ممتاز پاکستانی کارڈیالوجسٹ اور پاکستان کے ہر حکمران کے دوست ڈاکٹر مبشر چوہدری نے جھوٹی اور فراڈ بلنگ کرنے کے الزام میں جسٹس ڈیپارٹمنٹ سے ساڑھے سات لاکھ ڈالر کے عوض سیٹلمنٹ کرلی ہے۔
میری لینڈ میں مقیم ممتاز پاکستانی کارڈیالوجسٹ ڈاکٹر مبشر چوہدری، جو پاکستانی حکمرانوں سے دوستی کے لیے مشہور ہیں، نے یو ایس ڈیپارٹمنٹ آف جسٹس سے میڈیکلُ کمپنیوں سے جھوٹی بلنگ اور فراڈ کرنے کے الزام میں ساڑھے سات لاکھ ڈالر کے عوض سیٹلمنٹ کرلی ہے۔
ملزم پر الزام ہے اس نے دو ہزار تیرہ سے دو ہزار سولہ تک اپنے تین میڈیکل سینٹرز واشنگٹن کارڈ یو ویسکولر انسٹی ٹیوٹ ، ایڈوانس ویسکولر ریسورسز اور واشنگٹن ویسکولر انسٹی ٹیوٹ سے میڈ کئیر اور ٹرائ کئیر انشورنس کو ایسے مریضوں کے ٹیسٹ بل کئے جو غیر ضروری تھے۔
جسٹس ڈیپارٹمنٹ نے آج جاری کی گئی اپنی پریس ریلیز میں ڈاکٹر مبشر چوہدری پر الزام عائد کیا ہے وہ مریضوں کے امراض کی درست تشخیص کرنے کی بجائے اپنے مالی مفاد کو مد نظر رکھتا تھا ، یو ایس ڈیپارٹمنٹ آف جسٹس نے ملزم ڈاکٹر مبشر چوہدری کے میڈیکل سنٹر واشنگٹن کارڈ یو ویسجولر انسٹی ٹیوٹ ، ایڈوانس ویسکولر ریسورسز ، واشنگٹن ویسکولر انسٹی ٹیوٹ میں کی جانے والی بلنگ کو چیلنج کیا تھا۔
یو ایس ڈیپارٹمنٹ آف جسٹس نے اپنی پریس ریلیز میں کہا ہے ایسے ڈاکٹروں کی وجہ سے نہ صرف اچھے ڈاکٹروں کی ساکھ خراب ہوتی ہے بلکہ ہیلتھ کے شعبے کے اخراجات میں بھی بے تحاشا اور غیر ضروری اضافہ ہوتا ہے۔
ڈاکٹر مبشر چوہدری جنرل مشرف اور چوہدری شجاعت حسین سے دوستی کے باعث امریکن پاکستانی کمیونٹی میں مشہور ہوئے تھے، بعد ازاں سابق صدر آصف علی زرداری سے قربت کے حوالے سے شہرت حاصل کی۔
آجکل وہ عمران خان کے سیاسی نظریات کے حامی ہیں اور ان کے سرکاری دورہ امریکہ کے موقع پر وزیراعظم سے خصوصی ملاقات کرکے پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے میں بھی دلچسپی کا اظہار کیا تھا۔
ڈاکٹر مبشر چوہدری نے، جنکی اہلیہ سابق وزیر اعلی پرویز الہی کی پنجاب میں حکومت کی مشیر رہی ہیں، لاہور میں ایک جدید اسپتال بھی قائم کیا تھا جو بعد ازاں انہوں نے اپنے دوسرے پارٹنرز کے ہاتھوں فروخت کردیا تھا۔
