظم کے احکامات کے بعد تاحکم ثانی مسافر ٹرینوں کو نہیں چلایا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ جب ٹرینوں کوچلانے کا فیصلہ کیا جائے گا تو پھر 48 سے لے کر72 گھنٹے پہلے بکنگ شروع کی جائے گی، فریٹ ٹرینیں ملک بھر میں چل رہی ہیں۔
وفاقی وزیر شیخ رشید نے کہا کہ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے اور امید کرتے ہیں کہ پاکستان سمیت پوری دنیا اس موذی مرض سے نجات حاصل کرے گی۔
ہمسایہ ملک بھارت بھی ٹرینوں کو آئسو لیشن وارڈز کے طور پر استعمال کرنے کا سوچ رہا ہے مگر تاحال اس کی عملی شکل سامنے نہیں آئی۔
