صدر مملکت عارف علوی کا علما کرام کے ساتھ مشاورتی اجلاس میں 20 نکات پر اتفاق ہوگیا، مساجد اور امام بارگاہوں میں باجماعت نماز، جمعہ اور تراویح کی مشروط اجازت دے دی گئی۔
علماء مشائخ کے ساتھ اجلاس کے بعد صدر مملکت عارف علوی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا مساجد اور امام بارگاہوں میں دریاں یا قالین نہیں بچھائے جائیں گے، صاف فرش پر نماز پڑھی جائے گی۔
سعودی حکومت کا کورونا وبا کے خاتمے تک مساجد میں تراویح پر پابندی کا اعلان
آزاد کشمیر کی حکومت کا مسجدوں میں نماز کی ادائیگی سے پابندی ہٹانے کا اعلان
انہوں نے مزید شرائط بتائیں جن کے تحت سڑکوں، فٹ پاتھوں پر نماز تراویح پڑھنے سے اجتناب کیا جائے گا، مساجد کے احاطے میں نماز تراویح کا اہتمام ہو گا، نماز سے پہلے اور بعد میں مجمع لگانے سے گریز کیا جائے گا، صف بندی کے دوران نمازیوں میں 6 فٹ کا فاصلہ رکھا جائے گا۔
صدر عارف علوی کا کہنا تھا مسجد میں نماز کیلئے کھڑے ہونے کیلئے نشان لگا لیا جائے، کوئی بھی نمازی مسجد میں کسی سے بغل گیر نہیں ہوگا، وضو گھر سے ہی کر کے مسجد میں جایا جائے، مسجد کے فرش کو صاف کرنے کیلئے کلورین کے محلول سے دھویا جائے، مسجد میں چٹائی پر بھی کلورین کے محلول کا چھڑکاؤ کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ صف میں 2 نمازیوں کی جگہ خالی چھوڑی جائے، مسجد میں 50 سال سے زائد عمر کے افراد، نابالغ بچے اور بیمار افراد کے آنے پر پابندی ہوگی، خلاف ورزی اور وبا کے پھیلاؤ کی صورت میں حکومت کو مداخلت کی اجازت ہوگی۔
صدر مملکت نے امید ظاہر کی کہ مساجد میں احتیاطی تدابیر اختیار کی جائیں گی، مساجد، مدارس کو امداد اور زکوٰة دینے کا سلسلہ جاری رکھیں، کورونا سے بچاؤ کیلئے احتیاطی تدابیر اختیار کرنی ہوں گی۔
صدرمملکت کا کہنا تھا کہ اس سال رمضان میں ایک پالیسی بنائی جانی ضروری ہے، عبادات کے ساتھ حفظان صحت کے اصولوں کا خیال رکھا جائے، موجودہ صورتحال میں قوم میں اتفاق رائے انتہائی ضروری ہے۔
