دنیا بھر میں کورونا وائرس کے مریضوں کے علاج اور طبی سہولیات کے لیے ہر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے مخیرحضرات مالی معاونت کے لیے بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں۔
تاہم ایسے لوگوں کی تعداد نسبتاً کم ہے جنہوں نے لاک ڈاؤن کی وجہ سے متاثر ہونے والے ملازم طبقے کے متعلق سوچا ہو۔
مشہور امریکی گلوکارہ ٹیلر سوئفٹ ایسے معروف افراد میں شامل ہیں جنہوں نے اس ملازمت پیشہ طبقے کا سوچا ہے جو لاک ڈاؤن کی وجہ سے شدید مالی مشکلات کا شکار ہے۔
ٹیلر سوئفٹ نے کورونا وائرس کی بندشوں کے دوران امریکی شہر نیش ول میں اپنے گھر کے قریب موجود ایک ونٹیج ریکارڈ اسٹور کے ملازمین کی تنخواہوں اور طبی دیکھ بھال کا بیڑا اٹھایا ہے۔
جب امریکی گلوکارہ 13 سال کی تھیں تو انکے میوزک کیرئیر کے لیے ان کے اہل خانہ نے نیش ول شہر کو اپنا مسکن بنایا۔
جس شہر نے ٹیلر سوئفٹ کو فلمی دنیا کے راستے پر ڈالا، اب وہ اسی شہر کو کچھ لوٹانے واپس آئی ہیں اور فیصلہ کیا ہے کہ وہ لوگوں کے من پسند ونٹیج میوزک اسٹور کے عملے کی مدد کریں گی۔
کورونا وائرس کے باعث امریکہ شدید بیروزگاری کے چنگل میں
بھارت میںلاک ڈاؤن بیروزگاری، اموات، ہجرت اور بھوک کی دردناک داستان بن گیا
کورونا کے اثرات کے متعلق دنیا کے بڑے بنکوں کی پیش گوئیاں
برطانوی اخبار ڈیلی میل کے مطابق لاک ڈاؤن کی وجہ سے میئر کے احکامات کے تحت اسٹور بند ہوا تو ٹیلر سوئفٹ کے نمائندے نے رابطہ کر کے اگلے تین ماہ کے دوران عملے کے لیے تنخواہیں اور طبی سہولیات کے اخراجات ادا کرنے کی پیشکش کی۔
اسٹور کے شریک مالک ڈوئل ڈیوس نے امریکی ماہانہ میگزین رولنگ سٹون کو بتایا کہ جب انہیں پیشکش ہوئی تو وہ بہت حیران ہوئے اور انہیں امید ہے کہ اسٹور کورونا وائرس کے بعد اپنی ٹاپ ٹریڈنگ جاری رکھنے کے قابل ہو گا۔
ڈیوس نے تسلیم کیا کہ ہم نہیں جانتے تھے کہ ہم سپر اسٹار کی نظروں میں ہیں اور کہا کہ وہ اس بات پر بہت خوش ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس پیشکش کے باوجود کاروبار کے لیے قرضوں کی درخواست کرنی ہو گی تاکہ کرایہ اور دیگر اخراجات ادا کیے جا سکیں لیکن ٹیلر کی مالی مدد نے ہمیں امید دی ہے کہ کاروبار کو بحال کر سکیں۔
عملہ کے ایک رکن خریدار ول اورمین نے میگزین کو بتایا کہ یہ ناقابل یقین حد تک خوش کن حقیقت ہے کہ ٹیلر سوئفٹ نے اس طرح کھل کر ہماری مدد کرنے کی پیشکش کی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مستقبل میں غیر یقینی صورتحال ہے اور ہم گلوکارہ کی سخاوت کے شکر گزار ہیں جن کے تعاون نے ہمیں اس قابل بنایا کہ ہم اسٹور پر واپس آ کر کام جاری رکھیں اور کمیونٹی کے ساتھ منسلک رہیں۔
دہائی کے سب سے زیادہ کمانے والے موسیقاروں میں سے ایک، 30 سالہ ٹیلر اسٹورز کے علاوہ کسی نا کسی انداز میں اپنے مداحوں کی مدد کر رہی ہیں۔
کورونا وبا کا خاتمہ کیسے ہو گا؟ تین امکانات سامنے آ گئے
یورپ میںلاک ڈاؤن کے باعث کرہ ارض کی سانسیں بحال ہونے لگیں
وباء کے دوران وہ در پردہ خاموشی سے اپنے مداحوں کو رقوم بھیج رہی ہیں۔
ان کے مداحوں میں سے بیس نے بتایا ہے کہ پاپ اسٹار نے گذشتہ چند ہفتوں میں ان کی کالز میں ہر ایک کو 3 ہزار ڈالر کا عطیہ دیا ہے۔
اپنے مداحوں کے مسائل پڑھنے کے بعد انکے پےپال اکاؤنٹ کی تفصیلات لینے انہوں نے پرائیویٹ میسج کیے تاکہ انہیں رقوم بھجوائیں جائیں۔
سامنتھا جیکوبسن نے ٹمبلر پر لکھا تھا کہ وہ اپنی ‘واحد ذریعہ آمدنی’ سے محروم ہو گئی تھیں، کاک ٹیل بار کے بعد انہوں نے ڈزنی ورلڈ، فلوریڈا میں کام کیا جو وبا کی وجہ سے ایک ماہ کے لئے بند ہوگئی۔
ٹیلر نے پوسٹ پڑھ کر اسے بلوں کی ادائیگی میں مدد کرنے کی پیش کش کی۔
ہولی ٹرنر نامی ایک فوٹوگرافر نے ٹمبلر پوسٹ میں اپنے خدشات کے بارے میں لکھتے ہوئے کہا کہ وباء کی وجہ سے انہیں نیویارک چھوڑنا پڑے گا جس سے مالی معاملات متاثر ہونگے، اس صورتحال میں ٹیلر ان کی مدد کو آئیں۔
ٹیلر سوئفٹ نے ہولی کی پوسٹ پر اسے مخاطب کرتے ہوئے لکھا کہ ہولی تم نے ہمیشہ میرا ساتھ دیا، اب میں تمھاری مدد کرنا چاہتی ہوں۔
اسی طرح ٹیلر سوئفٹ نے ایک اور ضرورتمند مداح کو لکھا کہ میں نے آپکی پوسٹ پڑھی اور میں 3 ہزار ڈالر تحفے میں دینا چاہتی ہوں تاکہ آپ کے حالات کی وجہ سے پیدا ہونے والی پریشانی دور ہو۔
ٹیلر سوئفٹ فیڈنگ امریکہ اور عالمی تنظیم برائے صحت کو بھی عطیات دیے ہیں، انہوں نے اہنے مداحوں سے اپیل کی ہے کہ وہ ان تنظیموں سے تعاون کریں اور کورونا وائرس سے بچنے کے لیے انتظامیہ کی ہدایات کا احترام کرتے ہوئے گھروں میں رہیں۔
انہوں نے انسٹاگرام پر اپنے مداحوں کو کہا ہے کہ وہ دیکھ رہی ہیں کہ پارٹیوں کا اہتمام کیا جا رہا ہے جبکہ یہ وقت سارے منصوبے منسوخ کر کے ممکنہ حد تک خود کو الگ تھلگ کر کے گزارنے کا ہے.

