(بشریٰ زیدی کے سانحہ نے کراچی کو یکسر بدل کر رکھ دیا، 15 اپریل 1985 کو اس حادثے والے دن کیا ہوا، بطور مجسٹریٹ آن ڈیوٹی مصنف کی جانب سے آنکھوں دیکھا حال، نئے زاویے، نئی باتیں اور گمنام حقائق پہلی بار منظر عام پر)
دوسری اور آخری قسط

ہم 15 اپریل 1985 کے یوم الم ناک کی بات کر رہے تھے۔ این ون روٹ کی منی بس تین طالبات، جن میں بشری زیدی، ان کی ہمشیرہ نجمہ اور ایک اور طالبہ شامل تھی کو ہلاک اور زخمی کر کے فرار ہو چکی تھی۔ صبح کے آٹھ بجے کا وقت تھا۔
حاکم نہیں سمجھتے، وہ عوام کو بھیڑ بکریاں سمجھ کر ہانکتے ہیں۔

عوام میں Rage (اشتعال) آہستہ آہستہ جمع ہوتا ہے۔ اصل حقیقت اس وقت واضح ہوتی ہے جب کالی بطخ سامنے آتی ہے۔ آپ نے بی جینگ کے ٹیانامن اسکوائر میں جمہوریت کی تحریک میں 1989 کی وہ آئی کونک تصویر دیکھی ہوگی۔ ایک عام سا شخص بستہ تھامے ٹینکوں کے کالم کے سامنے آہنی عزائم لیے کھڑا ہوا ہے۔ چین کی ناقابل فہم حد تک خفیہ ذہین اور بے رحم قیادت نے کس سلیقے سے اس فتنے کا رخ چین کے عام آدمی کی خوش حالی کی طرف موڑ دیا، یہ جدا موضوع ہے۔

اسی طرح شہنشاہ ایران کے خلاف عوام میں غم و غصہ تو بہت پہلے سے جمع ہورہا تھا مگر بارود کے ڈھیر میں چنگاری 19 اگست 1978 کی شام ایران کے شہر ابدان کے ایک سنیما گھر میں لگی۔ پانچ سو کے قریب ناظرین جل کر مرگئے۔ ایک فتنہ و فساد کا بازار گرم ہوا، خبر پھیلائی گئی کہ یہ آگ شاہ کی رسوائے زمانہ خفیہ پولیس ساوک کے کارندوں نے لگائی ہے۔ اس بات کا رد عمل اتنا شدید ہوا کہ وزیراعظم جمشید آموزگار کو استعفی دینا پڑا۔ اس کے بعد کسی وزیراعظم کے قدم نہ جم پائے، یہ الگ بات ہے کہ جب انقلاب کے بعد سرکار اپنے ہی کسی جہانگیر ترین سے ناراض ہوئی تو یہ بات سامنے لائی گئی کہ ان کے اپنے ہی ”سازمان بسیج مستعضفین“ (باسجی ملیشیا) کے لوگوں ہی نے اس سنیما کو کراچی کی بلدیہ فیکٹری سمجھ کر آگ لگائی تھی۔ اصلی کردار بے نقاب ہوچکے ہیں اسی لیے انہیں چوک پر لٹکا دیا۔

ان دو واقعات کو بیان کرنے کا مدعا یہ ہے کہ آپ کو قائل کیا جا سکے کہ ان سانحات کی طرح بشریٰ زیدی کا سانحہ بھی ایک کالی بطخ تھا۔ نکولس طالب جن کا شمار دنیا کے ان جدید دانشوروں میں ہوتا ہے جو Shock and Risk Management کے ماہر سمجھے جاتے ہیں اور جن کی کتاب The Black Swan نے افکار کی دنیا میں ایک نیا باب وا کیا ہے۔ یہ اصطلاح ان کی وضع کردہ ہے۔ ان کے ہاں Black Swan Event ان واقعات کو کہا جاتا ہے جس کی تہہ میں تین نکات آگہی سما جائیں۔ پہلا تو اس طرح کے واقعہ کی پیش گوئی ناممکن ہو۔ نائن الیون اور کورونا کو بھی اسی میں ڈال دیں۔ دوسرے اس کے اثرات اکثریت کے لیے مہہیب اور دیرپا ہوں۔ تیسرا اور اہم یہ کہ رفتہ رفتہ یہ آگہی عام ہو جائے کہ اگر پیش بندی کر لی جاتی تو اس سے بچاؤ ممکن تھا۔
