عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان بڑے نقصان سے بچ گیا ہے، 25 اپریل تک کورونا کے 50 ہزار مریضوں کا تخمینہ لگایا گیا تھا لیکن اب اس تاریخ تک 12 ہزار سے لے کر15 ہزار تک کورونا کے مریض سامنے آ سکتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت تک جتنے مریض سامنے آئے ہیں اور 25 اپریل تک جتنے مریضوں کا اندازہ لگایا جا رہا ہے، ان سب کے علاج کے لیے سہولتیں مکمل طور پر موجود ہیں۔
تاہم انہوں نے اپنے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ 15 سے 25 مئی تک مزید مشکل آ سکتی ہے، اس دوران اسپتالوں پر بھی دباؤ بڑھے گا۔
وزیر اعظم عمران خان عبدالستار ایدھی کے بیٹے کو نہ پہچان سکے
آئی ایم ایف نے پاکستان کے لیے بڑے ریلیف پیکج کا اعلان کر دیا
وزیراعظم نے کہا کہ مئی تک کورونا سے لڑنے کے لیے مزید اقدامات کر لیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ کراچی میں کورونا سے مرنے والوں کی لاشوں کا ذکر کر کے اپنے ملک میں افراتفری پھیلائی جا رہی ہے، بغیر تصدیق کے ایسے کوئی بات نہیں کرنی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ یہ کہا جا رہا ہے کہ حکومت چھپا رہی ہے، کون سی بیوقوف حکومت ہو گی جو کورونا کے کیسز کو چھپائے گی، نیشنل کمانڈ اور کورآرڈینشن سنٹر موجود ہے وہاں سے ہر طرح کی معلومات حاصل کی جا سکتی ہیں۔
وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ 13 مارچ تک 8 لاکھ لوگوں کی ائیر پورٹ پر اسکریننگ کی گئی۔ چین سے پاکستانی طلبہ کو واپس لانے کے لیے دباؤ تھا، ہم نے بروقت فیصلہ کیا جس کی وجہ سے چین سے ایک بھی کورونا کا کیس نہیں آیاہے۔
لاک ڈاؤن کے حوالے سے وزیر اعظم عمران خان نے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے آہستہ آہستہ لاک ڈاؤن کو ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے اس سلسلے میں کنسٹرکشن سیکٹر کو پہلے مرحلے میں کام کی اجازت دی گئی ہے۔ ذخیرہ اندوزی اور اسمگلنگ کے حوالے سے عمران خان نے کہا کہ آرڈیننس کے ذریعے اسمگلرز کے خلاف بھی سخت کاروائی ہو گی اور ذخیرہ اندوزی کرنے والوں سے سختی سے نمٹا جائے گا۔
وزیر اعظم عمران خان نے ایک بار پھر سے پولیس کو لاک ڈاؤن کے دوران ڈنڈے مارنے سے منع کر دیا اور کہا کہ عوام کو پیار سے سمجھائیں کہ لاک ڈاؤن کیوں کیا گیا ہے؟
عمران خان نے کہا کہ کورونا کی صورتحال بد ترین ہو سکتی ہے اور ہو بھی سکتی تھی۔انہوں نے مزید کہا کہ کورونا کی وجہ سے ملک بھر میں ہر کسی کی توجہ کورونا پر آ گئی تھی۔ دنیا میں صرف 2ممالک میں پولیو باقی ہے۔ پاکستان میں کورونا کی وجہ سے پولیو کی کمپین کو جاری نہیں رکھا جا سکا۔ عمران خان نے مزید کہا کہ خدا نخواستہ اگر پاکستان میں پولیو پھیلتا ہے تو اس کے بد ترین اثرات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
عمران خان نے کہا کہ بیرون ملک پاکستانی یہ بات ذہن سے نکال دیں کہ مشکل کی گھڑی میں ان کو ہم بھول گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہاں بے حسی نہیں تھی لیکن حقیقت میں ہماری تیاری نہیں تھی لیکن اب ہم تیاری کر چکے ہیں۔
عمران خان نے بتایا کہ کورونا کے خلاف جنگ کیسے جیتیں گے؟6-8ماہ میں جب بھی کورونا کا خاتمہ ہو گا اس بارے کچھ نہیں کہا جا سکتا ہے۔ عمران خان نے کہا کہ کورونا کے خاتمہ پر غربت چھا گئی تو اس مطلب ہم جنگ ہار گئے اور اگر غربت میں اضافہ نہ ہوا تو اس مطلب یہ ہو گا کہ ہم جنگ جیت گئے ہیں۔
عمران خان نے کہا کہ ابھی مشکل وقت نے آنا ہے۔ اب مدد صاحب حیثیت لوگوں سے لی جائے گی۔ ہمارا چیلنج یہ ہے کہ ہم نے غربت کو بڑھنے سے روکنا ہے۔مشکل کی اس گھڑی میں ہم ایک قوم بن کر سر خرو ہوں گے۔
معاون خصوصی قومی سلامتی معید یوسف نے کہا کہ دنیا کے کچھ حصوں تک ہم نہیں پہنچ سکے۔ اس ہفتے آسٹریلیا اور ملائیشیا سے بھی پاکستانیوں کو واپس لائیں گے اس کے ساتھ کچھ کمرشل فلائٹس کو بھی اجازت دیں گے جو پاکستانیوں کو واپس پاکستان لانے میں مدد فراہم کرے گی۔
طور خم سے آج 500پاکستانی واپس آئے ہیں چمن سے اگلے ہفتے پاکستانی واپس آئیں گے مگر سب کو قرنطینہ سنٹر میں قیام کرنا پڑے گا۔
وزیر اعظم کے فوکل پرسن ڈاکٹر فیصل نے کہا کہ ہم اتنی مشکل میں نہیں ہیں جتنے ہو سکتے تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ 25مئی تک کیسز بڑھ سکتے ہیں۔ہاتھوں کی صفائی، سماجی فاصلہ اس کو برقرار رکھیں۔
