عبدالستار ایدھی کے بیٹے فیصل ایدھی جب وزیراعظم آفس گئے تو عمران خان انہیں نہ پہچان سکے۔
فیصل ایدھی نے بتایا کہ وہ وزیراعظم آفس میں 7 منٹ کے قریب بیٹھے رہے مگر عمران خان نے نہ ان کو پہچانا اور نہ ہی کوئی بات کی۔
انہوں نے بتایا کہ اس وقت وہاں دو کاروباری شخصیات بھی موجود تھیں اور وزیر اعظم ان کے ساتھ ہی گفتگو میں مصروف رہے، جب وہ دونوں رخصت ہونے لگے تو ان میں ایک نے عمران خان کو بتایا کہ یہ عبدالستار ایدھی کے بیٹے فیصل ایدھی ہیں۔
کورونا ریلیف فنڈ میں کروڑوں روپے کے عطیات جمع
کورونا وبا: نیوزی لینڈ کی وزیراعظم اور کابینہ نے اپنی تنخواہوں میں کمی کر دی
احساس کیش پروگرام سے رقم لوٹنے کے واقعات میں اضافہ
سما ٹی وی کے پروگرام ’لائیو ود ندیم ملک‘ میں بات کرتے ہوئے فیصل ایدھی نے بتایا کہ ان صنعت کار کے والد کو عبدالستار ایدھی نے نیویارک میں غسل دیا تھا جس کی وجہ سے وہ ان کی بہت عزت کررہے تھے اور شکریہ ادا کر رہے تھے۔
تعارف ہونے کے بعد وزیر اعظم نے کہا کہ اچھا آپ ایدھی صاحب کے بیٹے ہیں، فیصل ایدھی نے بتایا کہ اس کے بعد دفتر کے دروازے پر کچھ سیکنڈز کی بات ہوئی۔
وزیر اعظم سے ملاقات کے دوران فیصل ایدھی نے گزارش کی کہ وہ ایدھی یونیورسٹی بنانا چاہتے ہیں اس کے لیے فیڈرل چارٹر دیا جائے، انہوں نے دوسری درخواست یہ کی کہ ریسکیو کے مقصد کے لیے دس سے بارہ آئٹم کو امپورٹ کیا جاتا ہے جس کے اوپر انہیں ٹیکس ادا کرنا پڑتا ہے۔
انہوں نے وزیراعظم کو بتایا کہ مالی سال 2018-19 میں وفاقی حکومت کو 10 کروڑ روپے ڈیوٹی اور ٹیکسز کی مد میں ادا کیے ہیں، اگر ان اشیاء کو ایس آراو میں شامل کر لیا جائے توپھر ہمیں پریشانی نہیں ہو گی اور ڈیوٹی سے جان چھوٹ جائے گی۔
وزیر اعظم عمران خان نے اپنے پرسنل سیکرٹری سے کہا کہ دونوں معاملات کے لیے درخواست لے لیں اور یہ کہہ کر وہ اپنے آفس سے چلے گئے۔
ندیم ملک نے اپنے پروگرام میں وزیر اعظم سے اپیل کی ہے کہ فیصل ایدھی کی دونوں درخواستوں کو زیر غور لایا جائے خاص طور پر جو ٹیکس سے متعلق ہے۔
ندیم ملک نے درخواست کرتے ہوئے کہا کہ یا تو ٹیکس نہ لیا جائے یا پھر جتنا ٹیکس وصول کیا جاتا ہے اتنی رقم ریفنڈ کر دی جائے تاکہ ایدھی فاؤنڈیشن عوام کی زیادہ خدمت کر سکے۔
فیصل ایدھی نے کہا کہ ہماری یہی گزارش ہے اور اس سلسلے میں ہم نے خط بھی لکھے ہیں کہ جو 9-10 کروڑ روپے ٹیکس ادا کیے ہیں وہ واپس کیے جائیں۔
ندیم ملک نے اپنے پروگرام میں فیصل ایدھی سے کہا کہ ایدھی ٹرسٹ انسانیت کی بہت خدمت کر رہا ہے، عمران خان کو چاہیے تھا کہ وہ ایدھی کی مدد کرتے لیکن الٹا فیصل ایدھی نے وزیر اعظم کے فنڈ میں مدد کے لیے چیک پیش کیا ہے۔