سن سنتالیس کے بعد کراچی میں خصوصاً اور شہری سندھ کے حوالے سے عموما بشریٰ زیدی کا سانحہ سب سے بڑاBlack Swan Event تھا۔
دور جنرل ضیا کا تھا مگر اس وقت بھی یہ برطانوی راج کی انتظامی مجسٹریسی والا زمانہ تھا۔ اس کا احوال آپ شہاب نامہ میں یقیناٍ پڑھ چکے ہوں گے۔ اس عہد زرین کا مکمل خاتمہ جرنیل تنویر نقوی نے مشرف دور میں کیا، اسسٹنٹ کمشنر اور ڈپٹی کمشنر عدالتی اختیارات کے حامل ہوتے تھے۔ انہیں اپنے علاقے کی حدود میں Government on Two Legs کہا جاتا تھا۔
یہ حادثہ تھانہ گلبہار کی حدود میں پیش آیا جو ناظم آباد سب ڈویژن میں شامل ہے۔ بے حد چالاک و باخبر رشید عالم اسسٹنٹ کمشنر اور سب ڈویژنل مجسٹریٹ ناظم آباد تھے۔
وہ حادثے کا سنتے ہی موقع پر پہنچنے کے بجائے جان بوجھ کر دل کے عارضے کا بہانہ بنا کر ادارہ امراض قلب کی طرف دوڑ گئے۔ وہاں سے اپنے گن مین کے ذریعے عادل بیس (ڈی سی ویسٹ کا کنٹرول روم) کو بذریعہ وائرلیس اطلاع دے دی کہ صاحب کو صبح چھ بجے دل کی تکلیف ہوئی تھی۔ حالت خراب ہے، دعا کریں، میں ابھی ابھی انہیں لے کر اسپتال پہنچا ہوں۔

رشید عالم گلبرگ تھانے کی حدود میں پانچ سی کے بس ٹرمنس کے ساتھ والے علاقے میں اس فساد کے سرخیل جماعت اسلامی نعمت اللہ خان ان کے پڑوسی تھے۔ ہمارا قیاس ہے کہ انہی نعمت اللہ خان کا مشورہ ہوگا کہ، لازم نہیں کہ آپ بھی یہ گرمئی بازار دیکھئے۔ بس سر کی فکر کیجیے، دستار دیکھئے۔ یوں وہ کرفیو لگنے کے تین چار دن تک دل تھامے اسپتال میں لیٹے رہے۔
حادثے کی اطلاع وائرلیس کے ذریعے پھیلی۔ پاس پڑوس درسگاہوں سے بھرا پڑا ہے۔ اتنے میں سب ڈویژنل مجسٹریٹ لیاقت آباد اعجاز چودہری، جو بعد میں سیکرٹری پٹرولیم اور چیف سیکرٹری سندھ بھی رہے، انہیں بے حد قابل اور فہیم ڈپٹی کمشنر ہمایوں فرشوری صاحب نے معاملے سے نمٹنے کا حکم دیا۔ ضلع وسطی ضلع غربی کے مہاجر علاقے کاٹ کر جون 1987 میں بنا۔
چوہدری صاحب پورے ضلع غربی میں بہت مقبول تھے۔ کنوارے تھے۔ ان کا یہ پکا پینڈو انداز، خوش مزاج اور ذہین ٹپوڑی مہاجروں کو اچھا لگتا تھا۔ دلیری اور عیاری بھی کوٹ کوٹ کر بھری تھی۔ انہوں نے فرشوری صاحب کے وائرلیس پر ملنے والے حکم کی بلا چوں چرا حکم کی تعمیل کی اور موقعے پر پہنچ گئے۔ حادثے کے بعد طلبا و طالبات سڑک پر جمع ہو کر پتھراؤ اور توڑ پھوڑ میں مصروف تھے۔ اعجاز کی شخصیت کی سحر انگیزی اور مکالمے کی سچائی کا اثر تھا کہ ہنگامہ کرنے والی طالب علم لڑکیاں اور لڑکے ان کی یہ دلیل مان گئے۔ انہیں سمجھایا گیا کہ ڈرائیور کوئی پٹھان نہیں۔ کراچی کا اپنا بہاری بچہ راشد حسین ہے۔ انتظامیہ نے اسے سائیٹ تھانے میں پکڑ کر بند کر دیا ہے۔ آپ کے چند ساتھی چاہیں تو یہ بات ہنگامے ختم کرنے کے بعد ملاقات کرا کے ثابت کی جا سکتی ہے۔
ڈیڑھ گھنٹے تک اس ہنگامہ آرائی میں ایسی کوئی خاص شدت نہ تھی۔ کراچی یونیورسٹی سے ابھی تک کوئی کمک نہ پہنچی تھی۔ نہ اسلامی جمیعت طلبہ کی طرف سے، نہ ہی الطاف بھائی کی آل پاکستان مہاجر اسٹوڈینٹ آرگنائزیشن کی جانب سے۔ ایم کیو ایم ابھی بنی نہ تھی۔ رضویہ مارکیٹ کی دکانیں نہ کھلی تھیں۔ حبیب بنک کے سامنے جہاں یہ حادثہ ہوا وہاں ٹریفک بھی کوئی خاص نہ تھا۔ کوئی دیر تھی کہ یہ سارا مجمع منتشر ہو گیا ہوتا۔
معاملہ لپٹ ہی رہا تھا کہ پونے دس بجے کے قریب ڈی ایس پی ناظم آباد ملک شیر باز کی آمد ہوئی۔ ان کی جانب سے غلطی یہ ہوئی کہ ان کے ڈرائیور نے پولیس موبائل عین وہاں بھیڑ کے درمیان ایک شان تکبر سے لا کر روکی جہاں اعجاز چودہری مشتعل طالبات سے مذاکرات میں مصروف تھے۔ شیر باز کی آمد سے مذاکرات کچھ دیر کو تعطل کا شکار ہوئے۔ اس دوران چند لیڈر قسم طالبات ان کی موبائل کے بونٹ پر چڑھ گئیں۔ جس وقت وہ مجمع سے خطاب کر رہی تھیں ڈی ایس پی کے ڈرائیور نے بلا سوچے سمجھے موبائل کو تیزی سے ریورس کیا اور یہ نیچے گر پڑیں۔ یہ ہونا تھا کہ ایک بھگدڑ مچی۔ افواہ پھیل گئی کہ چند طالبات کو پولیس موبائل نے کچل ڈالا ہے۔ یہ چھوٹی سی بے ہودگی اور تربیت کا فقدان اس آگ کا باعث بنا جس نے کراچی کو آج بھی اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ تھوڑی دیر بعد جامعہ کراچی سے بھی اسلامی جمعیت طلبا کی بسیں پہنچ گئیں۔

فساد کے پھیلاؤ سے نمٹنے کے لیے دیگر مجسٹریٹ صاحبان سمیت ہمیں بھی سٹی کورٹس سے طلب کیا گیا۔ ہم ان دنوں جوہر آباد گلبرگ تھانے کے مجسٹریٹ تھے۔ جوہر آباد تھانے کی حدود میں ایم کیو ایم کا جی ایچ کیو واقع ہے۔ نائن زیرو۔ یہ گھر کا نہیں ان کے انالوگ فون کا نمبر تھا، اصلی فون نمبر یوں تھا 673690۔ حلف یافتہ کارکنان، ہدایت کے زیراثر صرف نائن زیرو یعنی آخری دو ہندسوں سے کام چلاتے تھے۔
