برطانوی سائنسدانوں کی ٹیم نے عندیہ دیا ہے کہ کورونا وائرس کی ویکسین کی انسانوں پر آزمائش کے ساتھ ساتھ اس کی لاکھوں خوراکیں بھی تیار کی جا رہی ہیں جو رواں سال کرسمس پر دستیاب ہو سکتی ہیں۔
آکسفورڈ یونیورسٹی میں جینیر انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر پروفیسر ایڈرین ہل کی سربراہی میں کام کرنے والی ٹیم کی تجرباتی ویکسین کورونا کی ان 70 ممکنہ ویکسین میں سے ایک ہے جو دنیا بھر میں بایوٹیک اور ریسرچ ٹیموں کے زیرقیادت تیار کی جا رہی ہیں۔
آکسفورڈ کے سائنس دانوں نے بتایا ہے کہ وہ ابتدائی مرحلہ فیز 1 میں انسانی آزمائش کے لیے رضاکاروں کی بھرتی کررہے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ بڑے پیمانے پر اس کی پیداوار بھی شروع کر دی گئی ہے۔
چین میں دو قسم کی کورونا ویکسین کی انسانوں پر آزمائش کی منظوری
سائنسدانوں کو سو سال پرانی ویکسین میں کورونا کے علاج کی امید
رائٹرز کے مطابق اگر آزمائش کے دوران یہ بات سامنے آئے کہ ویکسین کا تجربہ ناکام ہوا ہے تو ان تمام خوراکوں کو ضائع کرنا پڑے گا۔
پروفیسر ہل نے صحافیوں کو ایک بریفنگ کے دوران بتایا کہ ان کی ٹیم نے ویکسین کی تیاری چھوٹے پیمانے پر نہیں بلکہ مینوفیکچررز کے نیٹ ورک کے ساتھ ملک کر دنیا بھر میں سات جگہوں پر تیار کرنے کا آغاز کیا ہے۔
انہوں نے تقریباً دس لاکھ خوراکیں ستمبر تک تیار کرنے کا ارادہ ہے جبکہ اسکے نتائج کے مثبت ہونے کی بھی امید ہے۔
انہوں نے کہا کہ تین مینوفیکچرنگ پارٹنر برطانیہ میں ہیں جبکہ 2 یورپ، ایک ہندوستان اور ایک چین میں ہے۔
سائنس دانوں نے بتایا کہ ابتدائی مینوفیکچرنگ کی لاگت دسیوں لاکھ پاؤنڈ میں ہوگی اور سرمایہ کاروں نے تصدیق سے پہلے پیداوار کے ساتھ آگے بڑھنے کے خطرے کو تسلیم کیا۔
کورونا ویکسین کے رواں سال کے دسمبر تک دستیاب ہونے کے امکانات
دوسری جانب ایڈرین ہل نے ایک انٹرویو میں عندیہ دیا ہے کہ ملک میں انسداد کورونا کی ویکسین کرسمس تک دستیاب ہونے کے امکانات کو رد نہیں کیا جا سکتا۔
برطانیہ کے چینل آئی ٹی وی کو انٹرویو میں کہا ہے کہ دنیا بھر میں لاتعداد ٹیمیں 24 گھنٹے کووڈ19 کی ویکسین بنانے کے لیے تحقیقات میں مگن ہیں۔
آئی ٹی وی نیوز کے ایڈیٹر کے مطابق ایسے وقت میں جب لاک ڈاؤن کے دوران ویکسین کے لیے انتہائی بیتابی سے انتظار کیا جا رہا ہے پروفیسر ہل کا عندیہ عوام کے لیے ایک امید ہے۔
پروفیسر ہل خود بھی ویکسین کے لیے تحقیقات میں کردار ادا کر رہے ہیں۔
پروفیسر ہل اور جینیر انسٹی ٹیوٹ میں انکی ٹیم کا ارادہ ہے کہ انسداد کورونا کی ویکسین کی تیاری اور کلینکل ٹرائلز اپریل کے آخر تک ہوں۔
آئی ٹی وی نیوز میں جب ان سے سوال کیا گیا کہ کیا کرسمس تک عوام ویکسین کے حصول کی امید کرسکتے ہیں تو انہوں نے کہا کہ دسمبر تک ویکسین کی دستیابی ممکن ہو سکتی ہے مگر اس بات کی گارنٹی نہیں دی جا سکتی کیونکہ یہ بہت چیلنجنگ ٹائم لائن ہے۔
سائنسدان نے کہا کہ ویکسین کو بڑے پیمانے پر نہیں بلکہ عالمی سطح پر تیار کرنا ہے ہم لاکھوں ویکسین بنانے کی بات نہیں کررہے بلکہ اسے اربوں کی تعداد میں تیار کرنے کی بات کر رہے ہیں لہذا نہیں معلوم کہ یہ کام ہو بھی سکتا ہے یا نہیں۔
پروفیسر ہل کا کہنا تھا کہ ویکسین کی تیاری کی رفتار سے عوام کو کوئی خطرہ لاحق نہیں جبکہ تیزی سے ردوبدل ممکن ہے کیونکہ کافی سائنسدانوں نے کووڈ19 ویکسین کی تیاری کو ترجیح دی جس کو عملی جامہ پہنانے میں مہینوں لگ سکتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ تمام چیلنجز میں سب سے بڑا چیلنج کورونا کیسز میں کمی آنے سے پہلے ویکسین کو کلینکل ٹرائل تک پہنچانا ہے جسکا مطلب یہ ہے کہ کورونا کیسز اتنے کم نہ ہوجائیں کہ ویکسین کی ٹیسٹنگ ہی نہ کی جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ انسانی صحت کے پہلو سے دیکھا جائے تو لاک ڈاؤن نیشنل ہیلتھ سروسز کا بوجھ کم کرنے کے لیے بہت ضروری بھی ہے۔
انٹرویو میں ان کا مزید کہنا تھا کہ تمام ریگولیٹری اتھارٹیز، ایجنسیاں، جائزہ لینے والے ادارے، فنڈرز ، تمام لوگوں کو جنھیں عام طور پر ویکسین کی تیاری میں ہماری مدد کرنے کی ضرورت ہے دیگر سرگرمیوں کو کم کررہے ہیں اور کورونا وبا کو مکمل ترجیح دے رہے ہیں۔
پروفیسر ایڈریل ہل کا کہنا تھا کہ ایسے عوامل جن سے تاخیر ہو سکتی ہے کو نکال دیا جائے تو پانچ سال کی بجائے ایک سال سے بھی کم عرصے میں ویکسین تیار ہو جائے گی۔
