وفاقی کابینہ نے ذخیرہ اندوزوں کے لیے سخت قوانین پر مبنی آرڈیننس کی منظوری دے دی ہے۔
آرڈیننس کے مطابق ذخیرہ اندوزی میں ملوث افراد کو تین سال قید کی سزا دی جائے گی جبکہ پکڑے گئے مال کا 50 فیصد بحق سرکار ضبط کر لیا جائے گا۔
وزیراعظم عمران خان نے نوجوانوں کو قرض دینے کے حوالے سے بڑا اعلان کر دیا
منظور شدہ آرڈیننس کے مطابق ذخیرہ اندوزی کا سراغ لگنے کے بعد ملازمین کے بجائے مالک کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے گا جبکہ اطلاع دینے والے کو ضبط شدہ مال کا 10 فیصد بطور انعام دیا جائے گا۔
ڈپٹی کمشنر یا اس کی جانب سے مقررکردہ اہلکار کو اطلاع ملنے پر کسی بھی جگہ چھاپہ مارنے کا اختیار حاصل ہو گا، اسے بغیر وارنٹ کے گرفتاری کا حق ہو گا جبکہ گرفتار ہونے والوں کے خلاف مقدمہ ناقابل ضمانت ہو گا۔
ہر ڈیلر حکومت کو اپنے اسٹاک کی اطلاع دینے کا پابند ہو گا، غلط اطلاع دینے پر تین سال قید اور 10 لاکھ جرمانہ کی سزا ملے گی۔
یہ آرڈیننس اسلام آباد کی حدود میں نافذ ہو گا، اس کی منظوری صدر مملکت دیں گے جنہیں دستخط کرنے کے لیے قانون کا مسودہ بھیج دیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ اس سے قبل وزیراعظم عمران خان کئی بار متنبہ کر چکے ہیں کہ ذخیرہ اندوزوں کو کسی صورت نہیں چھوڑا جائے گا اور انہیں سخت ترین سزائیں دی جائیں گی۔