ہم جب امریکہ سے اعلی تعلیم کے بعد 1987 میں یہاں کے سب ڈویژنل مجسٹریٹ بنے تو ہماری سرکاری طاقت کا اندازہ اس سے لگائیں کہ بدر اقبال جوائینٹ سیکرٹری یا عظیم احمد طارق، ایس ایم طارق یا طارق جاوید سے بات کرنا ہوتی اور فون نہ مل رہا ہوتا تو پی اے کو آرڈر تھے کہ جس سے بھی بات کررہے ہوں عزیز آباد ایکسچینج کو کہیں ان کی کال کاٹ دیں۔ بے حد تابع دار اور مہذب نوجوان افراد تھے۔ اب بھی ہم عامر خان یا آفاق احمد، فاروق ستار یا کشور زہرہ صاحبہ سے بات کریں تو ویسا ہی پرانے دنوں والا احترام اور لحاظ دکھائی دیتا ہے۔
بہت بعد میں جب ہم جینوا معاہدے پر حمایت کے لیے عبداللہ جی میمن ہوم سیکرٹری صاحب کی ایما پر الطاف بھائی کو سمجھانے گئے تو عظیم بھائی الطاف بھائی کے سامنے ہمیں سینٹر بنانے کی بھی پیشکش کر چکے تھے۔ ہم نے کہا تھا کہ ہم آپ کا سینٹر بننے سے سرکار میں رہ کر غلام اسحق خان بننے کو ترجیح دیں گے۔ ہمارے بڑے کہتے ہیں کہ سیاست میں حصہ لینا، ہم میمنوں، طوائفوں اور فوج کا کام نہیں۔ الطاف بھائی بھی بہت ہنسے تھے۔
حادثے ہونے کے بعد ڈسٹرکٹ ویسٹ کے مجسٹریٹ صاحبان کا بلاوا آیا اور وہاں جب ہم پہنچے تو دوپہر کے ساڑھے بارہ بج چکے تھے۔ ہمارے محترم، انگریزوں کے زمانے میں چپٹراسی کے عہدے پر بھرتی اوراس وقت کے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کے پاس ہم نے ڈیوٹی رپورٹ کی۔ ہم انہیں بہت اچھے لگتے تھے۔ انہیں یاد نہ تھا کہ انہوں نے ہی ہم کو بتایا تھا کہ جب پہلی کال آئے تو سنی ان سنی کرو اور جب سرکار کا بلاوا آئے توجلدی مت کرو۔
ناراضی کا اظہار کرنے پر بتایا کہ سٹی کورٹ سے رکشہ والا بمشکل ہمیں سائیٹ حبیب بنک ان کے دفتر تک لایا ہے۔ سرکاری ٹرانسپورٹ تو ہے نہیں کہ ادھر بلایا ادھر حاضر۔ انہیں نے ہمیں رشید عالم ایس ڈی ایم ناظم آباد کے چمتکار قلب کا بتایا۔ دونوں ایک دوسرے سے شدید نفرت کرتے تھے۔ انہوں نے سائیٹ کی موبائل منگوا کر ہمیں جائے وقوعہ پر بھیج دیا۔
جائے حادثہ کے قریب ہی ایس ایم ایل اے بریگیڈیئر ریاض، ڈپٹی کمشنر ویسٹ ہمایوں فرشوری اور ایس ایس پی ویسٹ منور علی خان موجود تھے۔ کچھ دیر بعد کمشنر کراچی سید سردار احمد بھی پہنچ گئے۔ یہ بعد میں سیاست میں شامل ہوکر ایم کیو ایم کی جانب سے صوبائی وزیر خزانہ بھی بنے۔ ہمیں حکم ملا کہ سر سید کالج کوSecure کرنا ہے۔ جو لڑکیاں محصور ہیں انہیں ان کے بھائی اور دیگر افراد کے ہمراہ ٹیچرز کی مدد سے بھیجنا ہے۔ کسی غیر متعلقہ شخص کو اندر گھسنے نہیں دینا۔
کالج کے گیٹ کے باہر نعمت اللہ ایڈوکیٹ جو باقاعدہ اشتعال انگیزی پھیلانے میں مصروف تھے وہ عین اس وقت لڑکوں کا ایک منظم جتھا لے کر کالج میں داخل ہونے کی کوشش کررہے تھے۔ اس واقعے کے بہت بعد میں وہ ایک بدلے ہوئے روپ میں کراچی کے مسیحا بن کے مطلع سیاست پر بطور ناظم نمودار ہوئے۔
