پنجاب کے گاؤں میڈ رانجھا سے تعلق رکھنے والی رانی بی بی نے زندگی کے 19 قیمتی سال اپنے خاوند کے قتل کے جھوٹے الزام میں جیل میں گزار دیے۔
تفصیلات کے مطابق رانی بی بی کو 2001 میں قتل کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا، گرفتاری کے وقت اس کی عمر 13 سال تھی، اس کے ساتھ ساتھ قتل کے الزام میں اس کے ماں باپ اور بھائی کو بھی جیل میں ڈال دیا گیا تھا۔
اس کا کہنا ہے کہ میں نے اپنے خاندان کے تمام افراد کو 19 سال پہلے اپنے والدین کے گھر اکٹھے دیکھا تھا۔
رانی بی بی کی ماں کی رہائی گرفتاری کے چھ ماہ بعد ہی ممکن ہو گئی تھی لیکن اس کا باپ اور بھائی قتل کے الزام کے میں جیل میں قید رہے۔
اس کے شوہر کی لاش گھر سے 40 کلومیٹر دور ملی تھی اور اس کے سر پر ضرب لگا کر قتل کیا گیا تھا۔
رانی بی بی نے ایک غیر ملکی ادارے ”تھامسن ریوٹر فاونڈیشن“ سے فون پر بات کرتے ہوئے بتایا کہ میں نے جیل میں قید کے دوران صفائی کی، قیدیوں کے لیے کھانے کی تیاری سمیت دیگرمشقت بھی کی۔
اس نے کہا کہ میرا باپ قید کے دوران اس دنیا سے رخصت ہو گیا جبکہ میرا بھائی بھی 15 سال کی قید گذارنے کے بعد ٹی بی کے مرض میں مبتلا ہو کر فوت ہو چکا ہے۔
رانی بی بی کے مطابق جیل سپرنٹنڈنٹ کی لاپرواہی کی وجہ سے مجھے سرکاری وکیل کی سہولت نہ مل سکی اور مجھے اتنے برس جیل رہنا پڑا، اس مقدمے کی وجہ سے میرے ماں باپ کی تمام جائیداد فروخت ہو گئی۔
اس نے بتایا کہ 2014 میں پاکستان میں ایک فلاحی تنظیم نے میری اپیل ہائیکورٹ میں کی، 2017 میں مجھے لاہور ہائیکورٹ نے رہا کر دیا۔
لاہور ہائیکورٹ کے جج نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ ہمیں افسوس ہے کہ جیل انتظامیہ کے غیر ذمہ داری کی وجہ سے بے گناہ قید کاٹنی پڑی اور آپ کو یہ عدالت معاوضہ دینے کے معاملے میں بے بس ہے۔
رانی بی بی کی رہائی کے لیے کام کرنے والی فلاحی تنظیم ”ایف ایف آر“ نے پنجاب حکومت کے خلاف ہرجانے کی پٹیشن دائر کر دی اور انصاف کی عدم فراہمی کے بدلے معاوضہ ادا کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
تنظیم نے یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ حکومت غلط سزاؤں کے خلاف کارروائی کے لیے قانون سازی کرے کیونکہ پاکستان میں رانی بی بی جیسے ہزاروں مقدمات موجود ہیں۔
2019 میں اس فلاحی تنظیم کی رپورٹ کے مطابق سپریم کورٹ نے 2010 سے لیکر 2018 کے دوران سزائے موت کے 310 کیسز کی سماعت کی اور ہر 5 میں سے 2 قیدیوں کو جھوٹے الزام کے تحت سزا ہونے کا انکشاف ہوا۔
رانی بی بی نے ہرجانے کے دعویٰ میں پنجاب حکومت سے کوئی خاص رقم کا مطالبہ نہیں کیا ہے بلکہ معاوضہ میں ایک بستر، ایک کمبل، کپڑے، واشنگ مشین اورایک چولہا کی مانگ کی ہے۔
اس کا کہنا ہے کہ اسے معلوم نہیں ہے کہ معاوضہ کی کتنی رقم ملتی ہے لیکن مجھے امید ہے کہ پنجاب حکومت ہرجانے کے طور پر اتنی رقم دے گی کہ یہ چیزیں میں اپنے گھر کے لیے خرید سکوں۔
رانی بی بی اپنی زندگی کو دوبارہ شروع کرنے کی کوشش میں مصروف ہے۔ 4 ماہ قبل اس نے دوسری شادی کر لی ہے، وہ اور اس خاوند لوگوں کے گھروں میں کام کر کے گزاراہ کر رہے ہیں۔
کورونا وبا کی وجہ سے کیے جانے والے لاک ڈاؤن کے باعث ان کا روزگار بھی بند ہے اور ان کے معاوضہ کا کیس بھی کرونا کی وجہ سے عدالت بند ہونے کی وجہ سے تاخیرکا شکار ہے۔
