کورونا وائرس سے بچاؤ کیلیے اہم ترین چیز فیس ماسک ہیں۔ اس وبا کا پھیلاؤ روکنے کیلیے دنیا بھر میں حکام کی جانب سے ماسک کے استعمال پر زور دیا جارہا ہے۔
کورونا کے تیزی سے پھیلنے کے باعث N95اور میڈیکل ماسک کی طلب بہت زیادہ بڑھ چکی ہے اس لیے ماہرین یہ کہہ رہے ہیں کہ یہ ماسک ہیلتھ کیئر ورکرز کیلیے مہیا ہونے چاہئیں کیونکہ ان کا کورونا سے متاثرہ مریضوں سے باقاعدگی سے اور بہت زیادہ سامنا رہتا ہے۔
یاد رکھیں ماسک اس وقت مؤثر ہوتے ہیں جب انہیں مناسب انداز میں پہنا جائے، جتنا وقت آپ باہر رہیں انہیں پہنیں رکھیں اور انہیں اوپر نیچے ہلانے سے گریز کریں۔
آئیے آپ کو ماسک کی چند اقسام کے متعلق بتاتے ہیں کہ یہ ماسک کیسے بنتے ہیں اور کورونا وائرس وبا کے دوران آپ کے تحفظ کیلیے کتنے مؤثر ثابت ہوسکتے ہیں۔
N95 ماسک

کورونا وائرس کے خلاف جنگ میں N95کو سب سے مؤثر ماسک سمجھا جاتا ہے۔ اس کے نام کا مطلب ہے کہ یہ ماسک کم از کم 95 فیصد ننھے ذرات کو آپ کے جسم میں داخل ہونے سے روکنے کی صلاحیت کا حامل ہے۔
اس ماسک کو پولیسٹراور دیگر سنتھیٹک فائبر سے بنایا جاتا ہے، ماہرین کے مطابق اس کے استعمال کے دوران یہ بات یقینی بنائی جائے کہ ماسک کے سروں اور چہرے کی جلد کے مابین خالی جگہ نہ رہے۔
چند N95 میں سانس لینے کے عمل کو آسان بنانے کے لیے ایسے ماسک کے اگلی جانب والوز بھی رکھے جاتے ہیں۔ ایسے ماسک کو اکثروبیشتر تعمیراتی کام کے دوران استعمال کیا جاتا ہے۔
طبی ماہرین کے مطابق والوز والے ماسک کا استعمال اسپتال کے آپریٹنگ رومز میں نہیں کیا جانا چاہئے۔
میڈیکل ماسک

میڈیکل ماسک مختلف اقسام کے ہوتے ہیں اور N95ماسک کی نسبت کم مؤثر ہیں۔ ان میں 60 سے 80 فیصد کے دوران ذرات فلٹر کرنے کی صلاحیت ہوتی ہے۔
طبی ماہرین کے مطابق میڈیکل فیس ماسک کو مناسب انداز میں پہنا جائے تو یہ کھانسی اور چھینک کے دوران ذرات کو روک کر کورونا وائرس پھیلاؤ میں کمی کی وجہ بن سکتے ہیں۔
میڈیکل ماسک کو اکثر کاغذ نما مصنوعی کپڑے کی تہوں سے بنایا جاتا ہے جسے چہرے پر پھیلایا جاسکتا ہے اور ان میں سانس کا عمل آسانی سے جاری رہتا ہے۔
ایسے ماسک کی شکل مستطیل نما ہوتی ہے، انہیں صرف ایک بار استعمال کیا جا سکتا ہے۔
گھر پر تیار کردہ ماسک

میڈیکل ماسک کی کمی کے باعث بہت سے لوگ ماسک گھروں پر بنا رہے ہیں یا گھر پر بنائے ماسک خرید کر استعمال کر رہے ہیں۔ ایسے ماسک سے فراہم کردہ تحفظ کا دارومدار اس میں استعمال شدہ کپڑے اور اسکے بنانے کے طریقے پر ہوتا ہے، لیکن ایک بات یاد رکھیں کورونا وبا کے دوران چہرے کو ڈھانپنا نہ ڈھانپنے سے بہتر ہے۔
گھر پر تیار کردہ اچھے ماسک کے لیے ضروری ہے کہ اس میں استعمال ہونے والے مواد وائرل ذرات پکڑنے کی خوبی بھی ہو اور اس میں آپ آسانی سے سانس بھی لے سکیں۔
زیادہ کاٹن والی ٹی شرٹ سے بھی ایسے ماسک بنائے جا سکتے ہیں اور ایسے مواد سے بھی بن سکتے ہیں جس میں دھاگوں کی تعداد زیادہ ہو۔
ایسے ماسک زیادہ بہتر تحفظ دے سکتے ہیں، کاٹن سے ماسک بنانے کے کئی طریقے انٹرنیٹ پر دستیا ب ہیں۔
گھر پر تیار کردہ فلٹر والے ماسک

یہ بھی گھر پر تیار کردہ ماسک ہے جسے 100 فیصد کاٹن ٹی شرٹس سے بنایا جاتا ہے، ان میں اضافی فلٹر کے لیے ایک جیب بنا دی جاتی ہے۔ ایسے ماسک میں کافی کا فلٹر بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔
یہ ماسک بھی مؤثر ثابت ہوسکتے ہیں مگر ان میں خطرات بھی ہیں۔ ایسے بہت سے ماسک میں میں سانس لینے میں مشکلات کا سامنا ہوسکتا ہے اور فائبرز میں نقصان دہ ذرات ہوسکتے ہیں جنہیں ہم سانس کے ذریعہ جسم میں داخل کر سکتے ہیں۔
