اٹلی میں 60 سے زائد ڈاکٹرز کورونا وائرس کا شکار ہو کر ہلاک ہو چکے ہیں۔ برطانیہ میں اس وبا سے ہلاک ہونیوالے ڈاکٹرز کی تعداد 8 ہے جبکہ پاکستان میں اب تک تین ڈاکٹرز کورونا وبا کی وجہ سے جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔
ایسے حالات میں جب دنیا بھر میں ڈاکٹروں کو حفاظتی سامان کی کمی کا سامنا ہے اور ان کے کورونا وبا کا شکار ہونے کی شرح میں اضافہ ہو رہا ہے تو سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا وبا کے دوران بھی، جب اس کی اپنی زندگی کو خطرہ ہو، علاج کی ذمہ داری ڈاکٹر پر عائد ہوتی ہے؟
اپنی زندگی کو خطرہ ہو تو ڈاکٹرز کو کیا کرنا چاہیے؟
اس سوال کا جواب دیتے ہوئے نیویارک کے ماہر امراض دل ڈاکٹر سندیپ جوہر کا کہنا ہے کہ طب کے انسان دوست شعبہ کو اختیار کرتے ہوئے تمام ڈاکٹرہر قسم کے خطرات قبول کرنے پر رضامند ہو چکے ہوتے ہیں۔
انکا کہنا ہے کہ مریضوں کا خیال رکھنا ہیلتھ کیئر ورکرز پر فرض ہے۔ امریکی کالج آف فزیشنز کے اخلاقی دستورالعمل میں واضح الفاظ میں کہا گیا ہے کہ وبا کے دوران بھی علاج ڈاکٹروں کا اخلاقی فرض ہے۔
امریکی میڈیکل ایسوسی ایشن کی جانب سے اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ آفات کے دوران علاج کرنا ڈاکٹر پر فرض ہے اور اگر معالج کی زندگی، صحت یا تحفظ کو خطرات ہوں تب بھی انہیں اس فرض سے پیچھے نہیں ہٹنا چاہئے۔
کورونا وائرس کا علاج کرنے والے برطانوی ڈاکٹر کی درد بھری داستان
قربانی اور ایثار کی دیوی، برطانوی نرس اریمہ نسرین جان کی بازی ہار گئیں
زندگیاں بچانے والے پاکستانی ڈاکٹرز کو کورونا سے شدید خطرہ لاحق
کورونا وبا کے دوران ہیلتھ ورکرز کو دہرے خطرات کا سامنا ہے۔ ایک طرف انکی اپنی زندگی کو خطرہ ہے تو دوسری طرف انہیں اس بات کا ڈر ہے کہ کورونا وائرس کے مریضوں کے علاج کے دوران وہ اپنے خاندان والوں کیلئے وائرس کے کیریئر ثابت نہ ہوں۔
ڈاکٹر سندیپ کا کہنا ہے کہ فرائض کی ادائیگی کے دوران ڈاکٹر کورونا وائرس کے باعث اپنی صحت کیلئے خطرات پر تو سمجھوتہ کرسکتے ہیں مگر بہت سوں کیلئے یہ قابلِ قبول نہیں کہ وہ کورونا وائرس جیسی وبا اپنے خاندان تک لے جائیں۔
ان کا کہنا ہے کہ ہیلتھ ورکرز کے وائرس سے متاثر ہونے کی شرح بہت زیادہ ہے اس لیے اس بات کا خطرہ ہوتا ہے کہ یہ لوگ اپنے پیاروں کو وائرس سے متاثر نہ کر بیٹھیں۔
وبا کے دوران ڈاکٹروں کے رویہ کا تاریخی پس منظر
وبا کے دوران علاج کا تصور زیادہ پرانی بات نہیں۔ ڈاکٹر سندیپ کے مطابق انسانی تاریخ کے زیادہ تر حصہ میں بڑے پیمانے پر پھیلنے والی بیماریوں کے دوران ڈاکٹر بھاگ جاتے تھے۔ سن 165ء میں روم میں طاعون کے دوران تاریخ کے معروف معالج گیلن کے علاوہ تمام ڈاکٹر بھاگ گئے۔
اسی طرح 1793ء میں فلاڈیلفیا میں پیلے بخار کی وبا کے دوران بہت سے معروف معالج شہر چھوڑ کربھاگ گئے تھے۔
ڈاکٹروں کے اس رویہ کا 1847 میں ’امریکی میڈیکل ایسوسی ایشن‘ نے ضابطہ اخلاق میں یہ کہہ کر حل نکالا کہ ڈاکٹر اپنی زندگی کو لاحق خطرات کے دوران بھی اپنا کام جاری رکھیں۔ مگر مختلف مواقع پر ڈاکٹروں کی جانب سے اس پر پوری طرح سے عمل دکھائی نہیں دیا۔
ایڈز کی وبا کے شروع کے دنوں میں ڈاکٹروں نے اکثروبیشتر ایڈز کے مریضوں کا علاج کرنے سے انکار کیا۔
1986 میں امریکن کالج آف فزیشنز اور دی انفیکشس ڈیزیزز سوسائٹی آف امریکہ کی جانب سے مشترکہ اعلامیہ میں کہا گیا کہ ہیلتھ کیئر ورکرز ہر حال میں اپنے مریضوں کا خیال کریں۔
اعلامیہ میں یہ بھی کہا گیا کہ ڈاکٹرکو مریض کی بیماری لگنے کا خطرہ ہو تب بھی وہ اس کا خیال رکھیں۔ اس کے باوجود 1995ء میں کانگو میں ایبولا وبا کے دوران ڈاکٹروں نے مریضوں کو نہیں دیکھا۔
اسی طرح 2003 میں ٹورانٹو میں سارس وبا کے دوران، جس میں لگ بھگ آدھے متاثرین ہیلتھ پروفیشنلز تھے، بہت سے ہیلتھ ورکرز نے نوکریوں پر جانے سے انکار کر دیا تھا۔
ڈاکٹر شہید نہیں بننا چاہتے
تاریخ کے آئینہ میں دیکھا جائے تو اس بات کا خدشہ ہے کہ اگر ماسک اور دیگر حفاظتی سامان کی کمی رہتی ہے تو ڈاکٹر اور نرسیں کورونا وبا کے دوران کام کرنا چھوڑ سکتے ہیں۔
ڈاکٹر سندیپ کے مطابق انہیں نہیں لگتا کہ ایسے ہوگا مگر اگر ایسے ہو گیا تو یہ تباہی ہوگی۔ ان کا کہنا ہے کہ ہیلتھ کیئر ورکرز لوگوں کا علاج کر کے قربانی دیتے رہیں گے۔
تاہم ڈاکٹر سندیپ کا یہ بھی کہنا ہے کہ لوگ یہ نہ فرض کریں کہ ڈاکٹروں کی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں غیر مشروط ہیں۔ ان کے مطابق ڈاکٹروں کے غیر مشروط فرائض کا نظریہ لوگوں کو انکی ذمہ داروں سے بری کر دے گا۔
انکے مطابق اس سے لوگ سماجی دوری اختیار نہیں کریں گے جس سے ڈاکٹروں کیلئے خطرات بڑھ جائیں گے۔ ڈاکٹر حکومت کی سماجی دوری میں نرمی جیسی تنگ نظری پر مبنی پالیسیوں کی قیمت نہیں چکانا چاہتے۔ انہیں مناسب ماسک چاہئیں۔
ان کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر اور نرسیں اس وبا کے دوران ہیرو بن سکتے ہیں مگر وہ شہید نہیں بننا چاہتے۔
