کورونا وائرس کے باعث دنیا بھر سے المناک کہانیاں سامنے آ رہی ہیں، وبا کے پھیلاؤ کے پیش نظر ہر ملک نے اپنی سرحدیں بند کر دی ہیں جس کے باعث بین الاقوامی سفر تقریباً رک چکا ہے۔
متحدہ عرب امارات میں مقیم بھارت کے ایک خاندان کو سفری پابندیوں کے باعث اپنے نوجوان بیٹے کی آخری رسومات میں شرکت کا موقع نہ مل سکا اور انہوں نے یہ رسومات فیس بک لائیو کے ذریعے دیکھیں۔
اس بدقسمت خاندان کا 16 سالہ بیٹا جیول جی جومے اپریل 2004 کو پیدا ہوا اور 7 سال سے کینسر کے خلاف مسلسل جنگ لڑتے ہوئے گزشتہ جمعہ کو انتقال کر گیا۔
حکومت نے بیرون ملک پھنسے پاکستانیوں کو واپس لانے کا اعلان کر دیا
متحدہ عرب امارات کا چند ممالک سے بھرتیوں پر پابندیاں لگانے کا امکان
بھارت میں 48 سالہ ماں 14 سو کلومیٹر سکوٹری چلا کر بیٹے کو گھر لے آئی
گلف نیوز کے مطابق جیول کے کزن نے بتایا کہ جیول شارجہ کے جیمزملینیئم سکول میں دسویں گریڈ کا طالب علم تھا۔
جیول نے دبئی کے امریکی اسپتال میں زندگی کی آخری سانس لی جہاں اسے دو ہفتے قبل طبیعت زیادہ خراب ہونے پر داخل کیا گیا تھا۔
کئی روز کی جدوجہد کے بعد 15 اپریل کو انہیں اپنے بیٹے کی میت کارگو جہاز کے ذریعے بھارت بھیجنے کی اجازت ملی تاہم خاندان کا کوئی فرد میت کے ساتھ نہ جا سکا۔
جیول کے کزن نے بتایا کہ اس کا والد اپنے بیٹے کی میت کے ساتھ سفر کرنا چاہتا تھا لیکن یہ ممکن نہ ہو پایا اور آخر کار انہیں اپنے بیٹے کی آخری رسومات میں فیس بک کے ذریعے شرکت کرنا پڑی۔
لاکھوں لوگوں نے پانچ گھنٹوں پر محیط یہ رسومات فیس بک اور یوٹیوب کے ذریعے دیکھیں۔
جیول کا خاندان ماں، باپ اور دو چھوٹے بھائیوں پر مشتمل ہے۔

Comments 1