ہم نے ڈی ایس پی کو کہا کالج کے گیٹ کے ساتھ دیوار کے پیچھے مسلح گارڈز متعین کردیں۔ جو بھی گیٹ کراس کرے گولی سیدھی سر میں مارے۔ نعمت اللہ خان کو ہماری شہرت کا پتہ تھا۔ ضلع غربی میں جماعت کے اہم رہنما ڈاکٹر اظہر قریشی اور راجہ رحمت جانتے تھے کہ مخالفین کے حملوں میں ہم ہی ان کی حفاظت کو پہنچنے والے پہلے افسر ہوتے ہیں۔ ڈاکٹر اظہر قریشی بہت نرم خو، مہذب اور قابل انسان تھے۔ انہیں علم تھا کہ ہم امیر معاویہؓ کے اس مقولے کو انتظامی مشعل راہ سمجھتے ہیں کہ ”عوام سے میرا تعلق بکری کے بال سے بندھا ہو تو میں اسے نبھاتا ہوں۔ وہ ڈھیل دیتے ہیں تو میں کھینچ لیتا ہوں۔ وہ کھینچتے ہیں تو میں ڈھیل دے دیتا ہوں۔ جہاں لفظ کافی ہوں وہاں میں کوڑا نہیں اٹھاتا۔ جہاں کوڑا کافی ہو وہاں میری تلوار نیام میں رہتی ہے۔ ہاں جب تلوار کھینچنی ہو تو میں ہرگز نہیں ہچکچاتا۔ سو نعمت اللہ ایڈوکیٹ پتلی گلی سے یوں بھی نکل لیے کہ کرفیو کی منظوری ہوچکی تھی۔ دن گزرے کہ ہمیں نعمت اللہ خان صاحب چیف سیکرٹری سندھ کے دفتر میں مل گئے۔ کہنے لگے سرکار اس دن آپ نے ہمیں گولی مارنے کا پختہ ارادہ کرلیا تھا۔ اچھا ہوا ہم وہاں سے سرک گئے۔ ہم نے بھی کہا حکم کی خلاف ورزی کرتے تو کراچی کو آپ جیسا بستی پرور مئیر کہاں سے ملتا۔ ناراض ہوگئے کہ ہم نے ترکیب میں ایک لفظ ہندی کا اور دوسرا فارسی کو کیوں استعمال کیا ہے۔ ہم نے کہا اور سارے دن جو پیش امام کے پیچھے غلط سلط سجدے ٹھوکتے ہو، یہ فارسی اور عربی میں ڈبل امام کیوں ڈھونڈتے ہو۔ کہنے لگے چیف سیکرٹری صاحب آپ کی بیوروکریسی سے جیتنا محال ہے۔
ڈھائی بجے کے قریب ہمیں کریم آباد کے سامنے پہنچنے کا حکم ملا تو ہم اور ڈی ایس پی لیاقت آباد ذوالفقار علی خان پہنچ گئے۔ سندھ پولیس کے کانسٹبل ممتاز جس کا تعلق اندرون سندھ سے تھا، اسے اپوا کالج کے عقب میں اغوا کرکے زندہ جلا دیا تھا۔ بے چارہ ریزرو پولیس میں تھا۔ ڈیوٹی آف کرکے وردی میں ہی گھر جا رہا تھا۔
ہم دونوں وہاں ان کی موبائل میں پہنچے تب تک واردات میں ملوث دو لڑکے ایس ایچ او نے گرا دیے تھے۔ باقی بھاگ لیے۔ اب وہاں ایک جلی ہوئی لاش تھی اور چند افراد کا مجمع جو سمجھانے پر منتشر ہو گیا۔ ہم وہاں سے رخصت ہوکر سڑک کے دوسرے سرے پر ڈی ایس پی ناظم آباد کے دفتر پہنچ گئے۔
کوئی ساڑھے تین بجے جب ہنگامہ تھما، تھوڑی دیر بعد صوبائی اور مجلس شوریٰ کے ممبران بھی پہنچ گئے۔ اطہر صدیقی، مجاہد بلوچ، صدیق راٹھور، پروفیسر غفور، شاہ بلیغ الدین۔ وہاں دوران مذاکرات مجاہد بلوچ کی، اعجاز چوہدری سے شدید بدمزگی ہوگئی۔
