کورونا وائرس سے تباہ حال دنیا میں نت نئے نظریات سامنے آ رہے ہیں اور بہت مواقع پر حکمران اشرافیہ اپنی نااہلی چھپانے کیلئے سازشی نظریات کو پروان چڑھنے میں معاونت کر رہی ہے۔
ایسا ہی ایک تازہ ترین سازشی نظریہ سامنے آیا ہے جس میں برطانوی کرنسی، فائیو جی ٹیکنالوجی اور کورونا وائرس کا آپس میں تعلق نکال لیا گیا ہے۔
عوام کی جانب سے رواں برس 20 فروری کو بینک آف انگلینڈ کی جانب سے جاری کردہ 20 پاؤنڈ کے نئے نوٹ پر موجود مختلف علامتوں کو کورونا وائرس پھیلاؤ سے جوڑا جا رہا ہے۔
دنیا کے 11 لوگ جنہوں نے برسوں پہلے کورونا کی پیش گوئی کر دی تھی
سات ایسے جھوٹ جنہیں اکثر لوگ سچ سمجھتے ہیں
کورونا وائرس عالمی سطح پر کیا تبدیلیاںلائے گا؟ دنیا کے 12 معروف دانشوروں کی پیش گوئیاں
اس تیزی سے مقبول ہوتی تھیوری کے مطابق کورونا وائرس پھیلاؤ بارے بیس پاؤنڈ کے نوٹ میں تمام ثبوت موجود ہیں اور یہ کہ کورونا کسی چمگادڑ یا وائرس سے نہیں بلکہ فائیوجی ٹیکنالوجی سے پھیلا ہے۔
اس کے حامی کہہ رہے ہیں کہ یکم نومبر2019ء کو چین کی جانب سے ووہان صوبہ میں فائیو جی ٹیکنالوجی کا آغاز کیا گیا تھا اور اسکے بعد اس شہر میں لوگ بیمار ہونا شروع ہوگئے تھے۔ اس کی وجہ اس ٹیکنالوجی کی ہائی فریکوئنسی شعاؤوں کو بتایا جا رہا ہے۔
اس تھیوری کے مطابق 20 پاؤنڈ کے نئے نوٹ پر ان تمام باتوں کے شواہد موجود ہیں، اس پر یقین کرنیوالے افراد کے مطا بق اس نوٹ پر کورونا وائرس کے پھیلاؤ کی وجہ بننے والا فائیوجی کا ٹاور اور اسکی مہلک شعائیں موجود ہیں، اسی طرح نوٹ پر کورونا وائرس سے مشابہہ علامت بھی موجود ہے۔
اس تھیوری کے حمایتیوں کا یہ کہنا ہے کہ گلوبلسٹ خیالات کے حامیوں نے دنیا کو بوڑھوں اور سفید فام لوگوں سے نجات کیلئے یہ سب منصوبہ بنایا۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ کورونا وائرس پھیلاؤ کا مقصد سفید فام لوگوں کا خاتمہ کرکے انکی جگہ مسلمان مہاجرین کو لانا تھا۔
ان افراد کا یہ کہنا ہے کہ بیس پاؤنڈ کا نوٹ تیار کرنیوالے افراد نے بڑی بہادری سے کوڈ کی شکل میں یہ پیغام دنیا کو دینا چاہا، یہی وجہ ہے نوٹ پر فائیو جی ٹیکنالوجی کا ٹاور بنایا گیا ہے جس سے شعائیں اٹھ رہی ہیں۔
سچ کیا ہے؟
حقیقت میں 20 پاؤنڈ کے نوٹ پر فائیو جی ٹیکنالوجی کے کسی ٹاور کا وجود نہیں۔ جسے ووہان کا فائیو جی ٹیکالوجی کا ٹاور بتایا جا رہا ہے وہ دراصل مارگیٹ (انگلینڈ) میں موجود لائٹ ہاؤس ہے۔
نااہلی پر پردہ ڈالنے کی کوششیں
حکمران اشرافیہ نے کورونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے شروع میں کوئی اقدامات نہیں کیے جس کے باعث اس نے کئی ممالک میں تباہی پھیلا دی، اب حکمران اپنی نااہلی کو چھپانے کے لیے سازشی نظریات کو پھیلنے کی اجازت دے رہے ہیں۔
صحافی ’اوتو انگلش‘ کے مطابق امریکہ میں 29 فیصد لوگوں کو اس بات پر یقین ہے کہ کورونا وائرس کو چینی لیب میں تیار کیا گیا ہے۔ امریکیوں کی یہ تعداد ٹرمپ کے ووٹرز سے بھی زیادہ ہے۔
امریکی میڈیا کے مطابق کورونا وائرس کی چینی لیب سے نکلنے کی تھیوری کی تحقیقات بھی کی جا رہی ہیں۔ اب ٹرمپ کی جانب سے کورونا وائرس کی ذمہ داری عالمی ادارہ صحت پر ڈالی جا رہی ہے۔
