برطانیہ نے پاکستان کی قومی ائیر لائن کے عملے کو ویزا نہ ہونے کی وجہ سے ہزاروں پاؤنڈز جرمانہ کر دیا۔
برطانیہ کی بارڈر ایجنسی نے مانچسٹر ایئرپورٹ پر پاکستان کی قومی ائیر لائن کی فلائٹ پی کے 702 کے ساتھ آنے والے درجن بھر عملے کے ارکان کو درست ویزہ نہ ہونے کی وجہ سے روک لیا۔
روکے جانے والے ممبرز کو پی آئی اے کی انتظامیہ کی جانب سے کورونا وبا کیوجہ سے صورتحال بتا کر یقین دہانی کے بعد 72 گھنٹے کے لیے چھوڑ دیا گیا۔
پی آئی اے میں میرٹ پر ٹھیکے نہیں دیے جاتے، سپریم کورٹ
حکومت نے بیرون ملک پھنسے پاکستانیوں کو واپس لانے کا اعلان کر دیا
انگریزی اخبار کے ذرائع کے مطابق عملے کے تقریباً 15 افراد مانچسٹر ائیرپورٹ پر برطانوی نژاد پاکستانیوں کے ساتھ پہنچے۔ صرف پی آئی اے کے کپتان اور ایک افسر کا ویزا درست تھا جبکہ باقی عملے کے پاس ویزا نہیں تھا۔
برطانیہ کی بارڈر ایجنسی نے قومی ائیر لائن کے عملے کو بتایا کہ قوانین کی خلاف ورزی کی وجہ سے ان پر 30 ہزار پاؤنڈز کا جرمانہ عائد کیا جائےگا۔
اسی طرح کی صورتحال 5 اپریل کو بھی پیش آئی تھی جس میں پی آئی اے کا مسافر طیارہ برطانوی مسافروں کو لیکر گیا تھا جس میں عملے کے پاس داخلے کے کاغذات مکمل نہیں تھے۔
ذرائع کے مطابق یہ معاملہ سامنے آنے کے بعد پی آئی اے کے اسٹاف کو 20 ہزار پاؤنڈز جرمانہ کیا گیا۔
پی آئی اے کے ترجمان نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ فلائٹ کا عملہ معمول کے مطابق برطانیہ میں ہی 48 گھنٹے تک یا اس سے بھی کم ٹھہرتا ہے اور انہیں اس کی اجازت جنرل ڈیکریشنز کے تحت دی جاتی ہے۔
ترجمان کے مطابق جنرل ڈیکلریشنز ہر ملک کی تمام ائیرلائنز کے لیے ہوتی ہیں مگر پی کے 702 ایک فیری فلائٹ ہے جو مانچسٹر میں 48 گھنٹوں سے زیادہ ٹھہرے گی اسی لیے برطانیہ کی بارڈر ایجنسی نے قومی ائیرلائن کے عملے کو روکے رکھا۔
جرمانہ کے حوالے سے ترجمان نے بتایا کہ اس فیصلے کو چیلنج کیا جائے گا جو کہ ایک معمول کی بات ہے اور اس طرح کے جرمانوں کو سسٹم کے اندر چیلنج کر کے حل کیا جاتا ہے۔
