آپ کو عنوان پڑھ کر قطرینہ کیف کا خیا ل آنے لگا ہے تو یہ یقیناً آپ کے زندہ بلکہ زندہ دل ہونے کی نشانی ہے لیکن یہ قطرینہ کیف کی حشر سامانیوں کا نہیں بلکہ کورونا کی ہلاکت خیزیوں کا تذکرہ ہے۔
تو عرض کیا ہے!
آج سے تقریباً 100 سال قبل کی بات ہے۔ دنیا کو ایسی وبا کا سامنا کرنا پڑا، جب دنیا کی آبادی لگ بھگ 2 ارب تھی، جس سے دیکھتے ہی دیکھتے 5 کروڑ افراد لقمئہ اجل بن گئے۔ اس تیزی سے پھیلتی وبا نے دنیا کی تاریخ، معاشرت، جغرافیہ اور سیاست کا حلیہ بگاڑ کے رکھ دیا۔
”انساں ” پہ ترے آ کے عجب وقت پڑا ہے
اس کا رونا ابھی پوری طرح ختم نا ہو ا تھا کہ 100 سال بعد پھر کورونا کا رونا، رونا پڑ رہا ہے۔ کورونا کے خوف نے پوری دنیا کو اپنے حلقہ اذیت میں جکٹر لیا ہے۔ ان دیکھا تو ہے ہی، وار اور شکار بھی انسان کا کرتا ہے۔ پھر اسی پر بس نہیں، برائی کی طرح پھیلتا اور آگے بڑھتا چلا جاتا ہے۔ غم صرف یہ نہیں ہے کہ اس کی ویکسین نہیں۔ دکھ تو یہ ہے اس کا علاج بھی نہیں ہے۔ انسان پر ایسی کڑی آزمائش کی مثال انسان کی معلوم تاریخ میں نہیں ملتی۔ البتہ قرآن میں ایسے واقعات مذکور ہیں جب نسلیں صفحہ ہستی سے مٹ گئیں۔ جیسے طوفانِ نوح، قوم لوط وغیرہ۔
ایسے دیکھتی ہے جیسے نہیں دیکھتی نظر
آپ کو کورونا ہے یا آپ تاحال اس سے محفوظ ہیں۔ درج ذیل سطور پڑھ کر آ پ کو معلوم ہو جائے گا۔ دریائے سندھ ضلع ڈیرہ غازی خان اور ضلع لیہ کے درمیان سے ہو کر گزرتا ہے۔ لیہ دریائے سندھ سے اتنا ہی سیراب اور فیض یاب ہوتا ہے جتنا صحرا ایک بھر پور بارش سے۔ لیکن ضلع ڈیرہ غازی خان سے یو ں ہو کر گزرتا ہے گویا!
؎ میرے پاس سے گزر کر میرا حال تک نہ پوچھا
میں یہ کیسے مان جاوں کہ وہ دور جا کے رویا
پیاس بہ لب نسل کا ایک لطیفہ!
صدیوں کی پیاس لیے تحصیل تونسہ شریف کی ایک نسل پانی کی اس تلاش میں لیہ آن پہنچی تو بہت سے نوجوانوں نے محکمہ تعلیم کا آسرا لیا۔ لیہ میں تعینات ایک ٹیچر اپنے والد صاحب کو بھی ساتھ لے آئے۔ والد صاحب ایسے علاقے سے آئے تھے جہاں بجلی تو کجا، پینے کا پانی تک دستیاب نا تھا۔ گرمیوں کی شام تھی صحن میں چھڑکاؤ کر کے پیڈسٹل فین لگایا گیا۔ مٹی کی سوندھی سوندھی خوشبو،رمیوں کی خنک شام ، جسم پر ہلکے سے پسینےور پنکھے کی ٹھنڈی ہوا نے ایک کیف آور ماحول پیدا کر دیا تھا۔ بزرگ نے ایک لطف آگیں احساس کے ساتھ پنکھے کے آگے بیٹھ کر، ذرا قریب تر ہو کر پنکھے کا رخ اپنی طرف موڑنے کے لئے اپنی لاٹھی کے ذریعے پنکھے کی جالی کو ذرا چھوا ہی تھا کہ لاٹھی ذرا آگے چلی گئی اور پنکھے کے پروں سے جا ٹکرائی اور یک دم ”ٹررن”کی آواز آئی۔ پنکھے کے اچانک احتجاج اور اس واویلے سے بزرگ کے ہاتھ سے لاٹھی چھوٹ کر نیچے جا گری۔ بزرگ خوف سے سہم گئے۔ انھیں شک بلکہ یقین ہو چلا تھا کہ انھیں کرنٹ لگ چکا ہے۔ بزرگ نے اپنے یقین کی تصدیق کے لیے ساتھ بیٹھے بچوں سے پوچھا ؟
بچو دیکھنا ذرا! مجھے کہیں کرنٹ تو نہیں لگ چکا؟ کورونا کا احساس بھی کچھ ایسا ہی نہیں ہے کیا؟
جدھر دیکھتا ہوں ادھر تو ہی تو ہے
ایک دو چھینکیں آ جائیں تو کورونا؟
سر میں درد ہو تو کورونا؟
گلے میں خراش ہو تو کورونا؟
سگریٹ پینے والوں کا سانس اکھڑنے لگے تو کورونا؟
بھولے سے کہیں بندہ ناک ، منھ اور آنکھوں کو لگا بیٹھے تو کورونا کا وہم؟
کسی سے جوش جذبات میں آ کر ہاتھ ملا بیٹھے تو کورونا ہو گیا؟
کوئی ملاقاتی ملنے آ جائے تو کہیں کورونا تو نہیں دے گیا؟
آپ کہیں جائیں تو وہاں سے کورونا لانے کا ڈر!
فضا میں کورونا، موبائل کی سکرین پر کورونا ، لیپ ٹاپ پر کورونا؟
یہاں کورونا وہاں کورونا ، ہر طرف کورونا ہی کورونا؟
اے مالک کون و مکاں! اپنا پتا بتا نا بتا یہ تو بتا یہ کورونا ہے کیا بلا؟
اب کے بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیں
کورونا کے خوف سے عورتیں تو عورتیں، مردبھی بکتر بند نظر آتے ہیں۔ کہاں گئیں وہ محفلیں، بیٹھکیں، وہ کمپنیاں، وہ ہلٹر بازیاں، وہ ٹھٹھا بازیاں، وہ فیشن، وہ ادائیں، دل فریبیاں، وہ دوستوں کی ٹولیاں، بچوں کی آنکھ مچولیاں، کسی کی حشر سامانیاں اور آنیاں جانیاں۔ بازار بند، مارکیٹیں بند، پلازے بند، ہوٹل بند، باجماعت نمازیں، میلادیں، جنازے، قل خوانیاں، مجالس، چرچ، گردوارے، مندر، سب بند۔ بس گھر پڑے رہو، غیر تو غیر اپنوں سے بھی فاصلہ رکھو۔ کب تک، تا ابد؟

اپنے اسٹائل کی ایک منفرد تحریر ۔ تھینکس کلاسرا صاحب تسی انج دیاں سوہنیاں سوہنیاں چیزاں پڑھن نوں دیندے او ۔۔۔