مجاہد بلوچ ایم پی اے تھے، تعلق کاٹھیاواڑ سے تھا۔
ہر وقت کیرالہ کی بھوت جھولکیا (جھولکیا مرچوں کو کہتے ہیں، کھاتے ہی انسان بھوت کی طرح اچھلنے کودنے لگتا ہے) والا مزاج لیے پھرتے تھے۔ اس میٹنگ میں ایک تاثریہ ابھرا کہ موقع پر موجود افسران سے یہ واقعہ بہت برے انداز میں مس ہینڈل ہوا ہے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ سلیم عباس جیلانی چیف سیکرٹری سندھ نے ایس ڈی ایم اور ڈی ایس پی کو معطل کردیا۔ دونوں کو گھر کی مرغیاں سمجھ کر کاٹ ڈالا۔ اعجاز کی معطلی بنتی نہ تھی۔ وہ فساد کنٹرول کرچکے تھے۔ آگ ڈی ایس پی ناظم آباد شیر باز خاں کی آمد سے لگی ایسے ہر سانحے میں عوامی اشتعال کو ٹھنڈا کرنے کے لیے سب سے جونئیر افسروں کو معطل کردیتے ہیں۔ ان سے سرکاری سہولتیں واپس نہیں لیتے۔ ایک آدھ بیوہ خالہ جیسا افسر، ان کے معاملات کی نگرانی کو رکھ دیتے ہیں جو انہیں ڈراتا بھی رہتا ہے کہ سیدھے نوکری سے ڈس مس اور اریسٹ کے آرڈر تھے وہ تو کمشنر صاحب کو تمہاری کوئی نیکی یاد آ گئی۔ ابھی چپ رہو۔ حالات ٹھیک ہوئے تو تم کو اور بھی اچھی پوسٹنگ ملے گی۔ تب تک یہ اخبارکے کتورے بھی بھونکنا بھول بھلا جائیں گے۔ یہ بیوروکریسی اور سرکار کا سیٹ پیٹرن ہے۔
ان واقعات سے جڑے فسادات کی ایک لہر نے پورے کراچی بالخصوص ضلع غربی کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ اسی دوران ہماری باقاعدہ ملاقات ستار ایدھی صاحب سے ہوئی جس کا قصہ کسی اور وقت۔
پہلے ایک تحقیقاتی کمیٹی منور علی خان کی سربراہی میں بنی۔ منور صاحب بہت چالاک رینکر تھے۔ وہ ایک قتل کی سیدھی تفتیش کی جلیبی بنادیتے تھے۔ شام کو بوتل پی لیتے تو انارکلی کا نام لیاقت علی خان کی قتل کی ایف آئی آر میں ڈالنے سے نہ چونکتے۔ انہوں نے کیا خاک تفتیش کر نی تھی۔
ایسا لگ رہا تھا تو کوئی بہت وائڑہ سیٹ اپ سندھ کا نگران ہے۔ لالو کھیت جیسے شدھ مہاجر مدرسۂ فتنہ و فساد میں انہوں نے کچھ سوچے سمجھے بغیر میاں باز آفریدی نامی وزیرستان کے ایک افسر کو ایڈیشنل ایس۔ پی لگا دیا۔ فورتھ کامن میں ہمارے اور ریلوے والا افسر شفیق اللہ کے بیچ میٹ تھے۔ وہ انہیں تنگ کرنے کو کہتا تھا کہ میاں باز کی بے وقوفی، انسانیت سے گری ہوئی یعنی Sub -Human Level کی ہوتی ہے اس لیے اس کو کوئی دوسرا انسان سمجھ ہی نہیں سکتا۔
یہ ان کی سندھ میں پہلی پوسٹنگ تھی۔ مزاج ایسا کہ لگتا تھا پیدائش کے وقت دائی نے بچھو کا زہر چٹا دیا ہے۔ ہماری بہت عزت کرتے تھے۔ دفتر جاؤ تو بچھ بچھ جاتے تھے۔
