برطانیہ میں ایک اوبر ڈرائیور نے کورونا کا شکار ہونے کے باوجود اس ڈر سے بیماری چھپائے رکھی کہ کہیں مالک مکان اسے گھر سے نکال نہ دے، حالت زیادہ بگڑنے پر وہ اسپتال پہنچا تو دیر ہو چکی تھی اور وہ اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔
تفصیلات کے مطابق دو بچوں کا باپ راجیش جیاسیلان دس برس قبل بھارت سے برطانیہ آیا تھا، اس کے دوست کے مطابق کورونا وائرس کا شکار ہونے کے بعد راجیش نے اس ڈر سے کمرہ نہیں چھوڑا کہ گھر کے دیگر مکین یہ جان لیں گے کہ اسے کورونا وائرس ہے اور اسے بے گھر ہونا پڑے گا۔
ان خدشات کے باعث راجیش بیماری کے دوران اپنے کرائے کے کمرہ میں فاقوں پر مجبور رہا اور ان حالات میں کئی دن گھر پر گزار دیے جس سے اسکی طبیعت زیادہ بگڑ گئی۔
محل نما گھروں کے مالک مشہور افراد کی ناشکری پر برطانوی اداکار نے کھری کھری سنا دیں
20 پاؤنڈ کے نئے نوٹ کا کورونا وائرس سے کیا تعلق ہے؟
جب طبیعت شدید بگڑ جانے پر اسپتال جانے کی ہمت کی تو ایمبولنس اس لیے نہیں بلائی کیونکہ اس سے سب کو پتہ چل جاتا کہ وہ بیمار ہے، وہ خود گاڑی چلا کر اسپتال پہنچا، اسے وینٹی لیٹر پر رکھا گیا مگر اس کی جان نہ بچائی جا سکی۔
کمرے میں قید بیمار راجیش نے فون پر اپنی بیوی کو بتایا تھا کہ وہ چاہتا ہے کہ کوئی اسے کھانا دے اور اس کا خیال رکھے، اس کے ایک دوست کے مطابق بیمار راجیش کمرہ میں کئی دن بھوکا رہا۔
دی گارڈین کی جانب سے اس کے دوست کے حوالہ سے بتایا گیا ہے کہ 44 سالہ راجیش کرائے کا کمرہ کھو جانے کے ڈر میں اس لیے مبتلا تھا کیونکہ مارچ میں اسے ایک مالک مکان نے گاڑی چلانے کے باعث کمرہ خالی کرنے کا حکم دیا تھا۔
ان کے دوست کے مطابق مالک مکان نے یہ کہا تھا کہ چونکہ وہ گاڑی چلاتا ہے لہذا وہ کورونا وائرس اسے اور اسکے گھر والوں کو لگا سکتا ہے۔
بے گھر ہونے کے بعد راجیش جیاسیلان کو کرائے کا کمرہ خالی کرکے کئی راتیں اپنی گاڑی میں ہی گزارنی پڑی تھیں، اس بار وہ ڈر کے مارے کمرہ سے نکلا ہی نہیں۔
کورونا سے ہلاک ہونیوالے ڈرائیور کے دوست کا مزید کہنا تھا کہ راجیش کا تعلق بنگلور کے غریب خاندان سے تھا اور وہ اپنی فیملی کو لندن لانے کا خواہاں تھا مگر ابھی اسکے معاشی حالات اسکی اجازت نہیں دے رہے تھے، وہ اپنے والدین کا اکلوتا بیٹا تھا۔
دی گارڈین کے مطابق برطانیہ میں کورونا وائرس کے ہاتھوں کئی اوبر ڈرائیورز کی ہلاکتیں ہوچکی ہیں، یونائٹڈ پرائیویٹ ہائر ڈرائیورز کے جنرل سیکرٹری یاسین اسلم کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس سے 6 سے زائد اوبر ڈرائیورز ہلاک ہوچکے ہیں اوربیماری میں مبتلاء کی تعداد کہیں زیادہ ہے، ان کے مطابق کورونا کے شکار کئی ڈرائیورز کی حالت تشویشناک ہے۔
یاسین اسلم کا مزید کہنا ہے کہ مہاجر ورکرز کو کورونا وائرس کے لگنے کے زیادہ خطرات ہیں کیونکہ وہ خود کو کام کرنے پر مجبور پاتے ہیں۔ ان کے مطابق مہاجر ورکرز سرکاری فوائد حاصل کرنے کے مجاز نہیں ہوتے۔