فسادات کا دوسرا دن تھاڈی سی صاحب کا حکم ملا کہ لیاقت آباد میں ایس پی کے دفتر پہنچیں۔ ہم اچانک اتنے اہم کیوں کر ہو گئے اس کا سبب کسی کا کسی سے محبت کا غیر ضروری اظہار تھا۔
ہوا یوں تھا کہ بشریٰ زیدی کی یوم ہلاکت والی شام، سرکار کی محبت میں گوڈے گٹوں دھنسی، ایک نیم سرکاری سوشل ویلفیئر انجمن کی خاتون ایڈیشنل کمشنر صاحب صاحب کی نیازمندی کو آئی تو حضرت جذباتی ہوگئے۔ ایک قدیم عرب شاعر نے کہا تھا کہ عورتیں شاہراہ ہیں اور مرد اُن پر گامزن مسافر۔ زندگی کی طویل مسافت میں شاہراہ کا کیا جاتا ہے مسافر تھک جاتا ہے، مسافر جو مرد ہے۔ آج بھی سرکار سے جڑی خواتین کو دیکھیں گے تو لگے گا کہ شاہراہ تو موجود ہے مگر ان کے بے نوا مسافر دوبئی کراچی جانے کہاں کہاں ہسپتالوں کے بستروں پرسانسوں کی مالا پر ان کا نام سمرتے ہیں۔ ائیرپورٹ پر لاؤنج کے چلتے راستوں کی طرح یہ بیبیاں، یہ الفت مال و زر کی ہوس میں مبتلا شاہرائیں طاقت کے ہر مرکز تک برے سے برے حالات میں بھی پہنچ جاتی ہیں۔
سوشل ویلفیئر کی اس خاتون کو سر سے پیر تک چومنے کے بعد غسل اور عشا کی نماز کے لیے وضو کرتے ہوئے حضرت سرکاری حمام کے چکنے فرش پر ایسے پھسلے کہ اپنا اٹھاون برس پرانا کولہا توڑ بیٹھے تھے۔
ہماری سنیے۔ ہم بمشکل اعجاز سے گاڑی مانگ کر15 اپریل 1985 کو بمشکل گھر پہنچ کر غسل کر کے نماز سے فارغ ہی ہوئے تھے کہ سولجر بازار تھانے کی موبائل خفیہ ادارے کے میجر محمد علی کو لے کر آگئی۔ حکم تھا کہ فورا ” ڈی سی آفس پہنچیں۔ سب مارشل ایڈمنسٹریٹر میجر جنرل شیر افضل نے یاد کیا ہے۔ گھر پر بتا دیں کہ رات واپسی جلد نہیں ہوگی۔ ایک دو آپریشنزہیں جو ہم نے اور میجر صاحب نے ضلع غربی بالخصوص اورنگی ٹاؤن کی حدود میں کرنے ہیں۔ شفقت سے پیش آئے۔ فرشوری صاحب بھی ہمارے ہمیشہ کے مہربان تھے۔ تین منٹ کی ملاقات کے بعد اپنا آرڈر خود ہی لکھوایا کہ مضروب افسر کی جگہ ہمیں ایڈیشنل ڈسٹرکٹ میجسٹریٹ کا عارضی اور اضافی چارج سونپا جارہا ہے۔
آئیں واپس میاں باز آفریدی ایڈیشنل ایس پی کے دفتر چلیں۔ ہمیں بتایا گیا تھا کہ کونسلرز کا ایک وفد جس میں عابدحسین، عابد بھائی، ملا رئیس، حبیب اور دیگر افراد شامل ہیں گرفتار لڑکوں کی رہائی کے لیے تھانے پہنچ رہا ہے۔ ہم جانچ پڑتال کے بعد بطور ایڈشنل ڈسٹرکٹ میجسٹریٹ ضلع غربی آرڈر دے کر انہیں رہا کردیں۔
جس وقت ہماری آمد ہوئی گرما گرمی عروج پر تھی اور میاں باز صاحب، ان آتش بداماں فتنہ ساماں سیاستدانوں سے الجھ چکے تھے۔ ہم جلد سیکھ گئے تھے کہ یہ مہاجر گفتگو میں بہت اوپر سے آتے ہیں۔ ان کا ہر چھابڑی والا بھی خود کو نواب آف رام پور سمجھتا ہے۔ وہ کہیں اس گانٹھ کے پورے آفریدی کو دھمکی دے بیٹھے کہ لڑکے رہا نہیں ہوں گے تو ہم تھانے کو آگ لگادیں گے۔ یہ سننا تھا کہ وہ مشتعل ہوگئے۔ پستول نکال لیا۔ کہنے لگے”باہر نکل کے تم میں کسی نے سگریٹ بھی جلایا ہے تو اتنی گولیاں ماروں گا کہ آئندہ تمہاری سات نسلیں بھی تھانے نہیں آئیں گی۔
پٹھان افسر کو کون سمجھاتا کہ لالو کھیت کے گلی کوچوں میں آباد موٹی مکرجی اور ریکھا صدیقی اور سیدہ آشا پاریکھ علوی جیسی ہر حسینہ کو اس علاقے کا ہر ایلا میلا عاشق آسمان سے تارے توڑنے اور سمندر کے سارے موتی لانے کا وعدہ کرکے فرنیچر پر پالش کر رہا ہے یا جوتے میں پتاوے بٹھا رہا ہے۔ یہ ان کا انداز ہے، استعارہ ہے، فگر آف اسپیچ ہے۔ دھمکی نہیں، بات منوانے کی ادا ہے۔
کچھ دن بعد ایک کمیشن چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ جسٹس عبدالحئی قریشی کی سربراہی میں بنا جسے دوران کارروائی ہی کام کرنے سے روک دیا گیا۔

ہم بطور افسر مڑکر دیکھیں تو 1973 کی دہائی میں ریلیز ہونے والی مشہور دہشت ناک فلم THE EXORCIST یاد آتی ہے۔ یہ فلم لائبریری آف کانگریس نے قومی اثاثہ کے طور پر محفوظ کی ہے۔ فلم میں عراق کے شہر ہتر میں ایک ماہر آثار قدیمہ کی ٹھوکر لگنے سے بوتل میں بند جن Pazuzu آزاد ہوجاتا ہے۔ ایک شام وہ اچانک بارہ سال کی بچی ریگن پر واشنگٹن میں غالب آجاتا ہے۔
جب کراچی میں فسادات سر اٹھاتے تھے تو ہمیں ایسا لگتا تھا کہ خلائی مخلوق کے کسی ناعاقبت اندیش نے قومی دھارے میں شامل دو بڑی پارٹیوں کو قابو میں رکھنے کے لیے پنڈی میں چمتکار کی کسی بوتل کو لات ماری۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ کراچی جنات کے قبضے میں چلا گیا ہے۔ اس جنات کو قبضہ کرنے کا وظیفہ اسلام آباد کو چھوڑ کر دوبئی سے لے کر دہلی تک ہر عامل کو آتا ہے جن پر کراچی کے اجڑنے سے شیلا کی طرح کی جوانی ٹوٹ کر آئی ہے اور اگر نہیں آتا تو ان کو جن کا خیال ہے کہ کراچی کو اگنور کرکے وہ پاکستان کو نہال کرسکتے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
محمد اقبال دیوان چار عدد کتب کے مصنف ہیں جسے رات لے اڑی ہوا، وہ ورق تھا دل کی کتاب کا، پندرہ جھوٹ اور تنہائی کی دھوپ، دیوار گریہ کے آس پاس۔ پانچویں کتاب ”چارہ گر ہیں بے اثر“ ان دنوں ادارہ قوسین کے ہاں زیرطبع ہے۔ آپ کے کالمز وجود، دلیل،دیدبان اور مکالمہ پر شائع ہوتے رہے ہیں۔ آپ سابق بیورکریٹ ہیں۔
